رفع الیدین

دو لفظوں کا مجموعہ، ’’رفع‘‘ کا مطلب ہے اٹھانا اور ’’یدین‘‘ کا مطلب ہے دونوں ہاتھ، چنانچہ ’’رفع یدین‘‘ کا مطلب ہوا ’’دونوں ہاتھوں کو ا

پیغمبر اسلام جب نماز پڑھتے تو تکبیر تحریمہ، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد کندھوں یا کانوں تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے۔[ا] اسے عرف عام میں رفع الیدین کہتے ہیں۔ رفع یدین مالکی (صرف کچھ)، شافعی، حنبلی، ظاہری اور اہل حدیث/سلفی مکاتب فکر میں رائج ہے۔ اور جعفریہ مکتب فکر میں بھی کچھ تبدیلی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

رفع الیدین نہ کرنے اور کرنے کے دلائل

  • ۔۔   "عن عقلمة عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلی  الله علیه وسلم أنه کان یرفع یدیه في أوّل تکبیرة ثم لایعود". (شرح معاني الآثار، للطحاوي ۱/ ۱۳۲، جدید ۱/ ۲۹۰، رقم: ۱۳۱۶) ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی  اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صرف شروع کی تکبیر میں دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے، پھر اس کے بعد اخیر نماز تک نہیں اٹھاتے تھے۔ 3۔۔  "عن المغیرة قال: قلت لإبراهيم: حدیث وائل أنه رأی النبي صلی الله علیه وسلم یرفع یدیه إذا افتتح الصلاة وإذا رکع وإذا رفع رأسه من الرکوع، فقال:إن کان وائل رآه مرةً یفعل ذلك فقد رآه عبد الله خمسین مرةً لایفعل ذلك". (شرح معاني الآثار، للطحاوي ۱/ ۱۳۲، جدید ۱/ ۲۹۰، برقم: ۱۳۱۸)     ترجمہ: حضرت مغیرہؒ نے حضرت امام ابراہیم نخعیؒ سے حضرت وائل ابن حجرؒ کی حدیث ذکر فرمائی کہ حضرت وائل بن حجرؒ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول  اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے جب نماز شروع فرماتے اور جب رکوع میں جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس پر ابراہیم نخعیؒ نے مغیرہ سے کہا کہ اگر وائل بن حجرؓ نے حضور ﷺ کو اس طرح رفع یدین کرتے ہوئے ایک مرتبہ دیکھا ہے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی  اللہ عنہ نے حضور کو پچاس مرتبہ رفع یدین نہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (کیوں کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ مدینہ کے رہائشی نہ تھے، بلکہ اسلام قبول کرنے کے بعد چند دن مدینہ منورہ میں رہ کر اسلامی تعلیمات سیکھ کر تشریف لے گئے تھے، جب کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سفر وحضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے، آپ ﷺ کے خادمِ خاص بھی تھے، اور لسانِ نبوت سے علم وفضل کی سند بھی حاصل کرچکے تھے، اور آپ ﷺ نے امت کو ان کی پیروی کا حکم بھی دیا ہے، نیز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ان سے علم حاصل کرتے تھے اور فتویٰ لیتے تھے، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر اور اصحابِ فضل وعلم صحابہ کرام نے ان کے کمالِ علم کی تعریف فرمائی۔) 4۔۔   "عن جابر بن سمرة قال: خرج علینا رسول  الله صلی  الله علیه وسلم فقال: مالي أراکم رافعی أیدیکم کأنها أذناب خیل شمس اسکنوا في الصلاة". (صحیح مسلم  ۱/  ۱۸۱) ترجمہ : حضرت جابر بن سمرہ رضی  اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی  اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف تشریف لاکر فرمایا : مجھے کیا ہوگیا کہ میں تم لوگوں کو نماز کے اندر اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، گویا کہ ایسا لگتا ہے جیسا کہ بے چینی میں گھوڑے اپنی دم کو اوپر اٹھا اٹھا کر ہلاتے ہیں، تم نماز کے اندر ایسا ہرگز مت کیا کرو، نماز میں سکون اختیار کرو۔ 5۔۔ "عن  علقمة قال: قال عبد الله بن مسعود ألا أصلي بکم صلاة رسول  الله صلی  الله علیه وسلم، فصلی فلم یرفع یدیه إلا في أول مرة". ( جامع الترمذي  ۱/ ۵۹، جدید برقم: ۲۵۷، أبوداؤد شریف ۱/ ۱۰۹، جدید برقم: ۷۴۸) ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی  اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ تم آگاہ ہوجاؤ! بے شک میں تم کو حضور صلی  اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھاکر دکھاتا ہوں، یہ کہہ کر نماز پڑھائی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو صرف اول تکبیر میں اٹھایا پھر پوری نماز میں نہیں اٹھایا۔ 6۔۔  " عن علقمة قال: قال عبد الله بن مسعود ألاَ أصلّي بکم صلاة رسول  الله صلی الله علیه وسلم قال:  فصلی فلم یرفع یدیه إلا مرةً واحدةً". (سنن النساائي  ۱/ ۱۲۰، جدید رقم: ۱۰۵۹، أبوداؤد قدیم ۱/ ۱۰۹، جدید برقم: ۷۴۸، ترمذي قدیم    ۱/ ۵۹، جدید رقم: ۲۵۷) ترجمہ: حضرت علقمہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی  اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آگاہ ہوجاؤ! میں تمہیں حضور صلی  اللہ علیہ وسلم کی نمازپڑھ کر دکھاتا ہوں، یہ کہہ کر نماز پڑھی تو اپنے دونوں ہاتھوں کو صرف ایک مرتبہ اٹھایا پھر نہیں اٹھایا۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے، اور صحابہ تابعین تبع تابعین اور بے شمار محدثین اور علماء نے اس حدیث شریف کو اختیار فرمایا، اور یہی امام سفیان ثوری (جلیل القدر محدث) اور اہلِ کوفہ نے کہا  ہے۔ "قال أبو عیسیٰ: حدیث ابن مسعود حدیث حسن، وبه یقول غیر واحد من أهل العلم من أصحاب النبي والتابعین، وهو قول سفیان وأهل الکوفة". ( جامع الترمذي  ۱/ ۵۹، ) 7۔۔  "عن علقمة عن عبد الله بن مسعود قال: صلیت خلف النبي صلی  الله علیه وسلم، وأبي بکر وعمرفلم یرفعوا أیدیهم إلا عند افتتاح الصلاة." (السنن الکبری للبیهقي ۲/ ۸۰، ۲/ ۷۹، نسخه جدید دارالفکر بیروت ۲/ ۳۹۳ برقم: ۲۵۸۶)     ترجمہ: حضرت علقمہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی  اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعودؓ نے فرمایا: میں نے حضور صلی  اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی ہے ان میں سے کسی نے اپنے ہاتھوں کو تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ کسی اور تکبیر میں نہیں اٹھایا۔ (معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما جو باتفاقِ امت سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہیں، اور دنیا و آخرت میں آپ ﷺ کے مصاحب ہیں، صحابہ کرام میں سب سے اَعلم ہیں انہوں نے حضور ﷺ کی نماز سے سنت اسی کو سمجھا کہ تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رفعِ یدین نہ کیا جائے۔ آگے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل بھی بحوالہ آرہاہے کہ وہ بھی تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رفعِ یدین نہیں کرتے تھے، گویا خلفاءِ راشدین مہدیین رضی اللہ عنہم کا عمل ترکِ رفع یدین ہے، اور آپ ﷺ نے ہمیں خلفاءِ راشدین کا طریقہ اختیار کرنے کا بھی حکم فرمایا ہے، اگر حضور ﷺ سے رفعِ یدین کے بارے میں صریح روایت نہ بھی منقول ہوتی اور خلفاءِ راشدین کا عمل اسی طرح ہوتا تو بھی یہ ترکِ رفع کے سنت ہونے کی کافی دلیل تھی، کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین کے حوالے سے کوئی بات بلادلیل نہ کہتے تھے نہ عمل کرتے تھے
  • رفع الیدین کرنے کے دلائل
  • اہل سنت کی مستند کتب احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، جس وقت رکوع کرتے اس وقت بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت بھی کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے“۔[1][2]

امام محمد بن اسمعیل بخاری نے رفع الیدین کے متعلق ایک الگ سے کتاب تصنیف کی ہے اور اس کا نام رکھا ہے: ”جزء رفع الیدین“ انہوں نے اس میں ان دونوں جگہوں پر رفع الیدین کرنے کو ثابت کیا ہے اور اس موقف کی مخالفت کرنے والوں کی تردید کی ہے۔

  • ہمیں خبر دی اسمعیل بن ابی اویس نے: مجھے حدیث سنائی عبد الرحمٰن بن ابی الزناد نے عن موسیٰ بن عقبہ ہرمز الاعرج عن عبید اللہ بن ابی رافع عن علی بن ابی طالب (کی سند ہے کہ) بے شک جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر (تحریمہ) کہتے تو رفع الیدین کرتے تھے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے اور رکعتوں سے اٹھتے تو اسی طرح (رفع الیدین) کرتے تھے۔[3]

یہ روایت بلحاظ سند حسن ہے۔ مسند احمد بن حنبل[4] وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ اسے ابو عیسیٰ محمد ترمذی[5] نے حسن صحیح کہا ہے اور ابن خزیمہ[6] اور ابن حبان[7] اپنی صحیحین میں لائے ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ اس کے راوی عبد الرحمٰن بن ابی الزناد جمہور محدیثین کے نزدیک صدوق و حسن الحدیث ہیں۔ شمس الدین الذہبی نے کہا: ”حديثة من قبيل الحسن“ (ھو حسن الحديث وبعضهم يراه حجة)[8] امام بخاری کے استاذ علی بن مدینی نے روایت کو قوی قرار دیا ہے۔ یہ روایت ابن ابی الزناد کے حافظہ بگڑنے سے پہلے کی ہے۔[9]

درج ذیل صحابہ کرام نے رفع الیدین کی مرفوع روایت بیان کی ہے:

  1. عبد اللہ بن عمر[12]
  2. مالک بن حویرث[13]
  3. وائل بن حجر[14]
  4. ابو حمید الساعدی[15]
  5. ابو قتادہ[16]
  6. سہل بن سعد[17]
  7. ابو اسید الساعدی[17]
  8. محمد بن مسلمہ[17]
  9. ابو بکر صدیق[18]
  10. عمر بن خطاب[19]
  11. علی بن ابی طالب[20]
  12. ابو ہریرہ[21]
  13. ابو موسیٰ اشعری[22]
  14. عبد اللہ بن زبیر[23]
  15. جابر بن عبد اللہ[24]
  16. انس بن مالک[25]

دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین

محدثین رفع الیدین بین السجدتین پر بھی احادیث اپنی کتب میں لائے ہیں، لیکن علما کا احادیث کے درمیان تطبیق سے متعلق اختلاف ہے کہ ابن عمر کی روایت میں سجدوں کے دوران رفع الیدین کی ممانعت ہے،[26][27] جبکہ انس اور مالک بن حویرث والی روایت کا مطلب یہ ہے کہ سجدوں میں بھی رفع الیدین کیا جاتا تھا۔ چنانچہ کچھ علما کہتے ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی سجدوں کے درمیان بھی رفع الیدین کر لیا کرتے تھے، لیکن اکثر نہیں کرتے تھے۔[28]

  • مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجدوں میں اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو تک اُٹھاتے تھے۔“[29]
  • انس بن مالک سے مروی ہے کہ: ”نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع اور سجود میں رفع الیدین کرتے تھے“۔[30][پ]
  • موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی۔ ہمیں حماد بن سلمہ نے یحیی بن (ابی) اسحاق سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا ”میں نے انس بن مالک کو دیکھا آپ دونوں سجدوں کے درمیان ہاتھ اٹھا رہے تھے۔“[32] (امام) بخاری نے فرمایا: (میرے نزدیک) نبی صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث زیادہ راجح ہے۔[ت]
  • ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلند کرتے، پھر جب رکوع کرتے تو اس وقت بھی ہاتھوں کو کانوں کے برابر بلند کرتے اور جب رکوع سے اٹھتے ہوئےسمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو تب بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے، جب آپ سجدہ کرتے اور جس وقت سجدے سے سر اٹھاتے تب بھی اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو تک اٹھاتے۔“[33] اس پر حافظ ابن حجر نے کہا "سجود میں رفع الیدین کرنے سے متعلق صحیح ترین روایت نسائی کی ہے۔"[34]

ترک رفع الیدین

احناف اور جمہورِ مالکی ترک رفع الیدین کے قائل ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ رفع یدین والی احادیث دیگر ان احادیث سے معارض ہیں جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین چھوڑنے کا ذکر ہے:

  • براء بن عازب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے اور پھر ایسا نہ کرتے تھے۔[35]

اس حدیث کو سفیان بن عیینہ، محمد بن ادریس شافعی، امام بخاری کے استاد عبد اللہ بن زبیر حمیدی، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، عبد الرحمن دارمی اور امام محمد بن اسماعیل بخاری سمیت جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔[36][37] اس کا راوی یزید بن ابی زیاد جمہور کے نزدیک ضعیف ہے[38][39][40][41] اور اس پر شیعہ ہونے کا بھی الزام تھا۔[42]

  • عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟“ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔[43]

اس حدیث کو عبد اللہ بن مبارک،[44][45][46] احمد بن حنبل،[ٹ] محمد بن اسماعیل بخاری، ابو بکر بیہقی اور علی بن عمر دار قطنی سمیت جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔[48][49][47]

احناف اور مالکی اکثریت کا یہ موقف ہے کہ صِرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع الیدین کرنا نماز کی سنت میں سے ہے، جبکہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ تمام تکبیروں میں رفع الیدین کو غیر شرعی عمل قرار دیتے ہیں۔[50] حنفی علما اس موقف کے لیے ابو حنیفہ سے مروی روایت کو دلیل بناتے ہیں۔[51] جبکہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر تکبیروں کے ساتھ رفع الیدین سے متعلق مجموعہ احادیث کو حنفی منسوخ سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رفع الیدین آخری عمر میں ترک کر دیا تھا، شروع میں آپ رفع الیدین کرتے رہے ہیں۔[52] زیدیہ بھی رفع یدین کے قائل نہیں، صرف تکبیر تحریمہ کے ساتھ کرتے ہیں۔[53]

علما کی آرا

حامی

بد قسمتی سے ہمارے علماء کرام نے رسول ﷺ کی امت میں تفرقہ ڈال دیا اور فساد پیدا کر دیا ۔ مسلمان نماز اللہ کے لئے پڑھتا ہے۔ نماز اللہ قبول کرنے والا ہے۔ نہ کہ رسول ﷺ کے لیے نہ کیسی صحابی کے لئے نہ کیسی علماء یا فقہ کے لئے۔نہ شعیہ سنی کے لئے نماز پڑھتا ہے۔ رفع الیدین کرو یا نہ کرو۔ ہاتھ کھول کر نماز پڑھو یا باندھ کر نماز ہو جاتی ہے۔ پر ایک شرط ہے کے نماز اداب کے ساتھ اور سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ مشہور حدیث ہے۔ سورہ فاتحہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنی چاہئے آپ ﷺ سورہ فاتحہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے اور ہر آیت پر وقف کرتے تھے۔

ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) نبی ﷺ کی قراء ت کی کیفیت بیان کرتی ہیں کہ:

قراءۃ رسول اللہ ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمد ﷲ رب العالمین٭ الرحمن الرحیم٭ ملک یوم الدین٭‘‘ یقطع قراء تہ آیۃ آیۃ۔

’’آپ کی قراء ت بسم اللہ الرحمن الرحیم ، الحمد للہ رب العالمین۔۔۔ الخ کو ایک ایک آیت کا ٹکڑا بناتے۔‘‘(ابوداود:4001)

تنبیہ: سورہ فاتحہ نماز میں ضروری ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں:

لاصلوٰۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب۔ (صحیح بخاری:756)

’’جو شخص سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔‘‘

اور فرماتے ہیں کہ:

کل صلوٰۃ لا یقرأ فیھا بفاتحۃ الکتاب فھی خداج فھی خداج۔

’’ہر نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے،ناقص ہے۔‘‘(ابن ماجہ:841)

حضرت محمد ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ رفع الیدین کرو گے تو نماز ہوگی نہ کرو تو ناقص ہوگی۔ جب رسول ﷺ نے ایسا نہیں فرمایا تو یہ مفتی عالم جو بھی دین کے ٹھیکے دار بنے کر بیٹھے ہے کون ہوتے ہیں۔ نماز پر نقص نکالنے والے۔ رسول ﷺ سے بڑے ہیں یا انھوں کا رابطہ اللہ سے ہے وحی آتی انھوں پر؟

اب میں یہاں ایک حدیث شیئر کرنے لگا ہو عربی میں۔ لیکن علماء کرام نے اس میں اپنی طرف سے تبدیلی کر کے اس حدیث کو رفع الیدین کےساتھ جوڑا ہے۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ۔ اس حدیث میں سر کو رکوع سے اٹھا نے کا ذکر ہے رفع الیدین کا ذکر نہیں یعنی دونوں ہاتھوں کو اٹھانا رفع رَأْسَهُ نہ کے رفع الیدین۔ آپ خود فیصلہ کرے کے کس طرح امت کو آپس میں لڑوایا جا رہا ہے۔ اب میں یہاں اصل حدیث شیئر کررہا ہو صحیح سند اور حوالے کے ساتھ خود دیکھو لو کس طرح ترجمہ تبدیل کیا ہے۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ

حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اور وہ نبی  ﷺ  کے صحابہ میں سے ہیں ، کہ رسول اللہ  ﷺ  جب نماز پڑھتے تو تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے ( تو بھی رفع الیدین کرتے ) ۔

Sunnan e Nisai#881

Status: صحیح

بریکٹ لگا کر اضافہ کیا۔ حدیث ختم ہو چکی تھی۔ رکوع سے سر اٹھانے کی۔ پر جناب نے اگے رفع الیدین کا اضافہ کر دیا اردو ترجمے میں۔ لیکن عربی میں نہ کر سکا۔۔ اللہ ہو اکبر

  • عبد اللہ بن مبارک: جو شخص نماز میں ہاتھ اٹھاتا (رفع الیدین کرتا) ہے تو اُس کی حدیث ابن عمر ثابت ہے جسے زہری نے بواسطہ سالم اُن کے والد سے روایت کیا۔ سیدنا ابن مسعود کی وہ حدیث[ث] ثابت ہی نہیں ہے کہ نبی ﷺ صِرف نماز کے آغاز میں ہی ہاتھ اٹھاتے تھے۔[54]
  • محمد بن ادریس شافعی: ”علی اور ابن مسعود سے یہ (رفع الیدین نہ کرنے والی روایت) ثابت نہیں ہے۔“[ج][55] اور ایک مرتبہ فرمایا کہ ”رفع الیدین کا مطلب یہ ہے کہ تعظیم الٰہی اور اتباع سنت نبوی کی جائے، پہلی جگہ رفع الیدین کرنے کا بھی وہی مطلب ہے جو دیگر جگہوں یعنی رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع الیدین کرنے کا ہے، جنہیں تم تسلیم نہیں کرتے، مزید برآں (رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع الیدین نہ کر کے) تم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابن عمر سے مروی شدہ روایت کی مخالفت کی ہے، نیز اس عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیرہ یا چودہ افراد نقل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی صحابہ کرام سے متعدد اسانید کے ذریعے رفع الیدین کا ثبوت ملتا ہے، لہذا جو شخص رفع الیدین نہیں کرتا وہ سنت ترک کرنے والا ہے۔“[56][57]
  • علی بن مدینی: ”اس حدیث[چ] کی وجہ سے مسلمانوں پر حق بنتا ہے کہ وہ رفع الیدین کریں۔“[58]
  • احمد بن حنبل: ”جو لوگ رفع الیدین نہیں کرتے، ان کی نماز فی نفسہ نقص والی (ناقص) ہے۔“[59][60]
  • محمد بن یحیٰی الذہلی: ”جو شخص یہ حدیث سن لے اور پھر رکوع سے پہلے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین نہ کرے، اس کی نماز ناقص ہے۔[61]
  • محمد بن اسماعیل بخاری: ”نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی بھی صحابی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے رفع یدین نہیں کیا۔“[62][63]
  • ابو داؤد: انہوں نے بھی سیدنا ابن مسعود کی اسی حدیث پہ لکھا: ”یہ حدیث اِن الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں۔“[64]
  • ابو الحسن علی بن عمر دار قطنی: میں نے ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بہلول کو بیان کرتے سنا اور انہوں نے ہمیں یہ روایت املا کرائی۔ انہوں نے فرمایا: ”میرا مذہب اہل عراق والا تھا۔ مجھے خواب میں نبی ﷺ کی زیارت ہوئی تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ پہلی تکبیر میں پھر جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے“۔[65]
  • غزالی نے اپنی تصنیف کیمیائے سعادت میں رفع الیدین کے ساتھ نماز کا طریقہ لکھا ہے۔[66]
  • عبد القادر جیلانی نے اپنی تصنیف غُنیۃُ الطابین میں رفع الیدین کو ہیئات نماز میں لکھا ہے۔[67]

معتدل

  • شاہ ولی اللہ دہلوی: ”رفع الیدین ان ہیئات مستحبہ میں سے ہے جن کو کبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل میں لائے اور کبھی ان کو ترک کیا ہے۔ چنانچہ اس کا فعل اور ترک دونوں سنت ہیں اور ہر ایک صحابہ اور تابعین اور دیگر علمائے مجتہدین کی ایک جماعت نے عمل کیا۔ اور بہت ممکن ہے کہ ابن مسعود کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ آپ ص کا آخری عمل رفع نہ کرنا تھا۔ کیونکہ یہ نظریہ وہ آنحضرت ص سے اخذ کر چکے تھے کہ نماز کی بنا اعضا کے سکون پر ہے۔ لیکن یہ نکتہ ان کی نظر سے اوجھل رہا کہ رفع یدین ایک فعل تعظیمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نماز کے آغاز پر اس کا عمل میں لانا سب کے نزدیک بالاتفاق سنت ہے یا ممکن ہے کہ ان کا خیال ہو کہ رفع یدین میں ترک کا اشارہ پایا جاتا ہے اس لیے نماز کے دوران میں اس کا عمل میں لانا مناسب نہیں۔ لیکن یہ بات شاید ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ ترک ماسوائے اللہ کے اشارہ کو بار بار دہرانا اور ہر ایک فعل تعظیمی کی ابتدا اسی سے کرنا نماز کے اصول مطلوبہ میں سے ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم“[68]
  • رشید احمد گنگوہی: ”جو سنت کی محبت سے بلاشر و فساد آمین بالجہر اور رفع الیدین کرے، اس کو برا نہیں جانتا۔“[69]

مخالف

مزید دیکھیے

حواشی

  1. جیسا کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
  2. عربی متن کے منهم سے ظاہر ہے کہ یہاں سترہ صحابہ کے پورے نام نہیں ہیں واللہ علم، اگر درج بالا صحابہ کرام کے ساتھ عمر، علی اور ام الدرداء کو بھی شامل کیا جائے تو سترہ کی تعداد پوری ہو جاتی ہے۔
  3. شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔[31]
  4. سجود کے درمیان رفع الیدین نہ کرنا
  5. یہ محمد بن جابر ہے، اس کی حدیث کیا ہے؟ یہ ایک منکر حدیث ہے، میں اسے سخت منکر سمجھتا ہوں۔[47]
  6. جامع ترمذی: 257
  7. یعنی ابن مسعود اور علی سے جو نقل کیا جاتا ہے کہ آپ دونوں نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ کسی جگہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے، یہ ثابت نہیں ہے۔
  8. صحیح بخاری: 739

حوالہ جات

  1. صحیح بخاری 735
  2. صحیح مسلم 390
  3. جزء رفع الیدین از محمد بن اسماعیل بخاری، مترجم زبیر علی زئی ص 32
  4. مسند احمد بن حنبل 1 /93 ح 717
  5. سنن ترمذی 3423
  6. صحیح ابن خزیمہ 584
  7. عمدۃ القاری 5/ 277
  8. سیر اعلام النبلاء، ج 8، ص 168، 170
  9. نور العینین از زبیر علی زئی ص 83 — 84
  10. جزء رفع الیدین از محمد بن اسماعیل بخاری، مترجم زبیر علی زئی ص 33
  11. جزء رفع الیدین از محمد بن اسماعیل بخاری، مترجم زبیر علی زئی ص 45
  12. صحیح بخاری، صحیح مسلم و جزء رفع الیدین: 2
  13. صحیح بخاری، صحیح مسلم اور جزء رفع الیدین: 7
  14. صحیح مسلم اور جزء رفع الیدین: 10
  15. صحیح ابن حبان اور جزء رفع الیدین: 3
  16. جزء رفع الیدین: 3
  17. ^ ا ب پ جزء رفع الیدین: 5
  18. السنن الکبریٰ بیہقی 2/ 3 اور منتقی حدیث العبدوی 2/ 316 ح 24
  19. الخلافیات البیہقی اور نور العینین ص 194 ۔ 203 طبع دوم
  20. جزء رفع الیدین: 1
  21. صحیح ابن خزیمہ: 295، 294
  22. سنن دار قطنی 1/ 296
  23. السنن الکبریٰ بیہقی 2/ 73
  24. سنن ابن ماجہ: 868 اور مسند السراج: 92
  25. ابو یعلیٰ فی مسندہ: 3793 اور جزء رفع الیدین: 8
  26. صحیح بخاری 735
  27. صحیح مسلم 390
  28. فتح الباری از ابن رجب 6/ 354
  29. مسند احمد بن حنبل: 20014
  30. مصنف ابن ابی شیبہ: 2449
  31. ارواء الغلیل از البانی 2/68
  32. جزء رفع الیدین از محمد بن اسماعیل بخاری، مترجم زبیر علی زئی ص 105 – 106
  33. سنن نسائی: 1085
  34. فتح الباری از ابن حجر عسقلانی 2/ 223
  35. سنن ابی داؤد 749
  36. ہدی الساری از ابن حجر عسقلانی 459
  37. مصباح الزجاجہ فی زوائد ابن ماجہ از شہاب الدین بوصیری 2/ 549
  38. سؤالات ابی بکر برقانی از دارقطنی 561
  39. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی 6/ 129
  40. الجرح والتعدیل از ابن ابی حاتم 9/ 265
  41. تاریخ ابن معین 3144
  42. تقریب التہذیب از ابن حجر عسقلانی 7717
  43. سنن ابی داؤد 748
  44. سنن ترمذی، تحت حديث 256
  45. سنن دارقطنی 1/ 393
  46. سنن الکبری از بیہقی 2/ 79
  47. ^ ا ب العلل از احمد بن حنبل 1/ 144
  48. سنن دارقطنی 1/ 295
  49. مجمع الزوائد ومنبع الفوائد از نور الدین ہیثمی 5/ 346
  50. المبسوط از شمس الائمہ سرخسی 1 / 23
  51. المبسوط از شمس الائمہ سرخسی 1 / 24
  52. بدائع الصنائع از علاؤ الدین کاسانی 1 / 208
  53. مسند امام زید صفحہ 234
  54. جامع ترمذی: 256 کے تحت
  55. السنن الكبرى البيهقي، ج 2، الصفحة 81
  56. کتاب الام از شافعی 7/ 266
  57. اعلام الموقعین از ابن قیم الجوزیہ 2/ 288
  58. ابن الجوزي، الموضوعات من الأحاديث المرفوعات - ج 2، كتاب الصلاة 16، ص 388
  59. مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني ص 33
  60. المنهج الأحمد ج 1، ص 159
  61. صحيح ابن خزيمة : 298/1، وسنده صحيح
  62. كتاب المجموع شرح المهذب للشيرازي، لإمام أبي زكريا يحيى الدين بن شرف النووي، ج 3 – الصلاة، ص 368، مكتبة الإرشاد
  63. تلخيص الحبير للحافظ ابن حجر 1/221-223
  64. سنن ابو داؤد: 746 کے تحت
  65. سنن دار قطنی، امام ابو الحسن علی بن عمر دار قطنی، مترجم حافظ فیض اللہ ناصر، ج 1 ص 378، ادارہ اسلامیات لاہور – کراچی پاکستان
  66. کیمیائے سعادت از حجۃ الاسلام امام غزالی، مترجم: مولانا سعید احمد نقشبندی، اشاعت اول، ص 133، پروگریسیو بکس 40-بی اردو بازار لاہور
  67. غنیۃ الطالبین از سید شیخ عبد القادر جیلانی، مترجم حافظ مبشر حسین لاہوری، ص 61، نعمانی کتب خانہ، حق اسٹریٹ اردو بازار لاہور
  68. حجۃ اللہ البالغہ از شاہ ولی اللہ دہلوی، مترجم مولانا عبد الرحیم، ص 119، الفیصل ناشران و تاجران، اردو بازار لاہور
  69. تذکرۃ الرشید از محمد عاشق الٰہی 175/2