السلام

السلام اسماء الحسنی میں شامل ایک نام۔ سلامتی دینے : ہر نقص اور خرابی سے سالم ‘ سلام مصدر ہے بطور مبالغہ صفت کی جگہ ذکر کیا گیا ہے۔[1]

معنیترميم

اللہ تعالیٰ کے وصف کلام کے ساتھ موصوف ہونے کے معنی یہ ہیں کہ جو عیوب و آفات اور مخلوق کو لاحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے پاک ہے ۔[2] السلام: ای ذو سلامۃ من النقائص۔ یعنی ہر قسم کی خامیوں سے محفوظ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آلام و مصائب سے بچاتا ہے۔[3]

قرآن میں ذکرترميم

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

  •   هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ    

اللہ مقدس، سلامتی والا بادشاہ ہے۔ السلام وہ ہے جس کی صفات، افعال، اقوال، قضا و قدر اور شریعت محفوظ ہیں۔ بلکہ اس کی ساری شریعت حکمت، رحمت، مصلحت، عدل اور سلامتی سے پر ہے۔ السلام: وہ ہے جو جنت میں اپنے بندوں پر سلامتی نازل فرمائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

  •   سَلَامٌ قَوْلًا مِن رَّبٍّ رَّحِيمٍ    

رب رحیم کی طرف سے کہا جائے گا تم پر سلامتی ہو، نیز ا س لیے بھی اللہ تعالیٰ السلام ہے کہ اس نے بندوں کو اپنے ظلم سے محفوظ و سالم بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر نقصان اور کمزوری سے محفوظ ہے نہ اس کی ذات کو کسی قسم کی کمزوری لاحق ہوتی ہے اور نہ اس کی صفات میں ضعف واقع ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں السلام ہے اور سلامتی عطا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی سلامتی عطا نہیں کر سکتا ۔

حدیث میں ذکرترميم

(عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَتِہِ اسْتَغْفَرَ ثَلاَثًا وَقَال اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَامِ )[4] ” حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور یہ دعا پڑھتے۔ ” اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَام “ ” اے اللہ تو سلامتی والا ہے اور سلامتی تجھی سے حاصل ہوتی ہے بیشک تو بابرکت اور جلال واکرام والا ہے۔ “

حوالہ جاتترميم

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی
  2. مفردات القرآن امام راغب اصفہانی
  3. ضیاء القرآن پیر کرم شاہ
  4. مسلم : باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ
اسماء الحسنیٰ
اللہالرحمٰنالرحیمالملکالقدوسالسلامالمؤمنالمہیمنالعزیزالجبارالمتکبرالخالقالباریالمصورالغفارالقہارالوہابالرزاقالفتاحالعلیمالقابضالباسطالخافضالرافعالمعزالمذلالسمیعالبصیرالحکمالعدلاللطیفالخبیرالحلیمالعظیمالغفورالشکورالعلیالکبیرالحفیظالمقیتالحسیبالجلیلالکریمالرقیبالمجیبالواسعالحکیمالودودالمجیدالباعثالشہیدالحقالوکیلالقویالمتیناولیالحمیدالمحصیالمبدیالمعیدالمحییالممیتالحیالقیومالواجدالماجدالواحدالصمدالقادرالمقتدرالمقدمالمؤخرالاولالآخرالظاہرالباطنالوالیالمتعالالبرالتوابالمنتقمالعفوالرؤفالمقسطالجامعالغنیالمغنیالمانعالضارالنافعالنورالہادیالبدیعالباقیالوارثالرشیدالصبورمالک الملکذو الجلال و الاکرام
یہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فہرست ہے