مرکزی مینیو کھولیں
سرتاج عزیز
(انگریزی میں: Sartaj Aziz خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Sartaj Aziz (cropped).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 7 فروری 1929 (90 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مردان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی اسلامیہ کالج لاہور
جون ایف کینیڈذی سرکاری اسکول
جامعہ پنجاب
ہارورڈ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سفارت کار،  ماہر معاشیات،  سیاست دان،  جنگ مخالف کارکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر


سرتاج عزیز7فروری 1929ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور، ہیلے کالج آف کامرس اور دیگر تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ 1949ء میں پنجاب یونیورسٹی سے اقتصادیات کے شعبے میں ڈگری حاصل کی۔ ہارورڈ یونیورسٹی امریکا سے پبلک ایڈمنسٹریشن (اکنامک ڈویلپمنٹ) میں ماسٹر کیا۔ انہوں نے 1950ء میں حکومتی ملازمت اختیار کی اور مختلف عہدوں پر کام کیا۔ 1967ء میں پلاننگ کمیشن میں جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیے۔ سرتاج عزیز کو بین الاقوامی ممتاز عہدوں پر بھی متمکن رہنے کا موقع ملا ۔1971ء سے 1984ء تک اقوام متحدہ،ورلڈ فوڈ کونسل، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچر ڈویلپمنٹ اور دیگر اداروں میں کام کیا۔

فہرست

سیاست میں حصہترميم

سرتاج عزیز نے 1984ء میں وطن واپسی پر پاکستانی سیاست میں حصہ لیا اور وزیر مملکت برائے خوراک و زراعت کی حیثیت سے وفاقی کابینہ میں شامل ہوئے۔ وہ1985ء اور 1994ء میں‌خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ اکتوبر1985ء میں وزیراعظم کے خوراک و زراعت کے خصوصی مشیر اور جنوری 1986ء میں وفاقی وزیر خوراک ،زراعت و دیہی ترقی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اگست 1990ء سے جولائی1993ء تک وفاقی وزیر خزانہ، منصوبہ بندی و معاشی امور کے وزیر بھی رہے ۔

جولائی 1993ء ہی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ 1998ء سے 1999ء تک وزیر اعظم میاں نواز شریف کی کابینہ میں وزیر خارجہ جیسے اہم منصب پر فائز رہے۔ سرتاج عزیز سینٹ کی خارجہ ،کشمیر وشمالی علاقہ جات کے امور کے علاوہ خزانہ ،معاشی امور اور خوراک و زراعت کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین بھی رہے ۔

اعزازاتترميم

سرتاج عزیز نے تحریک پاکستان میں بھی حصہ لیا۔46-1945ء کے الیکشن می‌مسلم لیگ کے لیے کام کرنے پر انہیں مجاہد پاکستان کا سرٹیفکیٹ بھی ملا۔ انہوں نے مارچ 1946ء میں قائد اعظم محمد علی جناح‌کے ہاتھوں اسلامیہ کالج لاہور میں اپنی کلاس میں اول آنے پر انعام بھی حاصل کیا۔ 1959 اور 1967ء میں منصوبہ بندی و ترقی کے شعبہ میں گراں قدر خدمات سر انجام دینے پر حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہء پاکستان اور ستارہ خدمت سے بھی نوازے گئے ۔

سرتاج عزیز مسلم لیگ ن کی سنٹرل کمیٹی کے رکن ہیں تاہم اب پارٹی میں زیادہ سرگرم نہیں ہیں۔ اب بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور سے بطور وائس چانسلر بھی منسلک ہیں۔ 80 سالہ زندگی میں بدعنوانی کا ایک دھبہ بھی ان کے دامن پر نہیں لگا۔ یہ بات انہیں دوسرے سیاست دانوں سے ممتاز کرتی ہے ۔

سرتاج عزیز نے پاکستان کی تاریخ اور معاشی موضوعات پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ پر ان کی کتاب "Between Drems and Realities" ایچی سن کالج کے نصاب میں شامل ہے۔ ممتاز ناول نگار نثار عزیز بٹ ان کی بڑی بہن ہیں۔[2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6fx828m — بنام: Sartaj Aziz — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. سنڈے ایکپسیریس، روزنامہ ایکسپریس۔ 13 دسمبر 2009ء
سیاسی عہدے
ماقبل 
بینظیر بھٹو
وزیر خزانہ پاکستان
1990 – 1993
مابعد 
سید بابر علی
ماقبل 
شاہد جاوید برکی
دوسری مدت
1997 – 1998
مابعد 
اسحاق ڈار
ماقبل 
گوہر ایوب خان
وزیر خارجہ پاکستان
1998 – 1999
مابعد 
عبدالستار