مرکزی مینیو کھولیں

تنظیم تعاون اسلامی OIC (عربی: منظمة التعاون الإسلامي، انگریزی: Organisation of Islamic Cooperation، فرانسیسی: Organisation de la coopération islamique)ایک بین‌الاقوامی تنظیم ہے جس میں مشرق وسطی، شمالی، مغربی اورجنوبی افریقا، وسط ایشیا، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور برصغیر اور جنوبی امریکا کے 57 مسلم اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ او آئی سی دنیا بھر کے 1.2 ارب مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ اس تنظیم نے اپنے پلیٹ فارم سے اپنے قیام سے لے کر آج تک مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ اور مسائل کے حل کے سلسلے میں سوائے اجلاسوں کے کچھ نہیں کیا۔

تنظیم تعاون اسلامی

  اراکین ریاستیں   ریاستیں جن کا شمولیت زیرِ غور ہے   ریاستیں جن پر پابندی لگائی گئی ہے   معطل شدہ ریاستیں
  اراکین ریاستیں
  ریاستیں جن کا شمولیت زیرِ غور ہے
  ریاستیں جن پر پابندی لگائی گئی ہے
  معطل شدہ ریاستیں
انتظامی مرکز Flag of سعودی عرب جدہ، سعودی عرب
دفتری زبانیں
قسم Religious
رکنیت 57 اراکین ممالک
رہنما
• سیکریٹری جنرل
ایاد بن امین مدنی
قیام
• منشور دستخط شدہ
25 ستمبر 1969
آبادی
• 2011 تخمینہ
1.6 بلین
ویب سائٹ
www.oic-oci.org
تنظیم تعاون اسلامی کا صدر دفتر، جدہ

تاریخترميم

21 اگست 1969ء کو مسجد اقصی پر یہودی حملے کے ردعمل کےطور پر 25 ستمبر 1969ء کو مراکش کے شہر رباط میں او آئی سی کا قیام عمل میں آیا۔.

نیا نامترميم

28 جون، 2011ء کو آستانہ، قازقستان میں اڑتیسویں وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران تنظیم نے اپنا پرانا نام تنظیم موتمر اسلامی (عربی: منظمة المؤتمر الإسلامي، انگریزی: Organisation of the Islamic Conference، فرانسیسی: Organisation de la Conférence Islamique) کو تبدیل کرکے نیا نام تنظیم تعاون اسلامی رکھا۔[1] اس وقت تنظیم نے اپنا لوگو بھی تبدیل کر لیا۔

ڈھانچہ و تنظیمترميم

اسلامی کانفرنسترميم

او آئی سی میں پالیسی ترتیب دینے میں سب سے اہم کام رکن ممالک کے سربراہان کا اجلاس ہے، جو ہر تین سال بعد منعقد ہوتا ہے۔

وزرائے خارجہ کا اجلاسترميم

سال میں ایک مرتبہ فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال اور غور کے لیے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔

دفترترميم

او آئی سی کا مستقل دفتر سعودی عرب کے شہر جدہ میں قائم ہے۔ اس وقت او آئی سی کے سیکرٹری ایاد بن امین مدنی ہیں جن کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ وہ 31 جنوری 2014ء سے اس عہدے پر فائز ہیں۔

قائمہ کمیٹیاںترميم

  • القدس کمیٹی
  • اطلاعات و ثقافتی معاملات کی قائمہ کمیٹی COMIAC
  • اقتصادی و تجارتی معاملات کی قائمہ کمیٹی COMCEC
  • سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی قائمہ کمیٹی COMSTECH
  • اسلامی کمیٹی برائے اقتصادی، ثقافتی و سماجی معاملات
  • مستقل تجارتی کمیٹی

ذیلی بازوترميم

ملحقہ ادارےترميم

سیکرٹری جنرلترميم

رکن ممالکترميم

 
او آئی سی کے رکن ممالک؛ مکمل ارکان سبز اور مبصرین سرخ رنگ میں ظاہر کئے گئے ہیں
مکمل ارکان
  افغانستان 1969
  الجزائر 1969
  چاڈ 1969
  مصر 1969
  جمہوریہ گنی 1969
  انڈونیشیا 1969
  ایران 1969
  اردن 1969
  کویت 1969
  لبنان 1969
  لیبیا 1969
  ملائیشیا 1969
  مالی 1969
  ماریطانیہ 1969
  مراکش 1969
  نائجر 1969
  پاکستان 1969
  فلسطین 1969
  یمن 1969
  سعودی عرب 1969
  سینی گال 1969
  سوڈان 1969
  صومالیہ 1969
  تیونس 1969
  ترکی 1969
  بحرین 1970
  اومان 1970
  قطر 1970
  شام 1970
  متحدہ عرب امارات 1970
  سیرالیون 1972
  بنگلہ دیش 1974
  گیبون 1974
  گیمبیا 1974
  گنی بساؤ 1974
  یوگینڈا 1974
  برکینا فاسو 1975
  کیمرون 1975
  جزائر قمر 1976
  عراق 1976
  مالدیپ 1976
  جبوتی 1978
  بینن 1982
  برونائی دارالسلام 1984
  نائجیریا 1986
  آذربائجان 1991
  البانیہ 1992
  کرغزستان 1992
  تاجکستان 1992
  ترکمانستان 1992
  موزمبیق 1994
  قازقستان 1995
  ازبکستان 1995
  سورینام 1996
  ٹوگو 1997
  گیانا 1998
  آئیوری کوسٹ 2001
مبصر ممالک
  بوسنیا و ہرزیگووینا 1994
  وسطی افریقی جمہوریہ 1997
 ترک قبرص 1979
  تھائی لینڈ 1998
  روس 2005
مبصر مسلم تنظیمیں
مورو قومی محاذ آزادی (مورو اسلامک لبریشن فرنٹ) 1977
مبصر بین الاقوامی تنظیمیں
عرب لیگ 1975
اقوام متحدہ 1976
غیر وابستہ ممالک کی تحریک (نام) 1977
تنظیم افریقی اتحاد 1977
اقتصادی تعاون کی تنظیم (ای سی او) 1995

ماضی میں سربراہان کے اجلاسترميم

نمبر شمار تاریخ ملک مقام
پہلا 1969، 22 ستمبر تا 25 ستمبر مراکش رباط
دوسرا 1974، 22 تا 24 فروری پاکستان لاہور
تیسرا 1981، 25 جنوری تا 29 جنوری سعودی عرب مکہ و طائف
چوتھا 1984، 16 جنوری تا 19 جنوری مراکش کاسابلانکا
پانچواں 1987، 26 جنوری تا 29 جنوری کویت کویت شہر
چھٹا 1991، 9 دسمبر تا 11 دسمبر سینی گال ڈاکار
ساتواں 1994، 13 دسمبر تا 15 دسمبر مراکش کاسابلانکا
پہلا غیر معمولی 1997، 23 مارچ پاکستان اسلام آباد
آٹھواں 1997، 9دسمبر تا 11 دسمبر ایران تہران
نواں 2000، 12 نومبر تا 13 نومبر قطر دوحہ
دوسرا غیر معمولی 2003، 5 مارچ قطر دوحہ
دسواں 2003، 16 اکتوبر تا 17 اکتوبر ملائیشیا پتراجایا
تیسرا غیر معمولی 2005، 7 دسمبر تا 8 دسمبر سعودی عرب مکہ مکرمہ

دیگر تنظیموں کے ساتھ تعلقاتترميم

عرب لیگاو آئی سی رکن ممالک کا پارلیمانی اتحادتنظیم تعاون اسلامیمغرب عربی اتحاداغادیر معاہدہعرب اقتصادی اتحاد کونسلمجلس تعاون برائے خلیجی عرب ممالکمغربی افریقی اقتصادی و مالیاتی اتحاداقتصادی تعاون تنظیمترکی کونسللپتاکو-گوورما اتھارٹیلپتاکو-گوورما اتھارٹیاقتصادی تعاون تنظیمالبانیہملائیشیاافغانستانلیبیاالجزائرتونسمراکشلبنانمصرصومالیہآذربائیجانبحرینبنگلہ دیشبیننبرونائیبرکینا فاسوکیمرونچاڈاتحاد القمریجبوتیگیمبیاجمہوریہ گنیگنی بساؤگیاناانڈونیشیاایرانعراقکوت داوواغاردنقازقستانکویتکرغیزستانمالدیپمالیموریتانیہموزمبیقنائجرنائجیریاسلطنت عمانپاکستانقطرسوڈانفلسطینسرینامشامتاجکستانٹوگوترکیترکمانستانیوگنڈامتحدہ عرب اماراتازبکستانيمنسینیگالگیبونسیرالیونمغرب عربی اتحاداغادیر معاہدہسعودی عرب 
تنظیم تعاون اسلامی کے اندر مختلف کثیر القومی تنظیموں کے درمیان تعلقات۔ ایک کلک پزیر اویلر تصویر مبت



مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم