ارطغرل غازی (سیریل)

ترکی سیزن

ارطغرل غازی (دیریلش: ارطغرل) جمہوریہ ترکی میں سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی 1 پر نشر ہونے والا سیریل ہے۔ جس کی مفبولیت کی وجہ سے یہ کئی ممالک میں ترجمے کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔

ارطغرل غازی
Diriliş title card.png
نوعیتتاریخی فکشن
مہم
تخلیق کارمحمد بوزداغ
ہدایاتمتین کنائی
نمایاں اداکارانگین آلتان دوزیاتان
موسیقارزینب آلاسیا
نشرترکی
زبانترک
تعدادِ دور5
اقساط150 (اقساط کی فہرست)
تیاری
عملی پیشکشکمال تقدن
مقامریوا، استنبول، ترکی
دورانیہ115–125 منٹ
پروڈکشن ادارہتقدن فلم
نشریات
چینلٹی آر ٹی 4کے
تصویری قسم1080i (16:9 ایچ ڈی ٹی وی) الٹرا ہائی ڈیفینیشن ٹیلی ویژن
صوتی قسم5.1 سراؤنڈ ساؤنڈ
10 دسمبر 2014ء (2014ء-12-10) – 29 مئی 2019
اثرات
اگلاعثمان غازی (سیریل)
بیرونی روابط
ویب سائٹ
پروڈکشن ویب سائٹ

تاریخی پس منظر

زیر نظر ڈراما سلطنت عثمانیہ (موجودہ ترکی) کی اس عظیم شخصیت کے بارے میں ہے جو سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد تھے۔ ان کا نام ارطغرل تھا اور انہيں غازی ارطغرل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ 1230ء سے 1281ء تک کا تھا۔ اور یہ ایک خانہ بدوش قبیلہ قائی کے سردار تھے[1]۔ ان کے والد سلیمان شاہ تھے۔

ڈراما ارطغرل کے پانچ سیزن ہیں جس کی جملہ اقساط کی تعداد 157 ہے۔ ہر قسط کا دورانیہ دو گھنٹے ہے۔ ارطغرل اپنی کہانی، اپنی تیاری اور اداکاری کے اعتبار سے ایک شاہکار ہے۔ ڈراما ارطغرل ترکی کے خانہ بدوش قبیلے قائی کی کہانی ہے۔جس کے مطابق قائی قبیلہ ایک جنگجو قبیلہ ہے جو ایک طرف بے رحم موسموں کے نشانے پر ہے اور دوسری جانب منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہے۔ ہمت و جرات کی یہ عجیب داستان ہے کہ چرواہوں کا یہ خانہ بدوش قبیلہ جو جاڑے کے بے رحم موسم میں قحط سے بچنے کے لیے حلب کے امیر سے ایک زرخیز چراگاہ میں قیام پزیر ہونے کی اجازت مانگ رہا ہوتا ہے آگے چل کر ایک ایسی عظیم سلطنت کی بنیاد رکھ دیتا ہے جو آٹھ سو سال قائم رہتی ہے۔ ارطغرل قائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ کا بیٹا ہے۔ وہ منگولوں سے بھی لڑتا ہے اور صلیبیوں سے بھی۔ وہ اوغوز ترک قبائل کو یوں ایک لڑی میں سمو دیتا ہے کہ پھر چرواہوں کے اس قبیلے کی ایک اپنی سلطنت ہوتی ہے اور ارطغرل کا بیٹا عثمان اس سلطنت عثمانیہ کا پہلا بادشاہ ہوتا ہے۔

کہانی

پہلا سیزن

کہانی کی شروعات اوغوز ترک نسل کے قائی قبیلہ کی ہجرت کے منظر سے ہوتی ہے جب یہ قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے دوران میں ہجرت پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ 400 خیموں سے آباد یہ بستی اپنی نئی منزل کی تلاش میں تھی۔ یہ تیرہویں صدی کا زمانہ تھا۔ قحط کے مشکل وقت سے گزرنے کے بعد وہ ایک بہتر جگہ کی طرف ہجرت کرنے کا عزم کرتے ہیں جہاں وہ نئی زندگی کا آغاز کرسکیں۔ سلیمان شاہ قائی قبیلے کا سردار ہے۔ سلیمان شاہ کے چار بیٹے ہیں جن میں، گندوگدو (گلدارو)، سنگورتیکن (صارم)، ارتغل اور سب سے چھوٹا دوندار (ذوالجان) ہے۔ صارم کو منگولوں نے پکڑ لیا تھا اور وہ لاپتہ ہے، اسے مردہ سمجھا جاتا ہے، جس پر حائمہ خاتون (سلیمان شاہ کی بیوی) کو یقین نہیں ہے۔ اس کے دو بیٹے گلدارو اور ارتغل اس کے وفادار ہیں اور قبائلی امور میں حصہ لیتے ہیں۔ قبائلی امور میں بھر پور شرکت کے لیے ذوالجان کی ابھی عمر نہیں ہے۔ سلیمان شاہ کا ایک بیٹا ارتغل اکثر تین قریبی دوستوں بامسی (بابر)، دوہان (روشان) اور تورگت (نورگل) کے ساتھ شکار پر جاتا ہے۔ شکار کے دوران میں ان کا سامنا ٹیمپلرز سے ہوتا ہے جو تین قیدیوں کو لے کر جا رہے ہوتے ہیں۔ ارتغل اور اس کے دوست ٹیمپلرز کو مار دیتے ہیں اور ان تینوں قیدیوں ایک نوجوان لڑکی جس کا نام حلیمہ سلطان ہے، اس کے باپ شہزادہ نعمان اور اس کے بھائی لیعیت (شہیر) کی جانیں بچا لیتے ہیں جن کو پھانسی دی جانی تھی۔ ارتغل اور اس کے دوست ان بازیاب شدہ قیدیوں کی اصل شناخت (کہ ان کا تعلق سلجوقی سلطنت کے ایک عظیم گھرانے سے ہے) جانے بغیر ان کو اپنے قبیلے لے آتے ہیں۔ ایک بار پھر پکڑے جانے کے خوف نے حلیمہ اور اس کے اہل خانہ کو ان کی اصل شناخت ظاہر نہ کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ قبیلے میں حلیمہ اور اس کے اہل خانہ کی آمد سے قائی قبیلے کو نئی مشکلات آجاتی ہیں۔ سلجوق سلطنت حلیمہ اور اس کی فیملی کو واپس نہ کرنے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دیتی ہے اور ٹیمپلرز نے قیدیوں کو بچانے کا بدلہ لیا اور نورگل کو قید کر لیا جو بعد ازاں آزاد کروا لیا جاتا ہے۔ ان دھمکیوں کی وجہ سے کچھ خانہ بدوش افراد سلیمان شاہ کو ان مسائل سے بچنے میں ناقص قیادت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اس گروہ کی بے امنی سلیمان شاہ کے منہ بولے بھائی کردوغلو کی خواہش کے باعث ہے۔ کردوغلو کی خواہش سلیمان شاہ کو ہٹانے اور قائی قبیلے کے سردار کی حیثیت سے اپنا منصب سنبھالنا ہے۔ سلجان ہاتون (شہناز خاتون گلدارو کی بیوی) حلیمہ اور اس کی فیملی کے خلاف ہے لہٰذا وہ گوکچے ہاتون (روشنی خاتون)اور آئیکز (شاہینہ) سے سرگوشی کرتی ہے۔ بے امنی کو حل کرنے کی کوشش میں سلیمان شاہ ارتغل کو اپنے قبیلے کے لیے ایک نیا مقام تلاش کرنے کے مشن پر بھیجتا ہے۔ خاص طور پر وہ ارتغل اور اس کے تین ساتھیوں کو امیر حلب العزیز سے معاہدہ کرنے کے لیے حلب بھیجتا ہے جہاں اتغل کو پتہ چلتا ہے کہ امیر حلب کے محل میں صلیبی مسلمانوں کا روپ دھارے ہوئے کام کر رہے ہیں کو کہ اپنی چالوں سے ارتغل کو قید کروا دیتے ہیں لیکن وہ کچھ شیر دلوں کی مدد سے آزاد ہو جاتا ہے۔ شہزادہ نعمان اور اس کی بیٹی حلیمہ سلطان بھی حلب میں جاتے ہیں جہاں پر امیر حلب حلیمہ سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن حلیمہ سلطان عین نکاح کے وقت انکار کر دیتی ہے۔ بعد ازاں امیر حلب کو سچائی کا پتہ چل جاتا ہے اور وہ ارتغل سے معذرت کرتا ہے۔ کردوغلو کی غداری سامنے آ جاتی ہے اس کی گردن ارتغل کی تلوار اڑا دیتی ہے۔ جبکہ شہناز خاتون بھی توبہ تائب ہو جاتی ہے۔

دوسراسیزن

دوسرے سیزن میں ارتغل کو بایجو نویان کی سربراہی میں منگولوں کے سپاہی اپنے سربراہ تنکوت سے مل کر قید کرلیتے ہیں۔ دریں اثناء حائمہ خاتون کی سربراہی میں قائی قبیلہ نے دودورگا قبیلہ سے پناہ مانگی ہے، جس کی سربراہی حائمہ خاتون کا بھائی کورکوت بے (سردار خوشنود) کر رہا ہوتا ہے۔ ارتغل کا منگولوں سے فرار اور اس کے نتیجے میں اس کے قبیلے میں واپسی اس کے اور اس کے کزن توتیکین (تیمور خوشنود کا بیٹا جو دودورگا کے سپاہیوں کا سربراہ ہے) کے درمیان میں اندرونی تنازع پیدا کرتی ہے۔ خوشنود کی دوسری بیوی ایتولن (عالیہ خاتون) اس کی پیٹھ کے پیچھے پلان بناتی ہے تاکہ اس کا بھائی گومیشتکین (مہر دین) امیر سعدتین کوپیک کی مدد سے سردار بن سکے۔ بعد ازاں جب وہ حلیمہ خاتون اور شہناز خاتون پر حملہ کر رہی ہوتی ہے تو قائی سپاہی عبدالرحمن اسے قتل کر دیتا ہے۔ ارتغل کے طویل گمشدہ بھائی صارم کی آمد سے تناؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ سردار خوشنود کے قتل میں سہولت کار بننے کے جرم میں مہردین کی گردن ارتغل کی تلوار اڑا دیتی ہے۔ نویان تیمور اور روشنی خاتون کو شہید کر دیتا ہے۔ شہزادہ شہیر اور ذوالجان نویان کی قید میں آ جاتے ہیں لیکن بعد میں آزاد کروا لیے جاتے ہیں۔ نویان کو شکست دینے کے بعد قائی قبیلہ اناطولیہ کی مغربی سرحد پر ارتغل کے ساتھ شامل ہونے یا گلدارو اور صارم کے ساتھ رہنے کے درمیان میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ آخر میں ارتغل اس کے بھائی ذوالجان، حلیمہ سلطان اور حائمہ خاتون کے ساتھ 400 دیگر افراد نے بھی اناطولیہ کے مغربی کنارے کا سفر کیا اور باقی قائی قبیلے کو پیچھے چھوڑ دیا۔ راستے میں شہزادہ شہیر شہید ہو جاتا ہے۔

تیسرا سیزن

تیسرے سیزن میں ارتغل اناطولیہ کے مغربی خطے کے سب سے طاقتور چاوادر قبیلے کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرتا ہے۔ کیندار بے (سردار جاندار چاودار قبیلے کا سردار) اور اس کے بچے اورال، اصلیہان اور آلیار کی سربراہی میں چاودار تجارت میں بہت ہنر مند ہیں۔ تاہم اورال شیطانی ذہن کا لالچی انسان ہے اور اپنے والد کی جگہ سرداری کی تلاش میں ہے اور اس کے حصول کے لیے کچھ بھی کرتا ہے۔ ہانلی بازار پر ارتغل کی فتح کے بعد اورال کو ارتغل کی قالینوں کو جلانے، اس کے سپاہیوں کو شہید کرنے اور کاراچائیسار ( عیسائیوں کا قلعہ) کے گورنر کے قتل کے جرم میں اس کے کردار پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔ امیر سعدتین کوپیک کی مدد سے اورال کو رہا کیا گیا ہے اور وہ ترکوں کے ساتھ خونی جنگ کے خواہاں کاراچائیسار کے نئے کمانڈر وسیلوس سے مدد مانگ رہا ہے۔ ارتغل نے آلیار کے ساتھ مل کر اورال اور وسیلوس کو شکست دینے کا عزم کیا لیکن آلیار شہید ہو جاتا ہے۔ ارتغل کا بیٹا گوندوز پیدا ہوتا ہے اور بابر نے حیلینہ (مقتول گورنر کی بیٹی) سے شادی کی ہے جو بعد میں مسلمان ہو گئی اور اس کا نام حیلینہ سے تبدیل کر کے حفصہ خاتون رکھا جاتا ہے۔ چاودار کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ارتغل نے نورگل سے درخواست کی کہ وہ اصلیہان سے شادی کرے جو وہ قبول کرتا ہے۔ ارتغل کو سلطان علاؤالدین نے سردارِ اعلیٰ کا خطاب دیا ہے جو سعدتین کوپیک کو غصے میں پاگل کر دیتا ہے اور وہ ارتغل کو تباہ کرنے کا عہد کرتا ہے۔ کاراچائیسار کے نئے کمانڈر آرس کے ساتھ مل کر کوپیک نے ارتغل کے لیے ایک جال بچھایا اور بظاہر سیزن کے اختتام پر اسے شہید کر دیا۔

اقساط

دیریلش: ارطغرل دسمبر 2014ء کو ترکی کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونا شروع ہوا۔ یہ اس ڈراما کا پہلا سیزن تھا جو 26 اقساط پر مشتمل تھا اور ہفتہ وار جاری رہ کر چھ ماہ بعد 17 جون 2015ء کو اختتام پزیر ہوا۔

اس کی کامیابی اور شہرت نے دوسرے سیزن کا سفر شروع کیا جو 30 ستمبر 2015ء سے شروع ہوا، 35 سنسنی خیز اقساط کے ساتھ یہ سفر جون 2016ء تک جاری رہا۔

اس کے بعد تیسرا سیزن اکتوبر 2016ء سے جون 2017ء تک جاری رہا۔ اس کی مقبولیت نے ترکی اور پھر آہستہ آہستہ ترکی سے باہر بھی جھنڈے گاڑنا شروع کر دیے تھے۔

چوتھا سیزن 30 اقساط کے ساتھ اکتوبر 2017ء سے جون 2018ء تک پھر پانچواں اور آخری سیزن نومبر 2018ء سے 29 اقساط کے ساتھ جون 2019ء میں ختم ہوا۔

سیزن اقساط پہلی بار نشریات
پہلی قسط آخری قسط
1 26 10 دسمبر 2014ء (2014ء-12-10) 17 جون 2015 (2015-06-17)
2 35 30 ستمبر 2015ء (2015ء-09-30) 8 جون 2016 (2016-06-08)
3 30 26 اکتوبر 2016ء (2016ء-10-26) 14 جون 2017 (2017-06-14)
4 30 25 اکتوبر 2017ء (2017ء-10-25) 6 جون 2018 (2018-06-06)
5 29 7 نومبر 2018ء (2018ء-11-07) 29 مئی 2019 (2019-05-29)[2]

کردار

تاریخی کردار (یا افسانوی کردار ) اداکاری تفصیل
غازی ارطغرل انگین آلتان دوزیاتان ڈرامے کا مرکزی کردار اور ہیرو، عثمانیہ سلطنت کی بنیاد رکھنے والا قائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ اور حائمہ خاتون کا چھوٹا بیٹا، تاریخ کا ابھرتا کردار
سلیمان شاہ سردار کوگخان قائی قبیلے کا سردار، ارطغرل کا باپ، عثمان اول کا دادا
حائمہ خاتون خولیا دارجان سلیمان شاہ کی بیوی، غازی ارطغرل اور گوندوگلو کی ماں اور عثمان اول کی دادی۔
گوندوغدو قاآن تاشانیر سلیمان شاہ کا بڑا بیٹا، غازی ارطغرل کا بڑا بھائی۔
دوندار بے آردا انارت (سیزن 1-2)

اور باتوحان کاراجاکایا (سیزن 3-4)

سلیمان شاہ اور حائمہ خاتون کا سب سے چھوٹا بیٹا۔ ارطغرل، گندوغدو(گلدارو)، سنگرتیکن(صارم) کا چھوٹا بھائی۔ گندوز، ساوچی، عثمان، سلیمان، التیکن کا چچا۔
حلیمہ خاتون اسرا بیلگیچ ڈرامے کی مرکزی کردار اور ہیروئن، غازی ارطغرل کی بیوی اور عثمان اول کی ماں۔ اس کا تعلق سلجوق خاندان سے تھا اور یہ شہزادہ نعمان کی بیٹی تھی۔
ابن عربی عثمان سویقوت اندلسی صوفی بزرگ، ایک روحانی شخصیت جو ارطغرل اور اس کے ساتھیوں کی قدم قدم پر رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔
تیتوش سردار دینز صلیبی جنگجوؤں کا سردار، جو غازی ارطغرل کے ہاتھوں اپنے چھوٹے بھائی کا ہلاکت کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔
ترگت سپاہی(الپ) جنگیز جوشقون ارطغرل کے جنگ و امن کے دور کا ساتھی۔
آیقیز خندہ صوباشی حائمہ خاتون کی منہ بولی بیٹی اور ترگت کی بیوی
سیلجان خاتون دیدم بالچین گل دارو کی بیوی، سلیمان شاہ اور حلیمہ خاتون کی بہو۔
دمیر محمد چیوک قائی قبیلے کا لوہار اور سردار سلیمان شاہ کا قریبی دوست۔
آرتک بے آئیبرک پیکجان دودرگا قبیلے کا ماہر طبیب۔ایک عقلمند اور ہوشیار سردار۔وہ مغربی سرحدوں کی طرف ہجرت میں ارطغرل اور قائی قبیلے کے ساتھ آ گیا۔وہ کاراجا حصار اور ہانلی بازار کے انتظام کرنے میں ارطغرل کا معاونِ خاص بن گیا۔وہ ارطغرل اور اس کے مقصد کا بہت وفادار تھا۔باتور سپاہی نے اسے مستقل اندھا کر دیا جب بیبولات بے اور امیر بہاوؤالدین گمشدہ خزانے کی تلاش کر رہے تھے۔
قُرط اوغلو خاقان وانلی سردار سلیمان شاہ کا بھائی اور قبائلی معزز۔ ایک خود غرض شخص۔
قَرہ طویغار جان قہرمان ایک سلجوق سردار سلطان علا الدین کے لیے قائی قبیلے کے خلاف کام کرتا ہے۔
بامسی نور الدین سونمز ارطغرل کا قریبی دوست۔ ترگت اور روشان کا ساتھی۔
روشان جاوید چتین گونر ارطغرل کا قریبی دوست۔ بابر اور ترگت کا ساتھی۔
افشین بیگ طورغود تونچ آلپ سلجوق سلطنت کا ایک کماندار۔
گوکچے بورجو کیراتلی سلجان خاتون کی چھوٹی بہن۔ ارطغرل کو پسند کرتی ہے۔۔
شہزادہ نعمان سیدات سوتک سلجوق سلطنت کا جلاوطن شہزادہ۔ حلیمہ خاتون کا باپ۔۔
استاد اعظم - پیتروچو لوند اوکتم صلیبی جنگجوؤں کا رہنما۔ جس کی زندگی کا مقصد مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوا کر یروشلم واپس حاصل کرنا ہے۔۔
یغیت براق تمیز شہزادہ نعمان کا بیٹا اور حلیمہ خاتون کا چھوٹا بھائی۔
امیر العزیز محمد امین اینجی حلب کا ایوبی سلطان۔
شہاب الدین گوخان آتالائے سلطان العزیز کا ماموں۔
اکچا کوجہ حمید دمیر قائی معزز اور سردار سلیمان شاہ کا گہرا دوست۔
الیاس فقیہہ فخری اوزتزکان ابن عربی کے مرید اور ارطغرل کے ساتھی۔
گندوز سپاہی(الپ) ژامان تومن(سیزن 3-4)

اور عارف دیرن(سیزن 5)

ارطغرل اور حلیمہ سلطان کا بڑا بیٹا۔عثمان، ساوچی کا بڑا بھائی۔ایرن، تیکفور کی بیٹی کے عشق میں مبتلا تھا۔
ساوچی بے کرم بیکش اوغلو ارطغرل اور حلیمہ کا دوسرا بیٹا۔گندوز سپاہی(الپ) اور عثمان غازی کا بھائی۔سپاہیانہ فنون کی بجائے سائنسی علوم میں دلچسپی لیتا تھا۔وہ سائنس میں دلچسپی کی وجہ سے زیادہ تر وقت آرتک(عارف) بے کیساتھ گزارتا تھا۔

نشریات

ترکی

ترکی میں پیش کیے جانے والے اس ڈراما کے خالق محمد بوزداغ (ترکی: Mehmet Bozdağ) اور کمال تقدن (ترکی: Kemal Tekden) ہیں۔

پاکستان

 
پی وی ٹی کا اشتہار

اس ڈرامے کے دنیا کے کئی ممالک میں تراجم ہو ئے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس ڈرامے کا اردو ترجمہ ویژول ورلڈ کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ ڈبنگ ڈائریکٹر سلیمان شیخ ہیں جو اس سے پہلے بھی کئی ترکی ڈرامے جیسے کارادئی اور میرا سلطان جیسے بڑے پراجیکٹ کر چکے ہیں۔

پاکستان میں یہ ڈراما اردو میں چینل ہم ستارے پر 24 اگست 2015ء سے پیش کیا گیا۔ ہفتے میں اس کی تین اقساط پیر سے بدھ کی شب 9 بجے نشر ہوتی رہی ہیں۔ جب کہ اگلے روز تین وقتوں میں نشر مکرر پیش کی جاتی رہی ہیں۔

پہلے سیزن کو اردو ترجمے میں پیش کرنے کے بعد ہم ستارے نے اس کو روک دیا، جس کے بعد اردو سبٹائیٹلز کے ساتھ اس کے سیزن 2 ، 3 اور 4 کو جاری رکھنے کا بیڑا  GIVEME5  کی ٹیم نے اٹھایا۔

پاکستان کے سرکاری چینل پی ٹی وی ہوم [3] نے بھی اس ڈرامے کی ڈبنگ شروع کردی ہےاس کی پہلی قسط یکم رمضان المبارک 25 اپریل 2020ء رات 8بجے نشر کی گئی۔ پی ٹی وی ہوم نے اس سیریز کا اردو نام ارطغرل غازی رکھا ہے اور ابتدائی تعارف ایسے کروایا ہے کہ:

ارطغرل غازی تیرویں صدی کے اناطولیہ (ترکی) کی تاریخ سے ماخوذ ایک عظیم الشان داستان ہے۔کائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ کے بیٹے ارطغرل غازی نے اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنی جان و مال اور عزیز و اقارب کو خطرے میں ڈال کر اپنے جنگجوؤں کے ساتھ مختلف ادوار میں صلیبیوں، منگولوں، سلجوق سلطنت میں موجود غداروں اور دیگر اسلام دشمن عناصر کو شکست دی۔1280 میں ارطغرل کی وفات کے بعد اس کے بیٹے عثمان نے عظیم سلطنت عثمانیہ کی داغ بیل ڈالی اور یوں خانہ بدوشوں کے اس قبیلے نے تین براعظموں پر چھ سو سال تک حکومت کی۔ یہ ڈراما سیریل تاریخی کرداروں اور واقعات سے ماخوذ ہے۔

بین الاقوامی نشریات

ملک نیٹ ورک سیریز پریمیئر
  افغانستان طلوع ٹی وی ستمبر 2015
  البانیا ٹی وی کلان اکتوبر 2015
  الجزائر ایکوروک ٹی وی اکتوبر 2017
  مشرق وسطی اور شمالی افریقا قطر ٹی وی
النور ٹی وی
الیرموک ٹی وی
دعوہ چینل
4شباب
جنوری 2017
  آذربائیجان اے ٹی وی دسمبر 2015
  بنگلادیش ایکوشی ٹیلیویژن
ماسرنگا ٹیلی ویژن
ستمبر، 2016
اپریل 2017
  بوسنیا و ہرزیگووینا حیات ٹی وی اگست 2018
  برازیل نیٹ فلکس ستمبر، 2016
اپریل 2018
  کینیڈا نیٹ فلکس جون، 2019
  چلی نیشنل ٹیلی ویژن آف چلی فروری 2018
  انڈونیشیا ٹرانس7 اگست 2015
  اردن عمان ٹی وی اکتوبر 2018
  قازقستان چینل 31
قازقستان
مارچ 2016
2018
  پاکستان ہم ستارے
نیٹ فلکس
پی ٹی وی ہوم
اگست 2015
جون 2019
اپریل 2020
  صومالیہ ایم سی ٹی وی مئی 2019
  جنوبی افریقا نیٹ فلکس اور آئی ٹی وی، ڈی ایس ٹی وی نومبر 2018
  ترک جمہوریہ شمالی قبرص ٹی آر ٹی 1 دسمبر 2014
  تونس حنی بعل-ٹی وی اکتوبر 2017
  مملکت متحدہ نیٹ فلکس
ErtugrulOnline.co.uk
نومبر 2018
  ریاستہائے متحدہ نیٹ فلکس جون، 2017
  ازبکستان زیڈ او آر ٹی وی جون 2018
  وینیزویلا وینزویلا ٹیلی ویژن
ٹی وی ای ایس
نومبر 2018

حوالہ جات

  1. "Urdu Real Facts". 
  2. https://www.trhaberler.com/magazin/dirilis-ertugrul-ne-zaman-bitiyor-iste-dirilis-ertugrulun-final-yapacagi-tarih-h377974.html
  3. "PTV start streaming of Dirilis Ertugrul". Zanks News.