القدوس

القدوس اسماء الحسنی میں شامل ایک نام۔ تقدیس والا ہر عیب سے بالکل پاک اور ان تمام باتوں سے جو اس کی شان کے مناسب نہیں ‘ قطعاً منزہ۔[1]

معانیترميم

التقدیس کے معنی اس تطہیرالہٰی کے ہیں جو آیت تطہیر (الاحزاب/ 33) اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے میں مذکور ہے۔ کہ اس کے معنی تطہیر بمعنی ازالہ نجاست محسوسہ کے نہیں ہے اور آیت کریمہ ( البقرة/ 30) اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔ کے معنی یہ ہیں کہ ہم تیرے حکم کی بجا آوری میں اشیاء کو پاک وصاف کرتے ہیں اور آیت کریمہ : (النحل/ 102) کہدو کہ اس کو روح القدس لے کر نازل ہوئے ہیں۔ میں روح القدس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قدس یعنی قرآن حکمت اور فیض الہی کے کر نازل ہوتے تھے۔ جس سے نفوس انسانی کی تطہیر ہوتی ہے۔ اور البیت المقدس کو بیت مقدس اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ نجاست شرک سے پاک وصاف ہے ۔[2]

صفت قدوسترميم

القدوس ': المنزۃ من کل نقص والطاھر من کل عیب۔ جو ہر نقص سے منزہ اور ہر عیب سے پاک ہو۔[3]

قرآن میں ذکرترميم

قرآن میں القدوس 2 بار آیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

  •   هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ    

وہ اللہ وہی ہے جس کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ بادشاہ ہے تقدیس والا ہے۔

  •   يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ    

اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے، جو بادشاہ ہے، نہایت مقدس ہے، زبردست ہے، حکمت والا ہے
القدوس سے مراد۔ بابرکت۔ طاہر‘ ہر عیب سے پاک اور جس کا کوئی ہمسر‘ حصہ دار‘ مشابہ‘ اس کی مانند یا اس کی طرح کوئی نہ ہو۔

حدیث میں ذکرترميم

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تہجد کی نماز میں سجدے کی حالت میں یہ تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ (عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ أَنَّ عَاءِشَۃَ نَبَّأَتْہُ أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ یَقُولُ فِی رُکُوعِہِ وَسُجُودِہِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَءِکَۃِ وَالرُّوحِ ) [4] ” حضرت مطرف بن عبد اللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھے عائشہ صدیقہ نے بتایا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع اور سجدے میں یہ دعاپڑھا کرتے تھے۔ ملائکہ اور جبرائیل امین کے رب ہر قسم کی تسبیح و تقدیس تیرے لیے ہے۔ “

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی
  2. مفردات القرآن امام راغب اصفہانی
  3. ضیاء القرآن پیر کرم شاہ
  4. صحیح مسلم : باب مایقال فی الرکوع
اسماء الحسنیٰ
اللہالرحمٰنالرحیمالملکالقدوسالسلامالمؤمنالمہیمنالعزیزالجبارالمتکبرالخالقالباریالمصورالغفارالقہارالوہابالرزاقالفتاحالعلیمالقابضالباسطالخافضالرافعالمعزالمذلالسمیعالبصیرالحکمالعدلاللطیفالخبیرالحلیمالعظیمالغفورالشکورالعلیالکبیرالحفیظالمقیتالحسیبالجلیلالکریمالرقیبالمجیبالواسعالحکیمالودودالمجیدالباعثالشہیدالحقالوکیلالقویالمتیناولیالحمیدالمحصیالمبدیالمعیدالمحییالممیتالحیالقیومالواجدالماجدالواحدالصمدالقادرالمقتدرالمقدمالمؤخرالاولالآخرالظاہرالباطنالوالیالمتعالالبرالتوابالمنتقمالعفوالرؤفالمقسطالجامعالغنیالمغنیالمانعالضارالنافعالنورالہادیالبدیعالباقیالوارثالرشیدالصبورمالک الملکذو الجلال و الاکرام
یہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فہرست ہے