ذوالجلال والاکرام عظمت اور بزرگی والا۔ اسماء الحسنیٰ میں سے ایک نام ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے چنانچہ یہ ذوالجلال والاکرام صرف اسی کو کہا جاتا ہے دوسروں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ غلبہ و بزرگی والا ہے اور اپنے غیر سے مستغنی ہے (بے پروا ہے) یا تو یہ صفت الٰہی ہے۔ یا یہ اسماء صفات ہیں۔ واضح مفہوم یہ ہے کہ اللہ عزوجل مخلوق کو فنا کے بعد زندہ کرے گا اور ہمیشہ کی زندگی دے گا اور اپنے مومن بندوں پر خوب نوازش فرمائے گا۔ ذوالجلال والاکرام اسم اعظم ہے جیسا کہ ترمذی کی روایت میں وارد ہے اور حضور علیہ الصلوٰہ والسلام نے اسے دعاؤں میں ہمیشہ التزام کے ساتھ ورد کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ اسم اعظم کے توسل سے مانگی ہوئی دعا رد نہیں ہوتی اور مستجاب ہے۔[1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تفسیر الحسنات،ابو الحسنات سید محمد احمد قادری
اسماء الحسنیٰ
اللہالرحمٰنالرحیمالملکالقدوسالسلامالمؤمنالمہیمنالعزیزالجبارالمتکبرالخالقالباریالمصورالغفارالقہارالوہابالرزاقالفتاحالعلیمالقابضالباسطالخافضالرافعالمعزالمذلالسمیعالبصیرالحکمالعدلاللطیفالخبیرالحلیمالعظیمالغفورالشکورالعلیالکبیرالحفیظالمقیتالحسیبالجلیلالکریمالرقیبالمجیبالواسعالحکیمالودودالمجیدالباعثالشہیدالحقالوکیلالقویالمتیناولیالحمیدالمحصیالمبدیالمعیدالمحییالممیتالحیالقیومالواجدالماجدالواحدالصمدالقادرالمقتدرالمقدمالمؤخرالاولالآخرالظاہرالباطنالوالیالمتعالالبرالتوابالمنتقمالعفوالرؤفالمقسطالجامعالغنیالمغنیالمانعالضارالنافعالنورالہادیالبدیعالباقیالوارثالرشیدالصبورمالک الملکذو الجلال و الاکرام
یہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فہرست ہے