گندھک

(Sulfur سے رجوع مکرر)

گندھک یا کبریت (انگریزی: Sulfur) کا نام سے پہچانا جانے والا ایک ایسا کیمیائی عنصر ہے جس کا عنصری عدد 16 ہے۔ انگریزی میں اسے S سے ظاہر کرتے ہیں۔ قدرتی طور پر بکثرت پایا جانے والا یہ غیر دھاتی عنصر ہے۔ کبریت اپنی خام حالت میں چمکدار پیلے رنگ کا ٹھوس قلمی عنصر ہوتا ہے۔ قدرت میں کبریت اور زندگی کا قریبی تعلق ہے۔ تجارتی پیمانے پر اسے کھادوں میں استعمال کیا جاتا ہے تاہم ماضی میں اسے کالے بارود، ماچسوں، کُرم کُش ادویات اور پھپھوندی مارنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

Sulfur,  16S
Sulfur-sample.jpg
Sulfur Spectrum.jpg
Spectral lines of sulfur
General properties
Pronunciation/ˈsʌlfər/ SUL-fər
Appearancelemon yellow sintered microcrystals
Sulfur in the دوری جدول
Hydrogen (diatomic nonmetal)
Helium (noble gas)
Lithium (alkali metal)
Beryllium (alkaline earth metal)
Boron (metalloid)
Carbon (polyatomic nonmetal)
Nitrogen (diatomic nonmetal)
Oxygen (diatomic nonmetal)
Fluorine (diatomic nonmetal)
Neon (noble gas)
Sodium (alkali metal)
Magnesium (alkaline earth metal)
Aluminium (post-transition metal)
Silicon (metalloid)
Phosphorus (polyatomic nonmetal)
Sulfur (polyatomic nonmetal)
Chlorine (diatomic nonmetal)
Argon (noble gas)
Potassium (alkali metal)
Calcium (alkaline earth metal)
Scandium (transition metal)
Titanium (transition metal)
Vanadium (transition metal)
Chromium (transition metal)
Manganese (transition metal)
Iron (transition metal)
Cobalt (transition metal)
Nickel (transition metal)
Copper (transition metal)
Zinc (transition metal)
Gallium (post-transition metal)
Germanium (metalloid)
Arsenic (metalloid)
Selenium (polyatomic nonmetal)
Bromine (diatomic nonmetal)
Krypton (noble gas)
Rubidium (alkali metal)
Strontium (alkaline earth metal)
Yttrium (transition metal)
Zirconium (transition metal)
Niobium (transition metal)
Molybdenum (transition metal)
Technetium (transition metal)
Ruthenium (transition metal)
Rhodium (transition metal)
Palladium (transition metal)
Silver (transition metal)
Cadmium (transition metal)
Indium (post-transition metal)
Tin (post-transition metal)
Antimony (metalloid)
Tellurium (metalloid)
Iodine (diatomic nonmetal)
Xenon (noble gas)
Caesium (alkali metal)
Barium (alkaline earth metal)
Lanthanum (lanthanide)
Cerium (lanthanide)
Praseodymium (lanthanide)
Neodymium (lanthanide)
Promethium (lanthanide)
Samarium (lanthanide)
Europium (lanthanide)
Gadolinium (lanthanide)
Terbium (lanthanide)
Dysprosium (lanthanide)
Holmium (lanthanide)
Erbium (lanthanide)
Thulium (lanthanide)
Ytterbium (lanthanide)
Lutetium (lanthanide)
Hafnium (transition metal)
Tantalum (transition metal)
Tungsten (transition metal)
Rhenium (transition metal)
Osmium (transition metal)
Iridium (transition metal)
Platinum (transition metal)
Gold (transition metal)
Mercury (transition metal)
Thallium (post-transition metal)
Lead (post-transition metal)
Bismuth (post-transition metal)
Polonium (post-transition metal)
Astatine (metalloid)
Radon (noble gas)
Francium (alkali metal)
Radium (alkaline earth metal)
Actinium (actinide)
Thorium (actinide)
Protactinium (actinide)
Uranium (actinide)
Neptunium (actinide)
Plutonium (actinide)
Americium (actinide)
Curium (actinide)
Berkelium (actinide)
Californium (actinide)
Einsteinium (actinide)
Fermium (actinide)
Mendelevium (actinide)
Nobelium (actinide)
Lawrencium (actinide)
Rutherfordium (transition metal)
Dubnium (transition metal)
Seaborgium (transition metal)
Bohrium (transition metal)
Hassium (transition metal)
Meitnerium (unknown chemical properties)
Darmstadtium (unknown chemical properties)
Roentgenium (unknown chemical properties)
Copernicium (transition metal)
Nihonium (unknown chemical properties)
Flerovium (unknown chemical properties)
Moscovium (unknown chemical properties)
Livermorium (unknown chemical properties)
Tennessine (unknown chemical properties)
Oganesson (unknown chemical properties)
O

S

Se
phosphorussulfurchlorine
جوہری عدد (Z)16
Group, periodgroup 16 (chalcogens), period 3
Blockp-block
Standard atomic weight (Ar)32.065(5)
برقی تشکیل[Ne] 3s2 3p4
Electrons per shell
2, 8, 6
Physical properties
Phasesolid
نقطۂ انجماد388.36 کیلون ​(115.21 °C, ​239.38 °F)
نقطہ کھولاؤ717.8 K ​(444.6 °C, ​832.3 °F)
کثافت near درجہ حرارت کمرہ(alpha) 2.07 g/cm3
(beta) 1.96 g/cm3
(gamma) 1.92 g/cm3
when liquid, at m.p.1.819 g/cm3
Critical point1314 K, 20.7 MPa
سخانۂ ائتلاف(mono) 1.727 جول فی مول
Heat of (mono) 45 kJ/mol
Molar heat capacity22.75 J/(mol·K)
بخاری دباؤ
پ (پاسکل) 1 10 100 1 کے 10 کے 100 کے
 دح پر (کیلون) 375 408 449 508 591 717
Atomic properties
تکسیدی عددs6, 5, 4, 3, 2, 1, -1, -2 ​strongly acidic oxide
برقی منفیتPauling scale: 2.58
تائین توانائی
(more)
Covalent radius105±3 پیکومیٹر
وانڈروال رداس180 pm
Miscellanea
قلمی ساختorthorhombic
Orthorhombic crystal structure for sulfur
حر ایصالیت(amorphous)
0.205 W/(m·K)
مزاحمیت(amorphous)
2×1015  Ω·m (at 20 °C)
مقناطیسیتdiamagnetic[1]
Bulk modulus7.7 GPa
موس پیمانہ2.0
کیمیائی شعبۂ اخلاص اندراجی عدد7704-34-9
History
DiscoveryChinese[2] (Before 2000BC)
Recognized as an element byانتونی لائرنٹ لاوئزر (1777)
Main isotopes of sulfur
ہم جا Abun­dance ہاف لائف (t1/2) اشعاعی تنزل Pro­duct
32S 95.02% 16 تعدیلوں کیساتھ S مستحکم ہے
33S 0.75% 17 تعدیلوں کیساتھ S مستحکم ہے
34S 4.21% 18 تعدیلوں کیساتھ S مستحکم ہے
35S syn 87.32 d بیٹا تنزل 0.167 35Cl
36S 0.02% 20 تعدیلوں کیساتھ S مستحکم ہے
| references | in Wikidata

خصوصیاتترميم

 
جب جلتی ہے تو کبریت پگھل کر گہرے سرخ رنگ کا مائع بناتی ہے۔ اندھیرے میں جلتی ہوئی کبریت کا شعلہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔
 
آتش فشاں کے نزدیک اکثر زمین پر موجود سوراخوں سے گرم گیس نکلتی رہتی ہے۔ ایسے سوراخوں کے کناروں پر کبریت جم جاتی ہے۔ اٹلی میں موجود ایسا ایک آتش فشانی سوراخ۔

طبعی خصوصیاتترميم

کمرے کے عام درجہ حرارت پر کبریت نرم اور چمکدار پیلے رنگ کا ٹھوس ہوتی ہے جس سے ہلکی سی ماچسوں والی بو آتی ہے۔ ہندی میں بو کو گند کہتے ہیں جس سے اس کا نام گندھک پڑا۔ کبریت کو بجلی کے غیر موصل کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ 100 ڈگری سے ذرا اوپر یہ پگھل جاتی ہے۔

کیمیائی خصوصیاتترميم

جلتی ہوئی کبریت سے نیلا شعلہ خارج ہوتا ہے اور سلفر ڈائی آکسائیڈ بنتی ہے۔ کبریت پانی میں حل نہیں ہوتی لیکن کاربن ڈائی سلفائیڈ میں حل ہو جاتی ہے۔

کبریت کسی حد تک بینزین اور ٹاولین میں بھی حل پزیر ہے۔ کبریت کی قلمیں کافی پیچیدہ ہوتی ہیں۔

دیگر عام مائع کے برعکس 200 ڈگری سنٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر پگھلی ہوئی کبریت کی لزوجت یعنی وسکاسٹی بڑھ جاتی ہے۔ اس درجہ حرارت پر پگھلی ہوئی کبریت شوخ سُرخ رنگ کی ہوتی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ بلند درجہ حرارت پر کبریت کی لزوجت کم ہونے لگ جاتی ہے۔

ہم جاءترميم

کبریت کے کل 25 معلوم شدہ ہم جاء ہیں جن میں صرف 4 ہی مستحکم ہیں۔

منبعترميم

عام حالت میں کبریت کا سب سے عام ہم جاء کبریت 32 ہے جو انتہائی بڑے اور انتہائی گرم ستاروں کے مرکز میں ڈھائی ارب ڈگری سنٹی گریڈ پر چقمین (سلیکون) اور شمصر (ہیلیئم) کے ایک ایک مرکزے کے ملاپ سے بنتا ہے۔

مشتری کے آتش فشانی ماہِ ہمراہ ای او کے شوخ رنگ کبریت کی مختلف حالتوں سے بنے ہیں۔

زمین کے چاند کے ایک گڑھے کے نزدیک موجود تاریک نشان کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں کبریت کا ذخیرہ موجود ہے۔

بہت سارے شہابیوں میں بھی کبریت موجود ہوتی ہے۔

کرہ ارض پر کبریت گرم پانی کے چشموں اور آتش فشانی علاقوں کے آس پاس بالخصوص بحرالکاہل کے حلقہ آتش کے ساتھ ساتھ پائی جاتی ہے۔ ایسے ہی ذخائر کی کان کنی انڈونیشیا، چلی اور جاپان میں کی جاتی ہے۔ سسلی بھی کبریت کی کانوں کی وجہ سے مشہور ہے۔

خلیج میکسیکو کے کنارے نمک کے گنبدوں میں کبریت کی بہت بڑی مقدار دریافت ہوئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کبریت بیکٹیریا نے پیدا کی ہے۔ تاہم یہ ذخائر فطری طور پر بھی بنے ہو سکتے ہیں۔ متحجروں کے ساتھ موجود کبریت کے ایسے ذخائر جو نمک کے گنبدوں میں موجود ہوں، سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ، پولینڈ، روس، ترکمانستان اور یوکرائن میں کبریت کا اہم ذریعہ تھے۔ تاہم اب ان کا استعمال متروک ہو چکا ہے۔

عام طور پر کبریت سلفائیڈ اور سلفیٹ کی معدنی شکل میں ملتی ہے۔ جپسم جو کیلشیئم سلفیٹ ہوتا ہے اس کی عام مثال ہے۔ قدرتی طور پر آتش فشاں سے نکلنے والے مادے میں کبریت شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بیکٹیریا بھی کبریت رکھنے والے نامیاتی مادے کی توڑ پھوڑ سے کبریت پیدا کرتے ہیں۔

تیاریترميم

ماضی میں کبریت کو خالص حالت میں نکالتے تھے تاہم اب اسے صنعتی تعامل میں اضافی پیداوار کے طور پر الگ کیا جاتا ہے۔ ان تعامل میں عموماً کبریت مرکب شکل میں موجود ہوتی ہے جسے خالص حالت میں الگ کر لیا جاتا ہے۔ ایسے تعاملوں کی عام مثال تیل کی صفائی ہے۔

آج کل کبریت کو پیٹرولیم، قدرتی گیس اور دیگر متحجر ذرائع سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے عموماً ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس کی شکل میں حاصل کرتے ہیں۔

ایسی گیسیں جن میں ہائیڈروجن سلفائیڈ موجود ہو، ان سے بھی کبریت الگ کی جا سکتی ہے۔ اتھابسکا کی آئل سینڈز میں کبریت کی بھاری مقدار شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے کینیڈا کے صوبے البرٹا میں خالص کبریت کے ڈھیر عام دکھائی دیتے ہیں۔

تاریخترميم

ماضی بعیدترميم

چونکہ کبریت عام پایا جانے والا عنصر ہے، اس لیے اسے قبل از تاریخ سے جانا جاتا ہے۔ توریت میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔

چین میں چھٹی صدی قبل مسیح سے لوگوں کو کبریت کے بارے میں معلومات تھیں۔ تیسری صدی عیسوی میں کبریت کو اس کے مرکب سے الگ کرنے کا طریقہ چینیوں نے دریافت کر لیا تھا۔ 1044ء میں سونگ شہنشاہ کے دور میں فوجی مقاصد کے لیے کالے بارود میں اسے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے پوٹاشیم نائٹریٹ (یعنی قلمی شورہکوئلہ اور کبریت کو ملا کر بارود بنایا جاتا تھا۔

روایتی دوا کے طور پر کبریت کو جلد سے متعلقہ امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔

دور جدیدترميم

1777 میں کبریت کو بطور عنصر تسلیم کیا گیا جبکہ اس سے قبل یہ مرکب مانی جاتی تھی۔

1867 میں امریکی ریاستوں لوئیزیانا اور ٹیکساس میں کبریت کے زیرِزمین ذخائر دریافت ہوئے۔ ان کو نکالنے کے لیے عملِ فراش استعمال کیا جاتا تھا۔

اٹھارویں صدی کے اواخر میں کبریت کو فرنیچر کو دیدہ زیب بنانے کے لیے کچھ عرصہ تک استعمال کیا گیا تھا۔ پگھلی ہوئی کبریت کو بعض اوقات عمارت کی بنیادوں میں سوراخ کر کے ڈالا جاتا ہے جہاں فولادی پیچ ڈالے جانے مقصود ہوں۔ خالص حالت میں پسی ہوئی کبریت کو بطور ٹانک اور قبض کُش دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

استعمالترميم

کبریت کا استعمالترميم

کبریت کا تیزاب کبریت سے تیار ہوتا ہے۔ عالمی معیشتوں کے لیے کبریت کا تیزاب انتہائی اہم ہے۔ اس کی استعمال شدہ مقدار سے کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس تیزاب کو سب سے زیادہ کھاد کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ دیگر استعمال میں تیل کی صفائی، گندے پانی کی صفائی اور معدنیات کو نکالنا شامل ہیں۔

دیگر استعمالترميم

کبریت کے دیگر استعمالات میں پلاسٹک اور ریون کی تیاری شامل ہیں۔ ربڑ کی تیاری میں بھی کبریت استعمال ہوتی ہے۔ کاغذ کی بلیچنگ کے لیے بھی کبریت کے مرکب استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ واشنگ پاؤڈر بھی اس سے بنائے جاتے ہیں۔ کبریت کے مرکب جپسم کو پورٹ لینڈ سیمنٹ سیمنٹ اور کھادوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

بارود کی تیاری میں بھی کبریت استعمال ہوتی ہے۔

نفیس کیمیکلترميم

کبریت کے مرکبات کو ادویہ سازی، ڈائیاں بنانے اور زرعی کیمیکل بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ بہت ساری ادویات میں کبریت استعمال ہوتی ہے جس کی اولین مثال سلفا ڈرگز تھیں۔ بہت سارے بیکٹیریا کبریت کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پینسلین وغیرہ میں بھی کبریت استعمال ہوتی ہے۔

میگنیشیم سلفیٹ یعنی اپسم سالٹ کو قبض کُشا کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔

پھپھوند کُش اور کُرم کُشترميم

عنصری کبریت دنیا کی اولین پھپھوند کُش اور کُرم کُش ادویات میں شامل ہے۔ انگور، اسٹرابیری، سبزیوں اور دیگر فصلوں پر باریک پسی ہوئی کبریت چھڑکنے سے پھپھوندی سے دفاع ہو جاتا ہے۔

چیچڑ وغیرہ سے بچاؤ اور انہیں مارنے کے لیے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔

احتیاطیںترميم

عنصری کبریت زہریلی نہیں ہوتی لیکن جلنے پر یہ سلفر ڈائی آکسائیڈ بناتی ہے جو زہریلی ہوتی ہے۔ معمولی مقدار میں یہ گیس کھانوں میں استعمال کی جا سکتی ہے لیکن زیادہ استعمال سے پھیپھڑے، آنکھیں اور دیگر پٹھے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے جاندار جن میں پھیپھڑے نہیں ہوتے جیسا کہ پودے یا کیڑے مکوڑے، یہ ان میں بھی سانس لینے کے عمل کو روکتی ہے۔ سلفر ٹرائی آکسائیڈ اور سلفر ایسڈ اگر پانی سے مل جائیں تو بہت تیز تیزاب بناتے ہیں۔

بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں میں کوئلے اور تیل کو جلانے سے سلفر ڈائی آکسائیڈ بنتی ہے جو فضاء میں پانی اور آکسیجن سے مل کر کبریت کا تیزاب بناتی ہے۔ اس طرح تیزابی بارش ہوتی ہے جو زمین اور پانی میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ ان کارخانوں میں نئے قوانین کے مطابق یا تو تیل سے کبریت کو الگ کر کے پھر تیل کو جلاتے ہیں یا پھر گیس کو خارج ہونے سے قبل صاف کر دیا جاتا ہے۔

ہائیڈروجن سلفائیڈ زہریلی گیس ہے تاہم اس کی ناقابلِ برداشت سڑتے ہوئے انڈوں جیسی بو کی وجہ سے اتفاقی حادثات کا خطرہ انتہائی کم ہوتا ہے۔ شروع میں تو یہ بو انتہائی شدید محسوس ہوتی ہے لیکن اس بو کی وجہ سے قوتِ شامہ یعنی سونگھنے کی حس تیزی سے کام چھوڑ جاتی ہے۔ اس وجہ سے نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. Magnetic susceptibility of the elements and inorganic compounds, in Handbook of Chemistry and Physics (PDF). CRC press. 2000. ISBN 0849304814. 
  2. "Sulfur History". Georgiagulfsulfur.com. اخذ شدہ بتاریخ 12 ستمبر 2008.