ابن تیمیہ

(امام ابن تیمیہ سے رجوع مکرر)

ابن تیمیہ کا اصل نام احمد، کنیت ابوالعباس اورمشہور ابن تیمیہ ہے621ھ میں پیدا ہوئے اور قلعہ دمشق ملک شام (سوریا) میں بحالت قید و بند 20 ذوالقعدہ 728ھ میں وصال ہوا۔

ابن تیمیہ
{{#if:
عالم
ابن تیمیہ
تخطيط كلمة ابن تيمية.png
معروفیت شیخ الاسلام
پیدائش 10 ربیع الاول 661ھ بمطابق 22 جنوری، 1263ء[1]
حران، سلاجقہ روم Flag of Sultanate of Rum.svg
وفات 20 ذوالقعدہ 728ھ، بمطابق 26 ستمبر، 1328 (عمر 64–65)[1][2]دمشق، شام
قومیت شام، زیر اقتدار باہری سلطنت مملوک Mameluke Flag.svg
نسل کردی یا عربی
دور اخیر اعلیٰ قرون وسطی یا اخیر قرون وسطی کے بحران
شعبۂ زندگی عالمِ مشرقِ وسطی
پیشہ عالم دین[3]
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت[4]
فقہ حنبلی[4][5]
مکتب فکر عطاری[6]
تحریک سلفی[7]
مادر علمی مدرسه در الحدیث الشکریه

فہرست

آراء علماء

کسی عالم کی عظمت اور مرتبے کا اندازا اس کے شاگردوں سے بھی ہوسکتا ہے۔ امام ابن تیمیہ کے شاگردوں میں امام ابن قیمؒ اور مشہور مفسر قرآن حافظ ابن کثیرؒ جیسی عظیم المرتبت علما بھی شامل ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ 661 ہجری میں موجودہ ترکی کے علاقے حران میں پیدا ہوئے۔ ان کے بچپن میں ان کا گھرانہ تاتاریوں کے حملوں کی وجہ سے ہجرت کرکے شام آگیا۔

شيخ الاسلام تقي الدين ابو العباس احمد بن عبد الحليم بن عبد السلام بن عبد اللہ بن الخضر بن محمد بن الخضر بن علي بن عبد اللہ ابن تيميہ نميرى ، حرانى، دمشقى ، حنبلى ، عہد مملوكى كے نابغہ روزگار علماء ميں سے تھے ۔ اللہ تعالى نے انہيں ايك مجدد كى صلاحيتوں سے نوازا تھا ۔آپ نے عقائد ، فقہ، رد فرق باطلہ، تصوف اور سياست سميت تقريبا ہر موضوع پر قلم اٹھايا اور اہل علم ميں منفرد مقام پايا ۔ آپ بہت فصيح اللسان اور قادر الكلام تھے ۔ علم وحكمت، تعبير وتفسير اور علمِ اصول ميں انہيں خاص مہارت حاصل تھي ۔اپنے والد كى وفات كے بعد دمشق كے دارالحديث السكرية كى مسندِ حديث پر جب آپ نے پہلا درس ديا، اس وقت آپ كى عمر بيس سال كے قريب تھي، اس ميں قاضي القضاة اور ديگر مشايخ زمانہ موجود تھے ۔آپ نے صرف بسم اللہ الرحمن الرحيم كے بارے ميں اتنے نككات بيان كيے کہ سامعين دنگ رہ گئے ۔ شيخ الاسلام تاج الدين فزارى شافعى ( م 690 ہجرى) نے ان كا پورا درس حرف بحرف قلم بند كر كے دارالحديث السكرية كے كتب خانہ ميں محفوظ كروا ديا ۔ ذہانت اور بےپناہ علمى قابليت كے ساتھ ساتھ آپ کي زندگي جہدِ مسلسل سے عبارت تھي ۔ آپ نے اپنے دور كے كئى علماء كے ساتھ علمى مناظرے بھي کيے اور حكومتِ وقت كے ساتھ مل كر تاتاريوں اور باغيوں کے خلاف عملى جہاد ميں بھي حصہ ليا ۔ نفاذِ شريعت كى كوششوں كے سلسلہ ميں آپ كو كئى تجاويز وشكايات لے كر وفود كے ساتھ حكام كے پاس جانے كا موقع بھي ملا۔ آپ كا انداز محققانہ اور محتاط تھا ۔ايك مرتبہ آپ كو قاضى كا عہدہ بھي پيش كيا گيا مگر آپ نے حكومتى شرائط سے متفق نہ ہونے كى وجہ سے اسے قبول نہيں کيا۔ موصوف كى انسانيت دوستى كا يہ عالم تھا کہ شام كے جنگي قيديوں كى رہائي كے ليے تاتارى مسلمان بادشاہ غازان كے پاس جا پہنچے ۔ اس نے آپ کے احترام ميں صرف مسلمان قيديوں كى رہائي كا اشارہ ديا تو آپ اس پر راضى نہ ہوئے اور يہ کہہ كر سب قيديوں كى رہائي پر اصرار كيا كہ يہودي اور نصرانى بھي ہماري رعايا ہيں اور ان كے جان ومال كى حفاظت ہم پر ضرورى ہے چنانچہ سبھي كو رہا كر ديا گيا ۔ آپ بےباك اس قدر تھے كہ 27 ريع الاول 699 ہجرى كو جب شام كے شہر حمص اور سلميہ کے درميان وادى خازندار ميں تاتارى سلطان غازان اور سلطانِ مصر ملك ناصر محمدبن قلاؤن كے درميان سخت لڑائي كے نتيجے ميں بہت تباہي ہوئي ، مصرى اور شامى فوجوں كا بہت نقصان ہوا اور ملك ناصر بھي فرار ہو كر قاہرہ پہنچ گئے تو امام ابن تيميہ رحمہ اللہ مشائخ دمشق كو لے كر 3 ربيع الثاني 699 ہجري كو بعلبك كے قريب تاتارى بادشاہ غازان سے ملاقات كرنے پہنچ گئے ۔ انہوں نے بادشاہ کے سامنے بہت پر حوش انداز ميں عدل وانصاف كى خوبياں بيان كيں اور اس كے آباؤ اجداد كے مظالم كے ساتھ ساتھ ان كے بعض اصولوں اور وفائے عہد كا تذكرہ كيا ۔ غازان اگرچہ اس سے قبل ہي مسلمان ہو چکا تھا مگر تاتارى اور غيرتاتارى كى لڑائي تسلسل سے جارى تھي ۔ آپ كى تقريريں اس قدر سخت اور جملے اس قدر تندوتيز تھے كہ پورے وفد كو آپ کے قتل ہو جانے كا يقين ھو چلا تھا ۔ غازان نے انہيں قتل كرنے كى بجائے اپنے امراء كے سامنے ان كى بےباكى اور شجاعت كى تعريف كى اور ان سے دعاؤں كى درخواست كى ۔امام ابن تيميہ رحمه اللہ نے اس كے ليے يہ دعا كى : " اے اللہ اگر تو جانتا ہے كہ غازان تيرا كلمہ بلند كرنے كے ليے لڑ رہا ہے اور وہ تيرى راہ ميں جہاد کے ليے نكلا ہے تو تو اس كى مدد كر ۔اور اگر تيرے علم ميں ہے کہ وہ مال ودولت حاصل كرنے كے ليے نكلا ہے تو اس كو اس كى پوري جزا عطا كر ۔" غازان اس پوري دعا پر آمين كہتا رہا ! آپ كى حق گوئي اور بے نفسى كا يہ عالم تھا كہ غازان نے آپ كے وفد كے ليے دسترخوان لگوايا مگر آپ نے وہاں كھانے سے انكار كرديا اور كہا: "ميں يہ کھانا كيسے کھا سکتا ہوں جب كہ اس كو لوٹ کھسوٹ كے مال سے تيار كيا گيا ہے ؟" امام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے كسى کے خوف اور دباؤ كي پروا كيے بغير اپني منفرد علمى تحقيقات كى اشاعت كى ۔ اپنے بعض علمى مباحثوں اور فتووں كى وجہ سے آپ كو ايك مدت تك قيد وبند كى صعوبتيں بھي برداشت كرنا پڑيں، حتى كہ جب داعئ اجل كو لبيك كہنے كا وقت آيا تو آپ زندگي كى آخرى قيد برداشت كر رہے تھے اور آپ كا جنازہ جيل ہي سے نكلا ۔ آپ كى كل مدت قيد سوا چھ سال بنتى ہے ۔ خير الدين زركلى نے دُرر كے حوالہ سے لکھا ہے كہ آپ كى تصانيف چار ہزاراجزاء سے متجاوز ہيں ۔ فوات الوفيات ميں ان كى تعداد تين سو مجلد منقول ہے ۔ ان ميں سے آپ كا ايك مبسوط فتاوى ، الجوامع، السياسة الشرعية ، الجمع بين العقل والنقل، الصارم المسلول على شاتم الرسول، رفع الملام عن الأئمة الأعلام، مجموعة الرسائل والمسائل بھي ہيں ۔ آپ کے حالات زندگي پر ابن قدامہ نے العقود الدرية في مناقب شيخ الإسلام أحمد بن تيمية ، شيخ مرعى حنبلى نے الكوكب الدرية ، سراج الدين عمر البزار نے الأعلام العلية في مناقب ابن تيمية ، عبدالسلام حافظ نے الإمام ابن تيمية ، شيخ محمد ابو زہرہ نے ابن تيمية ؛ حياته وعصره_ آراؤه وفقهه، اور اسى طرح شہهاب الدين أحمد بن يحيى بن فضل الله العمري، ابو عبدالله محمد بن أحمد بن عبدالهادي الحنبلي، وغيره كئى اہل علم نے عليحدہ عليحدہ كتابيں لکھيں ۔اردو ميں آپ كى سوانح پرڈاکٹر غلام جيلانى برق كى كتاب امام ابن تيميہ، افضل العلماء محمد يوسف كوكن عمرى كى مبسوط كتاب امام ابن تيميہ، اور مولانا ابو الحسن على ندوى كى كتاب تاريخ دعوت وعزيمت جلد دوم بہت مفيد ہيں۔

ابن تیمیہ کے بعض عقائد ومسائل

امام ابن تیمیہ کے زمانے میں مسلمانوں میں یونانی فلسفہ اور منطق کا بہت چرچا تھا۔ یونانی فلسفے کے آمیزش کی وجہ سے مسلمانوں کے بہت سے عقائد خراب ہوگئے تھے۔ فلسفیوں اور خود فلسفے سے متاثرہ مولویوں نے بھی عجیب و غریب عقائد کو فروغ دینا شروع کردیا تھا۔ بات یہ ہے کہ اسلام بہت ہی سادہ سا دین ہے۔ ایک عام انسان بھی قرآن و حدیث کو سمجھ کر پڑھ سکتا اور اس سے رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔ جہاں کوئی بات سمجھ نہ آئے وہاں انسان علما سے رہنمائی حاصل کرے۔ قرآن و حدیث میں توحید، رسالت، جہاد، سود، زنا، نماز، روزہ، زکوۃ غرض تمام تر شعبوں میں سادہ زبان میں رہنمائی کی گئی ہے۔ لیکن آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ قرآن و حدیث میں عجیب و غریب موشگافیاں کرتے اور نت نئی تاویلات پیش کرکے سادہ لوح لوگوں کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عجیب و غریب فلسفے جھاڑتے ہیں۔ شاید ان کا مقصد اپنی بڑائی کا اظہار کرنا، علم کا رعب جمانا ہوتا ہے۔ یا پھر وہ نادان یا بھٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ تو امام ابن تیمیہؒ جب پیدا ہوئے وہ دور بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ امام ابن تیمیہ نے فلسفے کا پرزور انداز میں رد کیا۔ مسلمان جو یونانی فلسفے سے بہت زیادہ مرعوب ہوگئے تھے، انہیں اس سحر سے نکالا۔ اور قرآن و حدیث کی تعلیمات کو بہت سادہ اور آسان کرکے عوام الناس کے سامنے پیش کیا۔ ان کے زمانے میں ایک فلسفی تھا ابن عربی جس نے ’’عقیدہ وحدۃ الوجود‘‘ کو نئے سرے سے پیش کیا۔ عام لوگ تو ایک طرف علمی طبقوں میں بھی ابن عربی کی تعلیمات و عقائد کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے عقائد میں بہت ذبردست بحران پیدا ہوا۔ امام ابن تیمیہؒ نے پرزور انداز میں عقیدہ وحدہ الوجود اور ابن عربی کے افکار کا رد کیا اور اسے قرآن و حدیث کے خلاف ثابت کیا۔ دیکھا جائے تو مسلمانوں پر امام ابن تیمیہؒ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کے چشمہ صافی کو بدعات و خرافات سے پاک صاف کردیا۔

سید ابوالحسن علی ندوی نے اپنی کتاب میں شاہ ولی اللہ کا بیان نقل کیا کہ چوتھی صدی ہجری تک یعنی آپ ﷺ کے انتقال کے بعد 400 سال تک کسی امام کسی فقہ کی تقلید کا رواج نہیں تھا۔ اسلام کے دو بنیادی ماخذ تھے قرآن و حدیث ۔ لوگ اپنے والدین، اساتذہ، مربیوں سے دین سیکھتے اور اس پر عمل کرتے۔ جہاں کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہوتا جس میں رہنمائی کی ضرورت ہوتی تو لوگ کسی معتبر عالم سے مسئلہ دریافت کرلیتے۔ پھر چوتھی صدی کے بعد سے فرقہ پرستی شروع ہوئی۔ علما میں اختلافات پیدا ہوئے۔ لوگ بحث و مناظرہ میں زیادہ پڑنے لگے۔ فتنہ برپا ہوئے۔ علمی سطح بھی کچھ کم ہوئی۔ اس انتشار اور اس دور کے مولیوں کی طرح طرح کی موشگافیوں کی وجہ سے عوام میں یہ رجحان پیدا ہوا کہ آج کے دور کے علما کی بحثوں میں پڑنے سے بہتر ہے ابتدائی دور کے علما اور امام سے رجوع کرلیا جائے اور ان کی پیروی کی جائے۔ یہاں سے تقلید شروع ہوئی۔ لیکن اس وقت بھی ’امام‘ کی تقلید انہیں ’استاد‘ سمجھ کر کی جاتی تھی ’پیغمبر‘ سمجھ کر نہیں۔ اور اس تقلید میں کوئی حرج بھی نہیں۔ لیکن بگاڑ اس وقت پیدا ہوا جب لوگوں نے امام کو استاد کی بجائے پیغمبر کا درجہ دے دیا اور اتنی زیادہ عصبیت پیدا ہوگئی کہ لوگ اپنے فرقے کے امام کے کہے یا لکھے گئے کے ایک ’’شوشے یا نقطہ‘‘ سے بھی دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ بہت سے علما کی یہ حالت تھی کہ ان کو اگر اپنے امام کا بیان کردہ مسئلہ حدیث سے سنت کے خلاف ہونا معلوم بھی ہوجاتا تب بھی وہ اس مسئلے کو ترک کرنے اور حدیث کی پیروی کرنے پر تیار نہیں ہوتے تھے۔

شاہ ولی اللہ کا بیان

ہم فقہا یا ائمہ کی پیروی یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کے عالم ہیں۔ لیکن اگر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی صحیح حدیث پہنچ جائے جو اس عالم کے موقف کے برخلاف ہو، تو اس کے بعد اگر ہم حدیث کو رد کرکے اپنے فقہ کی پیروی کریں تو ہم سے زیادہ ظالم اور کون ہوگا اور ہم قیامت میں اپنے خدا کو کیا جواب دیں گے۔ امام ابن تیمیہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ کسی خاص فقہ پر چلنا ایک قدرتی بات ہے اور ایسا شروع سے ہوتا چلا آیا ہے۔ لیکن مسلمان کو جب کبھی قرآن و حدیث سے کوئی دلیل پیش کی جائے تو اسے بلاتردد اپنے پچھلے طرز عمل کو چھوڑ کر قرآن و سنت کی پیروی کرنی چاہیے۔ پھر جہاد کے محاذ پر بھی امام ابن تیمیہؒ سرگرم رہے اور تاتاریوں کا مقابلہ کیا۔ کتاب کے مطالعے سے ایک حیرت انگیز بات یہ پتہ چلی کہ اس زمانے میں شام پر حملہ کرنے والے تاتاری مسلمان تھے۔ ان کے بادشاہ کا نام قازان تھا جس کی حکومت ایران اور عراق پر تھی۔ قازان نے شام پر حملہ کیا اور اس کے حکمراں کو شکست دے دی۔ اس وقت شام میں شدید افراتفری مچی ہوئی تھی۔ ایسے میں امام ابن تیمیہ علما کا ایک وفد لے کر قازان سے ملے اور اس کو عدل و انصاف قرآن و حدیث کا درس دیا۔ امام ابن تیمیہ نے قازان سے کہا کہ تم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہو لیکن اس کے باوجود تم نے ہم پر حملہ کیا۔ قازان امام سے بہت متار ہوا اور اس نے تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردیا۔ راوی لکھتا ہے کہ امام ابن تیمیہ نے قازان سے اتنی سخت گفتگو کی کہ ہم ڈر رہے تھے جلاد کو ابھی گردن اڑانے کا حکم ہوا۔ امام سے ملاقات کے بعد بھی قازان نے شام و مصر کو فتح کرنے کا ارادہ ترک نہ کیا اور حالات بدستور خراب ہی رہے۔ امام نے عوام الناس کو جہاد پر ابھارا اور قتال کی ترغیب کی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ دمشق کے معاملات عملا امام ابن تیمیہ کے ہاتھ میں آگئے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے شہر میں شراب خانوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ تاتاریوں نے ایک بار پھر شام کا رخ کیا۔ اس دوران سوال اٹھا کہ تاتاری بھی مسلمان ہیں تو ان سے جنگ کا کیا حکم ہے۔ تو امام نے ان تاتاریوں کو خوارج قرار دیکر کہا کہ اگر تم تاتاریوں کی صف میں مجھے بھی دیکھو تو میری بھی گردن اڑا دینا۔ بہرحال تاتاریوں کا لشکر آن پہنچا۔ اسماعیلیوں نے تاتاریوں کا پورا ساتھ دیا۔ اسلامی فوج اور تاتاریوں میں جنگ ہوئی جس میں اسلامی لشکر کو فتح ہوئی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد امام نے بدعت اور شرک کے خلاف پوری طاقت سے سرگرم ہوگئے۔ ایک چٹان تھی جہاں لوگ منت مانتے تھے۔ امام نے اس چٹان کو توڑا۔ پھر انہوں نے ملحدوں اور ، نصیری قبائل کے خلاف لشکر کشی کی کیونکہ انہوں نے عیسائیوں اور تاتاریوں کو شام پر حملے کی دعوت دی تھی۔ اس طرح کرتے کرتے امام ابن تیمیہؒ کا زور بہت بڑھ گیا۔ وہ دیکھتے کہ جہاں حکومت منکر کو ختم کرنے میں سستی کررہی، تو قانون ہاتھ میں لے کر خود شرعی حکم نافذ کردیتے۔ اس کے نتیجے میں مولویوں اور حاسدوں کا ایک طبقہ ان کا مخالف ہوگیا۔ مناظرے شروع ہوگئے۔ لوگوں نے سلطان کو شکایت کردی جس نے امام کو دارالخلافہ مصر طلب کرلیا۔ انہیں ایک سال تک قید کردیا گیا۔ تو انہوں نے جیل میں ہی دعوت و تبلیغ کا اتنا کام کیا کہ قیدیوں کی حالت ہی بدل گئی۔ رہائی کے بعد دوبارہ درس و تدریس میں مصروف ہوگئے۔ انہیں پھر نظر بند کردیا گیا لیکن کچھ عرصے بعد پھر رہا کردیا گیا۔ اس دوران مصر کا سلطان ناصر تبدیل ہوگیا۔ نئے حکمراں رکن الدین نے پھر امام کو قید کردیا۔ ایک سال بعد سلطان ناصر دوبارہ حکومت میں آیا تو اس نے امام کو رہا کیا۔ سلطان ناصر امام کا بہت احترام کرتا تھا۔ امام چاہتے تو اپنے تمام مخالفین کو سزا دلوا سکتے تھے لیکن انہوں نے سب کو معاف کردیا۔ پھر دوبارہ درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔ اس دوران تین طلاقوں کا مسئلہ سامنے آیا۔ امام نے فتویٰ دیا کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دراصل ایک ہی طلاق شمار ہوگی، جس کے بعد رجوع کیا جاسکتا ہے۔ پھر ایک مسئلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کا اٹھا۔ امام نے کہا کہ کسی کی بھی قبر کی زیارت کے لیے اہتمام سے سفر کرکے جانا جائز نہیں۔ اس معاملے پر حکومت نے امام ابن تیمیہؒ کو ان کے شاگرد امام ابن قیمؒ کے ساتھ دوبارہ قید کردیا۔ اور اسی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ درحقیقت امام ابن تیمیہؒ کی زندگی اور جدوجہد انتہائی سیرحاصل ہے جسے ایک کتاب اور خلاصے میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ علم حدیث پر امام ابن تیمیہ کو اتنا عبور تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ جس حدیث کو امام نہیں جانتے وہ حدیث ہی نہیں۔ یعنی انہیں تمام صحیح و موضوع احادیث کا بخوبی علم تھا۔ انہوں نے سیکڑوں کتابیں لکھیں جن میں سے ایک کتاب منہاج السنہ النبویہ فی نقض الکلام شیعہ و قدریہ بہت مشہور ہے۔

دور جدید پر ابن تیمیہ کے اثرات

امام ابن تیمیہ نے جہاد کا مشہور فتویٰ جاری کیا جس کا القاعدہ اور دیگر جہادی تنظیمیں اپنے مقاصد کے لیے حوالہ بھی دیتی ہیں۔ سعودی عرب کے مشہور عالم دین محمد بن عبدالوہابؒ کی تحریک پر امام ابن تیمیہؒ کی تعلیمات کا بہت زیادہ اثر ہے۔ امام ابن تیمیہؒ نے لوگوں کو مزاروں پر جانے اور بزرگان دین کو وسیلہ بنانے سے منع کیا۔ جب وہ تیس سال کے تھے تو ایک عیسائی پادری اصف النصرانی نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ حکومت نے النصرانی کو کہا کہ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو اس کی جان بخشی جاسکتی ہیں۔ وہ راضی ہوگیا۔ لیکن امام ابن تیمیہؒ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہو یا کافر اگر بقائمی ہوش و حواس توہین رسالت کرے گا تو اس کی گردن اڑائی جائے گی۔ اس پر حکومت نے انہیں قید کردیا۔ اسی قید میں انہوں نے اپنی پہلی معرکہ آرا کتاب ’’الصارم المصلول علی شاتم الرسول‘‘ لکھی۔ یہ کتاب مکتبہ قدوسیہ لاہور سے اردو زبان میں بھی شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے نام کے معنی ہیں ’’شاتم رسول کے سر پر لٹکتی ننگی تلوار‘‘۔موجودہ حالات میں اس کتاب کا مطالعہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اپنے شاگردوں کی مدد سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تحریک چلائی۔ اس دوران انہوں نے ہاتھ سے لوگوں کو گناہوں سے روکا اور سزائیں دیں۔ جب مملوک حکمراں الملک المنصور نے لبنان کے پہاڑوں میں علوی قبائل (بشارالاسد کا تعلق بھی علوی خاندان سے ہے) کے خلاف کارروائی کی تو امام نے متعدد بار حکومت کا ساتھ دیا۔ کیونکہ وہ علویوں کو یہود و نصاریٰ سے بھی زیادہ ملحد قرار دے دیتے تھے۔ اور اس لیے بھی کہ انہوں نے بغداد و شام پر حملے میں صلیبیوں اور تاتاریوں کی مدد کی تھی۔ جب تاتاری رہنما قازان خان نے شام پر حملہ کیا تو تب امام ابن تیمیہ نے اپنا مشہور فتویٰ جاری کیا کہ تاتاری جو اگرچہ اسلام قبول کرچکے ہیں لیکن ان کے خلاف جہاد فرض کفایہ ہی نہیں بلکہ جہاد فرض عین ہے، کیونکہ وہ شریعت کی بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت نہ صرف حکومت کرتے ہیں بلکہ انہیں شریعت سے بہتر بھی سمجھتے ہیں لہذا وہ حالت جاہلیت میں ہی ہیں۔ دراصل تاتاریوں نے اسلام تو قبول کرلیا تھا لیکن اپنے پرانے ’’الیاسق قانون‘‘ کو برقرار رکھا تھا اور شریعت کو نافذ نہیں کیا تھا۔ یہ کسی عالم کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا پہلا فتویٰ تھا۔ اور آج جہادی تنظیمیں اسی کو اپنا جواز بناتی ہیں۔ پھر مصر و شام کی اسلامی فوج اور تاتاری فوج میں جنگ ہوئی جس میں امام ابن تیمیہ نے خود بھی شرکت کی۔ امام کے دونوں مشہور شاگردوں امام ابن قیم اور حافظ ابن کثیر نے بھی اپنے استاد کے اس موقف کی تائید کی۔ بیلجیئم کے ایک مسلمان پروفیسر یحیٰ مچوٹ امام ابن تیمیہ کو القاعدہ کا نظریاتی جد امجد قرار دیتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ نے دنیا کو چار خانوں میں تقسیم کرنے کا تصور پیش کیا۔ دارالاسلام جہاں مسلمان بستے ہوں اور شریعت نافذ ہو، دارالکفر جہاں کفار بستے ہوں اور کفر کی حکومت ہو، دارالحرب کفار کا وہ ملک جس سے دارالاسلام کی جنگ ہورہی ہو اور دارالمرکب مسلمانوں کا وہ علاقہ جہاں شریعت نافذ نہ ہو۔ امام ابن تیمیہ سے ایک اور تصور ’’شریعت نافذ نہ کرنے والے مسلم حکمران کو قتل کرنا جائز ہے‘‘ بھی منسوب کیا جاتا ہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے انسداد دہشت گردی کے سابق رابطہ کار ڈینیئل بنجمن نے اپنی کتاب میں دور جدید کی اسلامی تحریکوں کو ابن تیمیہ کے بچے قرار دیا۔

فتویٰ ماردین

امام ابن تیمیہ کے اس فتویٰ کو بھی القاعدہ و دیگر جہادی تنظیمیں دلیل بناتی ہیں۔ دراصل ماردین مسلم اکثریتی علاقہ تھا جس پر تاتاریوں (جو اسلام قبول کرچکے تھے) نے قبضہ کرلیا تھا اور وہاں ظلم و ستم کررہے تھے۔ وہاں کے لوگوں نے پوچھا کہ ہمارا علاقہ دارالحرب ہے یا دارالکفر تو امام تیمیہ نے اسے دارالمرکب کا نام دیا جہاں کے رہنے والے مسلمانوں سے ویسا سلوک کیا جائے گا جس کا وہ مستحق ہے مگر شریعت چھوڑنے والے سے جنگ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا تاتاری حکمراں قازان اور اس کی فوج نے شریعت قبول نہیں کی اس لیے وہ غیر مسلم ہیں۔ اور جو کوئی ان کی مدد کرے گا وہ زندیق یا منافق کہلائے گا۔ بہت سے لوگ امام کو صوفی ازم کا مخالف سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ صوفی ازم کو اسلام کا اہم ترین حصہ سمجھتے تھے۔ تاہم وہ صوفی ازم میں در آنے والی خرابیوں و بدعات کو ختم اور اصلاحات کرنا چاہتے تھے۔ وہ صوفیا مثلا جنید بغدادی، بایزید بسطامی و دیگر کا بہت احترام کرتے تھے اور ان کے افکار کو سراہتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق انہوں نے 700 سے زیادہ کتابیں لکھیں تاہم ان کی بہت سے کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں اور گردش دوراں میں گم ہوگئیں۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ^ 1.0 1.1 "Ibn Taymiyya, Taqi al-Din (661-728 AH)/ (1263–1328 CE)". Muslimphilosophy.com. اخذ کردہ بتاریخ 2010-06-09. 
  2. "Ibn Taymiyyah: Profile and Biography". Atheism.about.com. 2009-10-29. اخذ کردہ بتاریخ 2010-06-09. 
  3. Al-Matroudi، Abdul Hakim (2006). The Hanbali School of Law and Ibn Taymiyyah. Routledge. صفحات۔53. 
  4. ^ 4.0 4.1 4.2 Ibn Taymiyyah، Aḥmad ibn ʻAbd al-Ḥalīm (1999). Kitab Al-Iman. Kuala Lumpur: Islamic Book Trust. http://books.google.co.id/books?id=_Cxpfjri6o0C&printsec=frontcover&dq=&hl=en&sa=X&ei=LzK5VLXaGcOyuATuzICgAg&ved=0CDAQ6AEwAw#v=onepage&q&f=false۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 January 2015. 
  5. "Ibn Taymiyyah". Encyclopædia Britannica. اخذ کردہ بتاریخ 16 January 2015. 
  6. Halverson، Jeffry R. (2010). Theology and Creed in Sunni Islam. Palgrave Macmillan. صفحات۔48. 
  7. Jonathan A.C. Brown. "Salafism – Islamic Studies – Oxford Bibliographies". Oxford Bibliographies. اخذ کردہ بتاریخ 10 February 2015.