البارئ

الباری اسماء الحسنی میں شامل ایک نام۔ ٹھیک ٹھیک ‘ بغیر تفاوت کے ایجاد کرنے والا۔ ٹھیک ٹھیک بنانے والا) ایجاد کرنے والا

معنیترميم

الباری کے معنی بھی پیدا کرنے والے کے ہیں لیکن اس میں ایجاد کا پہلو نمایاں ہے یعنی کسی سابقہ مثال کے بغیر پیدا کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کی خلاقیت کا کمال یہ ہے کہ اس نے کائنات کی تمام چیزیں اس طرح پیدا کیں کہ کسی چیز کا بھی کوئی نمونہ پہلے سے موجود نہیں تھا۔ ہر چیز اس کی ایجاد اور اختراع ہے۔ برأ بمعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا، جامہ خلقت پہنانا، کسی چیز کا مادہ بھی وجود میں لانا پھر اس سے تخلیق کرنا یا بغیر مادہ کے تخلیق کرنا اور یہ صفت صرف اللہ کی ہے۔ دوسرا کوئی باری نہیں ہو سکتا۔[1] بَرَأَ جس کا اسم فاعل باری ہے عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں اس کے معنی پیدا کرنے کے ہیں۔ عبرانی زبان میں جو تورات موجود ہے اس کی پہلی ہی آیت میں بَرَأَ کا لفظ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “

  •   هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاء الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ    

وہ اللہ ہی خالق ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

  •   إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِيمُ    

بے شک تیرا رب ہی ایک مخلوق کے بعد دوسری مخلوق پیدا کرتا ہے۔ اور وہ مکمل علم رکھتا ہے۔

حوالہ جاتترميم

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر تیسیر القرآن عبد الرحمن کیلانی
اسماء الحسنیٰ
اللہالرحمٰنالرحیمالملکالقدوسالسلامالمؤمنالمہیمنالعزیزالجبارالمتکبرالخالقالباریالمصورالغفارالقہارالوہابالرزاقالفتاحالعلیمالقابضالباسطالخافضالرافعالمعزالمذلالسمیعالبصیرالحکمالعدلاللطیفالخبیرالحلیمالعظیمالغفورالشکورالعلیالکبیرالحفیظالمقیتالحسیبالجلیلالکریمالرقیبالمجیبالواسعالحکیمالودودالمجیدالباعثالشہیدالحقالوکیلالقویالمتیناولیالحمیدالمحصیالمبدیالمعیدالمحییالممیتالحیالقیومالواجدالماجدالواحدالصمدالقادرالمقتدرالمقدمالمؤخرالاولالآخرالظاہرالباطنالوالیالمتعالالبرالتوابالمنتقمالعفوالرؤفالمقسطالجامعالغنیالمغنیالمانعالضارالنافعالنورالہادیالبدیعالباقیالوارثالرشیدالصبورمالک الملکذو الجلال و الاکرام
یہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فہرست ہے