ندیم الواجدی

ایک ہندوستانی عالم، مضمون نگار و مصنف

واصف حسین ندیم الواجدی (پیدائش: 23 جولائی 1954ء) ایک ہندوستانی دیوبندی کالم نگار، مضمون نگار، نقاد، سوانح نگار، مصنف، مترجم، اردو و عربی زبان کے ادیب اور مایۂ ناز عالمِ دین ہیں۔

مولانا

ندیم الواجدی
ذاتی
پیدائش
واصف حسین

23 جولائی 1954ء (عمر 68 سال)
مذہباسلام
قومیتبھارت
آبائی شہربجنور
اولادیاسر ندیم الواجدی
والدین
  • واجد حسین (والد)
فرقہسنی
فقہی مسلکحنفی
تحریکدیوبندی
بنیادی دلچسپیاردو ادب، عربی ادب
قابل ذکر کاماحیاء العلوم مترجم اردو
اساتذہواجد حسین دیوبندی (والد)
احمد حسن دیوبندی (دادا)
مسیح اللہ خان جلال آبادی
شریف حسن دیوبندی (ماموں)
وحید الزماں کیرانوی
قلمی نامندیم الواجدی
پیشہکالم نگاری، تصنیف، شاعری، تجارت کتب

ابتدائی و تعلیمی زندگیترميم

ولادتترميم

ان کی ولادت 23 جولائی 1954ء کو دیوبند، ضلع سہارنپور، بھارت میں ہوئی۔[1][2] پیدائشی نام واصف حسین ہے، جو حسین احمد مدنی کا تجویز کیا ہوا ہے۔[3]

خاندانترميم

ان کا خانوادہ بھی علمی تھا، ان کا خاندان تقریباً ڈیڑھ صدی قبل بجنور سے دیوبند میں آکر آباد ہوا۔ ان کے دادا احمد حسن دیوبندی؛ جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد کے شیخ الحدیث تھے، ان کے والد واجد حسین دیوبندی؛ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین، ڈابھیل کے شیخ الحدیث تھے۔[4][1] ان کے ماموں شریف حسن دیوبندی دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے۔[5]

تعلیمترميم

ان کی ابتدائی تعلیم ناظرہ و دینیات تک دیوبند میں ہوئی، پھر انھوں نے حفظِ قرآن مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد، ضلع مظفر نگر (موجودہ ضلع شاملی) میں کیا اور وہیں اپنے والد اور دادا کے پاس ہی اردو، فارسی اور عربی سوم تک کی مروجہ کتابیں پڑھیں، وہیں مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد میں انھوں نے مسیح اللہ خان شیروانی جلال آبادی سے بھی استفادہ کیا۔[1][6][3]

دار العلوم دیوبند میں داخلہ، فراغت اور عربی ادب کی تعلیمترميم

اس کے بعد 1967ء میں ان کا داخلہ دار العلوم دیوبند میں ہوا اور وہاں پر انھوں نے درجاتِ وسطیٰ یعنی شرح جامی سے تعلیم کا آغاز کیا اور 1393ھ بہ مطابق 1974ء میں پہلی پوزیشن کے ساتھ دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے، انھوں نے صحیح بخاری شریف حسن دیوبندی سے پڑھی اور فراغت کے بعد وہیں پر مزید دو سال عربی زبان و ادب کی تعلیم کے لیے تکمیلِ ادب عربی و تخصص فی الادب العربی کے شعبہ جات میں رہ کر وحید الزماں کیرانوی سے اکتساب فیض کیا۔[1][7][3]

النادی الادبی کے معتمدترميم

تکمیل ادب کے شعبہ میں وحید الزماں کیرانوی کو بہت جلد ان پر اعتماد ہوا اور دو ہی مہینہ بعد انھیں طلبۂ دار العلوم دیوبند کی محبوب نمائندہ عربی انجمن النادی الادبی کا معتمد بنا دیا۔ ندیم الواجدی نے اپنے زمانہ میں اس انجمن سے الشعور کے نام سے جداریہ (دیواری رسالہ) بھی شائع کیا، جو دار العلوم کے علمی فضا میں انقلابی حیثیت کا حامل تھا۔[1][2]

تدریس و خدماتترميم

تدریسترميم

فراغت کے بعد انھوں نے اپنے خاص اساتذہ؛ شریف حسن دیوبندی، نصیر احمد خان بلند شہری اور نعیم دیوبندی کے حکم سے ایک سال کے لیے حیدرآباد، دکن کے ایک مدرسۂ عربیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔[3][1] پھر 1978ء میں مجلس شوریٰ دار العلوم دیوبند نے اجلاسِ صد سالہ کے شعبۂ تصنیف و تالیف کے نگراں کے طور پر انھیں دار العلوم مدعو کیا، جس کی بنا پر انھوں نے دار العلوم تشریف لا کر (دو سال تک) یہ ذمہ داری نبھائی اور اپنی نگرانی میں انھوں نے عربی و اردو کی متعدد کتابیں اور رسالے تیار کیے۔ 1980ء ہی میں[3] انھوں نے دیوبند میں عربک ٹیچنگ سینٹر کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جہاں سے سالوں تک ہزاروں طلبہ مستفید ہوتے رہے اور اس ادارے کے تحت سات ایسی کتابیں منظر عام پر آئیں، جو متعدد مدارس میں داخلِ نصاب ہیں۔[1][2]

دار الکتاب دیوبندترميم

1980ء میں انھوں نے اجلاسِ صد سالہ، دار العلوم کے بعد دیوبند ہی میں دار الکتاب کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا[3][8] اور 1980ء سے 1987ء کے درمیان میں سات سال کے عرصہ میں انھوں نے امام ابوحامد محمد الغزالی کی شہرۂ آفاق کتاب احیاء علوم الدین کا قسط وار اردو ترجمہ شائع کیا، جو بے حد مقبول ہوا اور چار جلدوں میں شائع ہوکر منظر عام پر بھی آیا اور پاکستان میں لاہور و کراچی اور بنگلہ دیش میں ڈھاکہ سے بھی شائع ہوا (کراچی سے مَذاقُ العارفین کے نام سے شائع ہوا)۔[3] اس اشاعتی ادارے سے انھوں نے درسی و غیر درسی، ملکی اور غیر ملکی جیسے بیروت، لبنان، شام اور مصر وغیرہ کی بے شمار کتابیں بھی شائع کی ہیں اور اب یہ کتب خانہ برصغیر کا اک معروف و مشہور کتب خانہ ہے۔[8][9]

معہد عائشہ الصدیقہ للبنات کا قیامترميم

اکیسویں صدی کی ابتدا یعنی 2001ء میں انھوں نے آزادی نسواں کے نام پر مسلم معاشرہ؛ خصوصاً خواتین کے اندر کی بگاڑ کی اصلاحی کوشش میں اپنے دادا سسر؛ نعیم احمد دیوبندی، سابق شیخ الحدیث دار العلوم وقف دیوبند کی سرپرستی میں سرزمینِ دیوبند میں معہد عائشہ الصدیقہ للبنات کے نام سے دیوبند میں پہلا رہائشی مدرسۂ بنات قائم کیا اور داخلی امور کی ذمہ داری؛ اپنی عالمہ زوجہ بنت قاری عبد اللّٰہ سلیم قاسمی، سابق شیخ القراء دار العلوم دیوبند و بانی معہد تعلیم الاسلام شکاگو، امریکا کو سونپ دی اور خارجی امور کی ذمہ داری اپنے ذمے رکھی۔ اس ادارے سے پانچ سالہ عالمیت کے نصاب کے ذریعے؛ ہزاروں طالبات؛ فیضانِ نبوت حاصل کرکے اپنے علاقوں میں دینی خدمات میں مشغول ہیں۔[10]

مناصب/ذمے داریاںترميم

  • آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اترپردیش سے رکن میقاتی و رکن عمومی[11]
  • ناظم معہد عائشہ صدیقہ للبنات، دیوبند
  • ایڈیٹر ماہنامہ ترجمان دیوبند
  • ڈائریکٹر احمد ندیم الواجدی ایجوکیشنل ٹرسٹ، دیوبند
  • چیئرمین دار العلوم آن لائن، شکاگو
  • مالک دار الکتاب دیوبند (ملک کا معروف کتب خانہ)

قلمی خدماتترميم

مضمون نگاریترميم

انھوں نے اپنے زمانۂ طالب علمی ہی میں 1970ء سے لکھنا شروع کر دیا تھا[ا]، پندرہ روزہ مرکز کے ذریعہ ان کی تحریر میں مہمیز لگی، زمانۂ طالب علمی ہی میں وہ دیواری مجلہ شعور کے ایڈیٹر تھے۔ اس وقت سے 2013ء تک ملک و بیرون ملک کے معیاری اخبارات و رسائل میں ان کے تقریباً 400 مضامین شائع ہو چکے تھے، 2013ء تک ان کے مقالات و مضامین کے تیرہ مجموعے شائع ہوچکے تھے۔ ان کے مضامین اکثر ماہنامہ دار العلوم دیوبند، نیا دور لکھنؤ، آج کل، راشٹریہ سہارا، روزنامہ صحافت اور سہ روزہ دعوت وغیرہ میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔[6][5] ان کا شمار؛ عربی زبان کے موجودہ ہندوستانی ادبا میں ہوتا ہے۔[12] وہ ایک نامور محقق صاحب قلم و صاحب اسلوب شخصیت کے مالک ہیں۔[13] نسیم اختر شاہ قیصر رقم طراز ہیں:[5][14]

” مبالغہ نہ سمجھیے! اقلیمِ تحریر کے وہ فرماں روا ہیں، جن کی موجودگی میں دوسروں کی جانب نگاہ نہیں اٹھتی۔ لکھنے والے لکھ رہے ہیں اور لکھتے رہیں گے؛ مگر اس قافلے میں جو شریک ہیں وہ سب ان کے پیچھے ہیں۔“

”مولانا کے بارے میں میرا تاثر یہ ہے کہ ان کی تحریریں اپنی جاذبیت، اپنے اسلوب، اپنے مواد، اپنے طرزِ نگارش کے اعتبار سے ہم سب کی تحریروں پر بھاری ہیں، پھر ان کا قلم جس برق رفتاری اور تیزی کے ساتھ اپنے موضوع کا احاطہ کرتا ہے اور عنوانات کو نئی آب دیتا ہے، وہ دوسروں کے بس کا روگ نہیں۔“

ماہنامہ ترجمان دیوبندترميم

2001ء میں انھوں نے اپنے ہی کتب خانہ سے ترجمانِ دیوبند کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا، جو تاحال (2022ء میں بھی) جاری ہے اور ملک و بیرون ملک تک اہل علم میں مقبول و معروف ہے اور ملک و بیرون ملک کے باوقار اہل قلم کی تحریروں کے ساتھ اس میں مسلسل بیس سال سے ان کے قیمتی مضامین شائع ہو رہے ہیں۔[1][15][6]

تصانیفترميم

اپنے سابق مراسلاتی عربک ٹیچنگ سینٹر کی خدمت کے عرصے میں انھوں نے 2001ء تک سات نصابی کتابیں لکھیں، جو کئی مدارس میں داخل نصاب ہیں۔ اب تک ان کی تقریباً پچاس کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں، جن میں سے بعض کے نام ذیل میں درج ہیں:[6][2][16][5][14]

  1. احیاء العلوم اردو (امام غزالی کی احیاء العلوم کا اردو ترجمہ: چار جلدوں میں)
  2. القاموس الموضوعی (عربی، انگریزی اور اردو میں ایک سہ لسانی لغت)
  3. جمع الخصائل شرح الشمائل
  4. آزادی سے جمہوریت تک
  5. اسلام؛ حقائق اور غلط فہمیاں
  6. انسانی مسائل؛ اسلامی تناظر میں
  7. تین طلاق؛ عوام کی عدالت میں
  8. اسلام اور ہماری زندگی
  9. قرآن کریم کے واقعات
  10. مسلمانوں کی ملی اور سیاسی زندگی
  11. نئے ذہن کے شبہات اور اسلام کا موقف
  12. ہمارے مدارس؛ مزاج اور منہاج
  13. رمضان کیسے گزاریں؟ (اردو و ہندی)
  14. آج رات کی تراویح (اردو و ہندی)
  15. رمضان؛ نیکیوں کا موسمِ بہار
  16. ملتِ اسلامیہ کا دھڑکتا ہوا دل
  17. نگارشات
  18. رشحاتِ قلم
  19. مقالات و مضامین
  20. قیامت کی نشانیاں اور مولانا وحید الدین خاں کے نظریات
  21. لہُو پکارے گا آستیں کا
  22. آئینۂ افکار
  23. پھر سُوئے حرَم لے چل
  24. ہندوستان کا تازہ سفر
  25. خدا رحمت کُنَد
  26. بے مثال شخصیت باکمال استاذ (ان کے والد مولانا واجد حسین دیوبندی کی سوانح حیات)
  27. عربی بولیے
  28. عربی زبان کے قواعد؛ نئے اسلوب میں
  29. عربی میں ترجمہ کیجیے
  30. عربی میں خط لکھیے
  31. جدید عربی زبان ایسے بولیے!
  32. معلم العربیہ (تین حصے)
  33. عربی، انگلش، اردو بول چال
  34. انگلش بولنا سیکھیے
  35. التعبیرات المختارۃ
  36. خُطَبُ الجمعة و العيدين

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ جاوید اختر فیضی. "احیاء العلوم کے مترجم: ایک مختصر تعارف". مذاق العارفین (جلد اول) (ایڈیشن 2001). پاکستان: دار الاشاعت، اردو بازار، کراچی. صفحات 29–30. 
  2. ^ ا ب پ ت ابن الحسن عباسی. یادگار زمانہ شخصیات کا احوال مطالعہ (ایڈیشن ستمبر 2020). دیوبند: مکتبۃ النور، مکتبۃ الانور. صفحہ 251. 
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج مولانا ندیم الواجدی. "واصف حسین ندیم الواجدی". بے مثال شخصیت باکمال استاذ (ایڈیشن 2017ء). دیوبند: دار الکتاب. صفحات 67–68. 
  4. راشد امین (2 جون 2021). "ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی پر ایک طائرانہ نظر". بصیرت آن لائن. اخذ شدہ بتاریخ 1 جنوری 2022. 
  5. ^ ا ب پ ت منظور عثمانی. "مولانا ندیم الواجدی". خوشبوئے وطن (جلد دوم) (ایڈیشن 2015). دیوبند: مکتبہ مدنیہ، سفید مسجد. صفحات 13–17. 
  6. ^ ا ب پ ت نایاب حسن قاسمی. "مولانا ندیم الواجدی". دار العلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ (ایڈیشن 2013). دیوبند: ادارہ تحقیق اسلامی. صفحات 258–261. 
  7. مولانا طیب قاسمی ہردوئی. دار العلوم ڈائری لیل و نہار: فیضانِ مولانا شریف حسن دیوبندی نمبر (ایڈیشن 2018ء). دیوبند: ادارہ پیغامِ محمود. 
  8. ^ ا ب ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی (17 فروری 2021). علم و عمل کا حسین امتزاج: مولانا ندیم الواجدی. قندیل آن لائن. اخذ شدہ بتاریخ 01 جنوری 2022. 
  9. ڈاکٹر عبید اقبال عاصم. "پرنٹنگ پریس اور کتب خانے". دیوبند تاریخ و تہذیب کے آئینے میں (ایڈیشن 2019). دیوبند: کتب خانہ نعیمیہ. صفحہ 122. 
  10. ڈاکٹر عبید اقبال عاصم. "جامعہ عائشہ للبنات". دیوبند تاریخ و تہذیب کے آئینے میں (ایڈیشن 2019). دیوبند: کتب خانہ نعیمیہ. صفحات 342–345. 
  11. "آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ویب سائٹ پر درج ارکان میقاتی". aimblboard.in. اخذ شدہ بتاریخ 18 مارچ 2022ء. 
  12. حقانی القاسمی. "دیوبند کے مآثر و معارف". دار العلوم دیوبند ادبی شناخت نامہ. 1 (ایڈیشن مئی 2006ء). جامعہ نگر، نئی دہلی: آل انڈیا تنظیم علمائے حق. صفحہ 39. 
  13. چودھری، سمیر (1 جنوری 2021). "ممتاز عالم دین مولانا ندیم الواجدی کی چار نئی کتابوں کا رسم اجراء". asrehazir.com. عصر حاضر پورٹل. اخذ شدہ بتاریخ 04 جنوری 2022. 
  14. ^ ا ب نسیم اختر شاہ قیصر. "مولانا ندیم الواجدی". اپنے لوگ (ایڈیشن جنوری 2012ء). محلہ خانقاہ، دیوبند: ازہر اکیڈمی، شاہ منزل. صفحات 110–113. 
  15. ڈاکٹر عبید اقبال عاصم. "صحافت و ادب". دیوبند تاریخ و تہذیب کے آئینے میں (ایڈیشن 2019). دیوبند: کتب خانہ نعیمیہ. صفحات 154–155. 
  16. "مولانا ندیم الواجدی کی تصانیف". رہنمائے کتب (ایڈیشن نومبر 2021ء). دیوبند: دار الکتاب. صفحات 154–155. 

نوٹترميم

  1. علماء و دانشوران کے ایک واٹس ایپ گروپ پاسبان علم و ادب کے ایڈمن مولانا محمد خالد اعظمی قاسمی اور اس کے کارکنان خصوصاً مولانا منصور احمد قاسمی نے مولانا ندیم الواجدی سے ایک انٹرویو لیا تھا، جو غیر مطبوعہ مسودہ کی شکل میں پرنٹ کیا ہوا بھی موجود ہے، اس میں مضمون نگاری کی ابتدا اور زندگی کے کئی گوشوں سے متعلق وضاحتیں ہیں۔ اس انٹرویو میں درج ہے کہ تیرہ سال کی عمر میں مولانا ندیم الواجدی کا پہلا مضمون ہفت روزہ الجمعیت میں کئی قسطوں میں شائع ہوا تھا۔