مرکزی مینیو کھولیں

نائف بن عبدالعزیز آل سعود

نائف بن عبد العزیز آل سعود(عربی: نايف بن عبد العزيز آل سعود) (1933  تا 16 جون 2012، ) سعودی عرب کے ولی عہد اور 2011ء سے وفات تک پہلے نائب وزیر اعظم تھے۔ وہ 1975ء سے 2012ء تک سعودی عرب کے وزیر داخلہ بھی رہے۔

نائف بن عبد العزیز آل سعود
(عربی: نايف بن عبد العزيز آل سعود)
Nayef bin AbdulAziz.jpg
سعودی عرب کے ولی عہد
دور 27 اکتوبر 2011 – 16 جون 2012ء
پیشرو سلطان بن عبدالعزیز
سعودی وزیر داخلہ
قلمدان سنبھالا 1975ء – 16 جون 2012ء
پیشرو فہد بن عبدالعزیز
شریک حیات ماہا السدیری
نسل شہزادی جواہر
شہزادہ نورہ
شہزادہ سعود
شہزادہ محمد
خاندان بیت سعود
والد عبدالعزیز ابن سعود
والدہ حصہ بنت احمد السدیری
پیدائش 1933
طائف، سعودی عرب
وفات جون 16، 2012(2012-06-16) (عمر 77-78)
جنیوا, سوئٹزرلینڈ
مذہب اسلام

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

نائف بن عبد العزیز سعودی عرب کے تاریخ شہر طائف میں 1933ء میں عبدالعزیز ابن سعود اور حصہ بنت احمد السدیری (عربی: حصة بنت أحمد السديري) کے ہاں پیدا ہوئے۔ اس لیے وہ سدیری برادران میں سے ایک تھے۔ وہ شاہ عبد العزیز کے تئیسویں بیٹے تھے۔[1]

شہزادہ نائف نے ابتدائی تعلیم ممتاز اسلامی علما سے "دی پرنسس سکول" سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیاسیات اور قومی سلامتی کی تعلیم بھی حاصل کی۔[2]

ابتدائی تجربہترميم

1952ء سے 1953ء تک شہزادہ نائف صوبہ ریاض کے نائب گورنر بھے رہے۔ 1953ء میں وہ صوبہ کے گورنر بنا دیے گئے لیکن انہوں نے اس عہدے پر صرف ایک سال تک کام کیا۔[3] 1970ء میں شاہ فیصل نے مشترکہ طور پر انہیں نائب وزیر داخلہ اور داخلی ریاستی معاملات کا وزیر نامزد کر دیا۔[4]

ذاتی زندگیترميم

شہزادہ نائف نے تین شادیاں کیں۔ ان کی پہلی بیوی "نورہ الفراج السباعی" تھیں لیکن اس کو شہزادہ نے طلاق دے دی۔ اس بیوی سے ان کی ایک بیٹی "جواہر" تھی جن کی شادی شاہ فہد مرحوم کے بیٹے سے ہوئی، جو مشرقی صوبے کے گورنر تھے۔[5] الجواہرہ بنت عبد العزیز بن مساید الجلووی ان کی دوسری بیوی تھی۔ اس بیوی سے ان کی اولاد محمد بن نائف، نورہ، سعود بن نائف اور سارہ ہوئی۔

ماہا بنت محمد بن احمد السدیری ان کی تیسری بیوی تھی اسے بھی انہوں نے طلاق دے دی۔ اس بیوی سے ان کی اولاد میں نوف، نواف، مشعال، حیفہ اور فہد تھے۔[6]

بیماری اور وفاتترميم

شہزادہ نائف ذیابیطس اور تصلب العظام (ہڈی کی بڑھتی ہوئی سختی کی بیماری) میں مبتلا تھے۔[7] اس کے علاوہ وہ سرطان میں بھی مبتلا تھے۔

مارچ 2012ء میں وہ نجی چھٹیوں پر مراکش گئے[8]، جہاں انہوں نے اپنا طبی معائنہ کروایا، ۔[9] کچھ عرصہ الجزائر رہنے کے بعد اپریل 2012ء میں وہ واپس سعودی عرب چلے گئے۔[10]

تاہم، وہ 26 مئی 2012ء کو دوبارہ [11] طبی معائنے کے لیے سعودی عرب سے رخصت ہوئے لیکن کسی کو معلوم نہ ہوا کہ وہ طبی معائنے کے لیے کہاں گئے ہیں۔ ان کے بھائی اور سعودی نائب وزیر داخلہ شہزادہ احمد نے سعودی وسیط میں "الوطن" کے ذریعے 3 جون 2012ء کو بتایا کہ شہزادہ نائف کی صحت اچھی ہے اورہ وہ جلد واپس سعودی عرب آ جائیں گے۔[10] 13 جون 2012ء کو "عریبین بزنس" نے خبر دی کہ شہزادہ نائف بخیریت واپس سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ .[12]

16 جون 2012ء کو سعودی عرب کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر چار بحے (جی ایم ٹی +3) سعودی ریاستی بعید نما پر یہ خبر نشر ہوئی کہ شہزادہ نائف انتقال کر گئے ہیں۔[13] رویٹرز کے مطابق ان کا انتقال جنیوا میں ہوا۔[14] شاہی فرمان کے مطابق ان کی نماز جنازہ 17 جون 2012ء[15] کو مسجد الحرام، مکہ المکرمہ میں نماز مغرب کے بعد شام 6:30 پر ادا کی جائے گی۔[15]

حوالہ جاتترميم

  1. "Prince Nayef Bin Abdulaziz biography and history"۔ Al Imam Muhammad ibn Saud Islamic University۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 مئی 2012۔
  2. "Profile: Prince Nayef bin Abdulaziz al Saud"۔ BBC۔ 31 اکتوبر 2011۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 جون 2012۔
  3. "His Royal Highness Prince Naif bin Abduaziz Al-Saud"۔ Ministry of Foreign Affiars۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 مئی 2012۔
  4. Joseph A. Kéchichian (جون 2009)۔ "Refining the Saudi "Will to Power"" (پی‌ڈی‌ایف)۔ NUS Middle East Institute۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2012۔
  5. "Family Tree of Muhammad bin Fahd bin Abdulaziz al Saud"۔ Datarabia۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 مئی 2012۔
  6. Caryle Murphy (5 جون 2009)۔ "The heir apparent"۔ Global Post۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مئی 2012۔
  7. "The royal house is rattled too"۔ The Economist۔ 3 مارچ 2011۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اکتوبر 2011۔
  8. "Crown Prince leaves Riyadh on private vacation"۔ Ministry of Interior۔ 3 مارچ 2012۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2012۔ |archive-url= is malformed: save command (معاونت)
  9. "Crown Prince Naif bin Abdulaziz Arrives in Morocco"۔ Gulf in the Media۔ 2 مارچ 2012۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 مارچ 2012۔
  10. ^ ا ب "Saudi crown prince in 'good health'"۔ AFP۔ 3 جون 2012۔ مورخہ 24 جنوری 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جون 2012۔
  11. "Saudi crown prince leaves for more medical tests, report says"۔ Fox News۔ 26 مئی 2012۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 مئی 2012۔
  12. Sara Anabtawi (13 جون 2012)۔ "Saudi Crown Prince receives visitors"۔ Arabian Business۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2012۔
  13. "Saudi crown prince Nayef dead: state TV"۔ The Daily Star۔ 16 جون 2012۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جون 2012۔
  14. "Saudi Crown Prince Nayef, next in line to throne, dies"۔ Reuters۔ 16 June 2012۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 JUne 2012۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  15. ^ ا ب "Funeral prayers for Saudi heir to be held Sunday"۔ Reuters۔ 16 جون 2012۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جون 2012۔

بیرونی روابطترميم

سیاسی عہدے
ماقبل 
سلطان بن عبدالعزیز السعود
گورنر ریاض
1953ء–1955ء
مابعد 
سلمان بن عبدالعزیز
ماقبل 
فہد بن عبدالعزیز السعود
سعودی وزیر داخلہ
1975ء–2012ء
مابعد 
خالی
ماقبل 
سلطان بن عبدالعزیز السعود
دوسرے نائب وزیراعظم سعودی عرب
مارچ 2009ء – 27 اکتوبر 2011ء
مابعد 
خالی
ماقبل 
سلطان بن عبدالعزیز السعود
ولی عہد اور پہلے نائب وزیراعظم سعودی عرب
27 اکتوبر 2011ء – 16 جون 2012ء
مابعد 
خالی