عمرو ابن عاص

صحابی رسول اور مدبر عرب
(عمرو بن العاص سے رجوع مکرر)


حضرت عمرو ابن العاص ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ فاتح مصر اور معاویہ بن ابو سفیان کے قریب ترین مشیر۔ معاویہ کے ان مشیران میں سے تھے جن کی مدد سے انہوں نے حکومت حاصل کی۔

عمرو بن العاص رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ
عمرو بن العاص بن وائل بن ہاشم
عمرو بن العاص.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 577  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 664 (86–87 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فسطاط  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب أبو عبد الله
زوجہ ام کلثوم بنت عقبہ
ریطہ بنت منبہ  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبداللہ
بہن/بھائی
رشتے دار والد: عاص بن وائل السہمي
والدہ: نابغہ بنت خزيمہ بن حارث بن كلثوم
انکی والدہ سے انکے بھائی: عروة بن اثاثہ عدوی،عقبہ بن نافع
مناصب
خلافت راشدہ میں مصر کے والیوں کی فہرست (1 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
640  – 646 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
عبد اللہ ابن سعد  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
نسب بنو سہم ، قريش
اہم واقعات مصر کی فتح
تاریخ قبول اسلام 8 ھ
پیشہ عسکری قائد،  سفارت کار،  ریاست کار،  تاجر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری خلافت راشدہ،  سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  غزوہ احد،  غزوہ خندق،  جنگ یرموک،  جنگ صفین،  اسلامی فتح مصر،  اسلامی فتح شام  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسبترميم

عمرونام،ابوعبداللہ اورابو محمد کنیت ،والد کا نام عاص اوروالدہ کا نام نابغہ،تھا،جدی سلسلہ نسب یہ ہے،عمروبن العاص بن وائل بن ہاشم بن سعید بن سلہم بن عمروبن ہصیص ابن کعب بن لوی بن غالب قرشی سہمی، نانہالی نسب یہ ہے، نابغہ بنت حرملہ بن حارث بن کلثوم بن جوشن بن عمرو بن عبداللہ بن حزیمہ بن غنزہ بن اسد بن ربیعہ بن نزار۔

قبل از اسلامترميم

عمروبن العاص کا خاندان "بنوسہم"زمانہ جاہلیت سے معزز چلا آتا تھا، قریش کے سیاسی نظام میں مقدمات کا عہدہ اسی خاندان میں تھا، عمرو بن العاص جب تک اسلام نہیں لائے تھے، اسلام کی دشمنی اورمسلمانوں کی ایذارسانی میں عمائد قریش کی طرح یہ بھی پیش پیش تھے؛ چنانچہ مسلمانوں کا پہلا قافلہ جب ہجرت کرکے حبشہ گیا تو قریش کا جو وفد ان لوگوں کو حبشہ سے نکلوانے کے لیے نجاشی کے پاس گیا تھا، اس کے سب سے سرگرم رکن عمروبن العاص ہی تھے، چنانچہ حبشہ پہنچ کر مسلمانوں کے اخراج میں ہر قسم کی کوششیں کیں، پہلے بطریقوں سے مل کر ان کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا کہ یہ لوگ بھی مسلمانوں کے نکالنے میں وفد قریش کی تائید کریں، اس کے بعد شاہِ حبش کی خدمت میں ہدایا پیش کرکے ساری امکانی کوشش صرف کیں کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو پناہ نہ دے، لیکن ان کی تمام مساعی ناکام رہیں۔ [3] غزوۂ خندق میں جس میں سارا عرب مسلمانوں کے خلاف امنڈ آیا تھا، عمرو بن العاص مشرکین کے ساتھ تھے اورمسلمانوں کی بیخ کنی میں پورا زور صرف کررہے تھے۔ [4]

اسلام کی طرف میلانترميم

عمروبن العاصؓ اگرچہ اسلام اورپیغمبر اسلام علیہ السلام کے سخت ترین دشمن تھے،لیکن غزوۂ خندق کے بعد سے وہ اسلام سے متاثر ہونے لگے وہ اکثر دنیا اوراس کے انجام اوراسلام کی تعلیمات پر غور کیا کرتے تھے،ان کا بیان ہے کہ اس غور وفکر سے اسلام کی حقیقت مجھ پر ظاہر ہونے لگی اوراس سے میرا دل متاثر ہونے لگا، اورمیں نے مسلمانوں کی مخالفت سے رفتہ رفتہ کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کی ،قریش نے اس کو محسوس کیا اوراس کی حقیقت دریافت کرنے کے لیے ایک شخص بھیجا ،اس نے مجھ سے بحث کرنا شروع کی، میں نے اس سے کہا بتاؤ ہم حق پر ہیں یا فارس و روم والے، اس نے کہا ہم ہیں پھر میں نے پوچھا کہ ان کو عیش و تنعم میسر ہے یا ہم کو ،اس نے کہا ان کو میں نے کہا اگر اس عالم کے بعد دوسرا عالم نہیں ہے تو ہماری حق پرستی کس کام آئے گی جب کہ ہم دنیا میں بھی باطل پرستوں کے مقابلہ میں تنگ حال رہے اور دوسرے عالم میں بھی بدلہ کی کوئی امید نہ ہو، اس لیے محمدﷺ کی یہ تعلیم کہ مرنے کے بعد ایک دوسرا عالم ہوگا جہاں ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزا ملے گی کسی قدر صحیح دلنشین ہے (ابن سعدحصہ مغازی حالات غزوۂ خندق) غزوۂ خندق کے بعد ان کو آنحضرت ﷺ کی کامیابی کا پورا یقین ہوگیا تھا اوریہی یقین ان کے اسلام کا ذریعہ بنا، اس کی تفصیل مسند احمد بن حنبل میں خود ان کی زبانی مذکور ہے۔ [5]

اسلامترميم

ان کا بیان ہے کہ جب ہم لوگ غزوۂ احزاب سے واپس ہوئے تو میں نے قریش کے ان اشخاص کو جو مجھے مانتے تھے اور میری بات سنتے تھے، جمع کرکے کہا کہ خدا کی قسم تم لوگ یقین جانو کہ محمد ﷺ کی بات تمام باتوں پر سربلند ہوگی،اس میں کسی انکار کی گنجائش نہیں ،میری ایک رائے ہے،تم اس کو کیسی سمجھتے ہو، لوگوں نے پوچھا کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا،ہم لوگ نجاشی کے پاس چل کر قیام کریں اگر محمد ﷺ ہماری قوم پر غالب آگئے تو ہم لوگ نجاشی کے پاس ٹھہر جائیں گے،کیوں کہ نجاشی کی ماتحتی میں رہنا محمد ﷺ کی ماتحتی سے کہیں زیادہ پسندیدہ ہے اور اگر ہماری قوم محمد ﷺ پر غالب ہوئی تو ہم ممتاز لوگ ہیں ہمارے ساتھ ان کا طرز عمل بہتر ہی ہوگا، اس رائے پر سب نے اتفاق کیا، میں نے کہا پھر اس کو تحفہ دینے کے لیے کوئی چیز مہیا کرو، نجاشی کے لیے ہمارے یہاں کا سب سے بہتر تحفہ چمڑہ تھا؛ چنانچہ بہت سا چمڑا لیکر ہم لوگ حبشہ پہنچے، ہم لوگ نجاشی کے دربار میں جارہے تھے کہ عمروبن امیہ ضمری بھی پہنچ گئے ان کو رسول اللہ ﷺ نے جعفر اور ان کے ساتھیوں کی کسی ضرورت سے نجاشی کے پاس بھیجا تھا، جب وہ آکر چلے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم نجاشی سے درخواست کریں کہ وہ عمروبن امیہ ضمری کو ہمارے حوالہ کردے،اگر وہ دیدے تو اس کی گردن ماردیں تاکہ قریش کو معلوم ہوجائے کہ ہم نے محمدﷺ کے سفیر کا سر قلم کرکے ان کا بدلہ لے لیا، یہ کہہ کر میں نجاشی کے دربار میں گیا اورحسب معمول سجدہ کیا، اس نے خوش آمدید کہا اورپوچھا میرے لیے اپنے ملک کا کوئی تحفہ لائے ؟ میں نے عرض کیا حضور بہت سا چمڑہ تحفہ میں لایا ہوں اور جو چمڑہ لے گیا تھا اس کو پیش کردیا، اس نے بہت پسند کیا، پھر میں نے عرض کیا عالیجاہ!ابھی میں نے ایک آدمی حضور کے پاس سے نکلتے ہوئے دیکھا ہے ،یہ ہمارے دشمن کا بھیجا ہوا ہے ،حضور قتل کرنے کے لیے اس کو ہمارے حوالہ کردیں، اس نے ہمارے شرفا اور معززین کو تکلیفیں پہنچائی ہیں،نجاشی یہ درخواست سن کر بہت غضبناک ہوا اوراپنا ہاتھ کھینچ کر اس نے زور سے اپنی ناک پر مارا کہ میں سمجھا ٹوٹ جائے گی، اس کی اس حرکت سے میں اس قدر نادم و شرمسار ہوا کہ اگر زمین شق ہوتی تو میں اس میں سماجاتا، پھر میں نے عرض کیا، شاہا!اگر میں سمجھتا کہ حضورکو یہ درخواست ناگوار ہوگی تو میں نہ کرتا، وہ بولا تم چاہتے ہو کہ میں ایسے شخص کا قاصد جس کے پاس وہ ناموس اکبر آتا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، قتل کے لیے تمہارے حوالہ کردوں میں نے عرض کیا، عالی جاہ! کیا واقعی وہ ایسا ہے؟وہ بولا عمرو!تمہاری حالت قابلِ افسوس ہے ،میرا کہنا مانو اوراس کی پیروی کرلو، خدا کی قسم وہ حق پر ہے، وہ اپنے تمام مخالفوں پر غالب آئے گا، جس طرح موسیؑ فرعون اوراس کے لشکر پر غالب ہوئے تھے، میں نے کہا پھر اس کی طرف سے آپ مجھ سے اسلام کی بیعت لے لیجئے؛ چنانچہ اس نے ہاتھ پھیلایا اورمیں نے اسلام کی بیعت کی،یہاں سے جب میں ساتھیوں کے پاس لوٹ کر گیا تو میرے تمام خیالات پلٹ چکے تھے؛لیکن میں نے اپنے ساتھیوں پر ظاہر نہیں کیا اوررسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک حق پر ست پر اسلام لانے کے لیے روانہ ہوگیا، راستہ میں خالد بن ولید مکہ سے آتے ہوئے ملے، یہ فتح مکہ کے پہلے کا واقعہ ہے، میں نے کہا ابا سلیمان!کہاں کا قصد ہے؟ وہ بولے خدا کی قسم خوب پانسہ پڑا ،خدا کی قسم یہ شخص یقیناً نبی ہے، اب جلد اسلام قبول کرلینا چاہئے، یہ لیت و لعل کب تک، میں نے کہا خدا کی قسم میں بھی اسی قصد سے چلا ہوں ،چنانچہ ہم دونوں ایک ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے،پہلے خالد ابن ولید نے بیعت کی ،پھر میں نے قریب ہوکر عرض کیا، یا رسول اللہﷺ میں بیعت کروں گا، لیکن آپ میرے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف کردیجئے ،آپ ﷺ نے فرمایا عمرو بیعت کرلو اسلام اپنے ماقبل کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اورہجرت بھی اپنے ماقبل کے گناہوں کو ختم کردیتی ہے چنانچہ میں نے بیعت کی اوربیعت کرکے لوٹ گیا۔ [6]

ہجرتترميم

قبول اسلام کے بعد مکہ لوٹ گئے،پھر کچھ ہی دنوں کے بعد ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے۔

غزوات وسرایاترميم

حضرت عمروؓ بن العاص جس طرف رہے ،انتہا پسند رہے،اسلام کے قبل اس کی بیخ کنی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اوراسلام کے بعد کفرو شرک کے استیصال میں اسی شد ومد سے کمر بستہ ہوگئے،قبول اسلام کے بعد گذشتہ مخالفتوں کو یاد کرکے پشیمان ہوتے تھے،چنانچہ کہا کرتے تھے، جب میں حالت کفر میں تھا تو آنحضرت ﷺ کا سب سے بڑا دشمن تھا، اگر اسی حالت میں مرجاتا تو میرے لیے دوزخ کے علاوہ کوئی ٹھکانا نہ تھا اورجب بیعت کرکے حلقہ بگوشِ اسلام ہواتو کبھی آنحضرتﷺ سے آنکھیں نہ چار کرسکا۔ [7]

سریۂ ذات السلاسلترميم

فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے عرب کے مختلف حصوں میں دعوتِ اسلام کے لیے تبلیغی دستے روانہ فرمائے تھے، اسی سلسلہ کا ایک سریہ ذات السلاسل بھی ہے،ابن سعد نے اس سریہ کو سرے سے مدافعانہ لکھا ہے،چنانچہ ان کی روایت کے مطابق صورت واقعہ یہ ہے کہ بنو قضاعہ کے کچھ اشخاص نے ایک جماعت فراہم کرکے مسلمانوں پر حملہ کا ارادہ کیا، آنحضرت ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ نے عمرو بن العاصؓ کو تین سو مہاجرین وانصار کی جمعیت کے ساتھ روانہ کیا،[8] لیکن صحیح یہ ہے کہ پہلے یہ سریہ مدافعت کی غرض سے نہیں بھیجا تھا؛بلکہ اس کا مقصد اشاعتِ اسلام تھا ،علامہ ابن اثیرنے تصریح کردی ہے کہ آنحضرتﷺ نے عمروبن العاصؓ کو قبیلہ بلی اور عذری کی طرف دعوت اسلام کے لیے بھیجا تھا، تاکہ وہ اعراب کو اسلام کی طرف راغب کریں، [9] لیکن جب قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ لڑنے پر آمادہ ہیں، عمروبن العاصؓ نے آنحضرت ﷺ سے امداد طلب کی،آپ نے دوسو آدمیوں کی ایک جمعیت ابوعبیدہؓ کے ساتھ روانہ کی جس میں حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ بھی شامل تھے اور تاکید فرمادی کہ کسی بارہ میں باہم اختلاف نہ کرنا، ابو عبیدہ ؓ امدادی دستہ لے کر پہنچے تو ان میں اور عمروبن العاصؓ میں امارت کے بارہ میں اختلاف ہوگیا، عمروبن العاصؓ کہتے تھے کہ امامت میرا حق ہے ،کیونکہ میں فوج کا امیر ہوں اور تم میری امداد کے لیے آئے ہو، اس لیے میرے ماتحت ہو، ابو عبیدہؓ نے آنحضرت ﷺ کی ہدایت کے مطابق گریز کیا اوران کی امامت قبول کرلی، اس کے بعد دونوں بلی، عذریٰ، اور بلقین کی آبادیوں کو پامال کرتے ہوئے اس کے آخری حد تک بڑھتے چلے گئے ،راستہ میں صرف ایک جماعت سے مقابلہ ہوا؛مگر وہ بھی ہزیمت کھا کر بھاگی۔

سریۂ سواعترميم

فتح مکہ کے بعد جب کہ عرب کے اکثر قبائل مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے، بعض ایسے قبائل باقی رہ گئے تھے، جو صدیوں کے اعتقاد کی بنا پر بتکدوں کو ڈھاتے ہوئے ڈرتے تھے؛ اس لیے آنحضرت ﷺ نے چند دستے صرف ان کے گرانے کے لیے بھجے تاکہ عرب کے دلوں سے ان کا خوف وہراس اوران کی عظمت جاتی رہے ،سواع بنو مذیل کا صنم کدہ تھا، آنحضرت ﷺ نے عمروبن العاصؓ کو اس کے ڈھانے پر متعین کیا، جب یہ وہاں پہنچے تو اس کے مجاورنے پوچھا کس نیت سے آئے ہو؟ عمروبن العاصؓ نے کہا اس کو ڈھانے کے لیے ، اس جواب پر اس نے مدافعت کرنے کے بجائے جواب دیا کہ تم اس کو نہ گراسکو گے،وہ خود اپنی حفاظت کرے گا، انہوں نے کہا تم اب تک اسی وہم اورباطل پرستی میں مبتلا ہو،جس میں سننے اوردیکھنے تک کی طاقت نہیں وہ روک کیا سکتا ہے،یہ کہا اوراس کو مسمار کرکے مجاور سے بولے،اس کی طاقت دیکھ لی وہ یہ واقعہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر مشرف باسلام ہوگیا۔ [10]

سفارتترميم

فتح مکہ کے بعد جب آنحضرتﷺ نے آس پاس کے حکمرانوں کے نام دعوت اسلام کے خطوط بھیجے تو عمان کے حاکموں عبید وجیضر کے پاس خط لیجا نے کی خدمت عمروبن العاصؓ کے سپرد ہوئی،اس خط پر وہ دونوں مشرف بہ اسلام ہوئے اورآنحضرت ﷺ نے عمروبن العاص کو یہاں کا عامل کردیا، [11] اس لیے وہ وفات نبوی تک یہیں مقیم رہے۔ [12]

فتنۂ ارتدادترميم

حضرت ابوبکرؓ کے استخلاف کے بعد جب ارتداد اورمدعیانِ نبوت کا فتنہ اٹھا اس وقت عمروبن العاصؓ عمان ہی میں تھے، حضرت ابوبکرؓ نے آنحضرت ﷺ کی وفات اورموجودہ حالات کی اطلاع دے کر ان فتنوں کے دبانے کے لیے بھیجا،چنانچہ یہ بحرین کے راستہ سے آگے بڑھے، راستہ میں قبیلہ بنی عامر میں قرہ بن ہبیرہ کے یہاں مہمان ہوئے اس نے بڑی خاطر ومدارات کی، چلتے وقت تنہائی میں لے جاکر کہا کہ اگر عربوں سے زکوٰۃ لی گئی تو وہ کسی کی کی امارت قبول نہ کریں گے ،ہاں اگر زکوٰۃ کا طریقہ بند کردیا گیا تو البتہ مطیع و فرمانبردار رہیں گے، اس لیے زکوٰۃ کا قانون اٹھادینا چاہئے، انہوں نے کہا قرہ!کیا تم کافر ہوگئے؟ مجھ کو عربوں سے ڈراتے ہو،خدا کی قسم میں ایسے لوگوں کو گھوڑے کی ٹاپ سے مسل ڈالوں گا، یہ شخص بعد میں جب مانعین زکوٰۃ کے سلسلہ میں گرفتار ہوا تو عمرو بن العاصؓ کی شہادت پر چھوڑدیاگیا،[13] مدینہ پہنچ کر بنو قضاعہ کے مرتدین کی سرکوبی ان کے سپرد ہوئی اورانہوں نے اپنے حسن تدبیر سے اس کو دوبارہ اسلام پر قائم کیا اوراس مہم کو سرکرنے کے بعد عمان لوٹ گئے۔

فتوحات شامترميم

فتنہ ارتداد فرو ہونے کے بعد حضرت ابوبکرصدیقؓ نے عراق وشام کی طرف توجہ کی اور۱۳ھ میں شام کے مختلف حصوں میں علیحدہ علیحدہ فوجیں روانہ کیں تو عمروبن العاصؓ کو جو اس وقت عمان میں تھے، لکھ بھیجا کہ تم کو آنحضرت ﷺ نے عمان کا والی مقرر کیا تھا، اس لیے میں نے تم کو دوبارہ واپس کردیا تھا، لیکن اب میں تم کو ایسے کام میں لگانا چاہتا ہوں جو تمہاری دنیا وآخرت دونوں کے لئے مفید ہے، انہوں نے جواب دیا کہ میں اللہ کا ایک تیر ہوں اورآپ اس کے بعد اس کے تیر انداز ہیں،اس لئے آپ کو اختیار ہے جدھر چاہے پھینکئے، [14] چنانچہ عمان سے واپس بلا کر فلسطین کی مہم پر مامور کیا۔

اجنادینترميم

ہر قل کو جب خبر ہوئی کہ اسلامی فوجیں شام کے چاروں طرف منڈلارہی ہیں، تو اس نے ان سب کے مقابلہ کے لئے علیحدہ علیحدہ فوجیں روانہ کیں تاکہ اسلامی فوجیں باہم ملنے نہ پائیں ،رومیوں کے مشہور سپہ سالار تذارق اورقبقلارتھے،اجنادین میں اپنی فوجیں اتاردیں ،عمروبن العاص اس وقت فلسطین کے علاقہ عربات میں تھے، یہ رومیوں کے اجتماع کی خبرپاکر اجنادین کی طرف بڑھے،اس درمیان خالدؓ اور عبیدہ بھی بصریٰ کی مہم سرکر کے ان کی مدد کو روانہ ہوگئے اور اجنادین میں یہ تینوں مل گئے ،رومی سپہ سالار نے پوچھا کیا خبر لائے، اس نے کہا یہ لوگ رات کو عابدِ شب زندہ دار اوردن کو میدان جنگ کے شہسوار ہیں، اگر ان کا شہزادہ بھی کسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پر شرعی حد جاری کرتے ہیں،اس نے کہا اگر واقعی ان میں یہ صفات ہیں تو زمین میں دفن ہوجاناان کے مقابلہ سے زیادہ بہتر ہے،غرض جمادی الثانی ۱۳ھ میں دونوں کا مقابلہ ہوا، رومی سپہ سالار ماراگیا اور رومیوں نے سخت ہزیمت اٹھائی۔ [15] اجنادین کے معرکہ کے بعد عمروبن العاصؓ بھی خالد اورابو عبیدہؓ کے ساتھ ہوگئے اورایک حصہ فوج کے سردار تھے۔

دمشقترميم

اجنادین کے بعد اسلامی لشکردمشق کی طرف بڑھا کہ شام کا صدر مقام تھا،اس لیے مسلمانوں نے اس کا بڑے اہتمام سے محاصرہ کیا،شہرپناہ کے تمام صدر دروازوں پر الگ الگ افسر متعین کیے،چنانچہ عمروبن العاصؓ باب توما پر مامور تھے،عرصہ تک محاصرہ قائم رہا اورآخر میں خالد بن ولیدؓ کی خوش تدبیری سے فتح ہوا۔

فحلترميم

دمشق کی فتح کے بعد فحل کا رخ کیا،لیکن رومی پہلے سے دریا کا بند توڑ کر بسیان چلے گئے تھے،جس سے دونوں کے درمیان دنیائے آب روان ہوگئی تھی اس لیے مسلمانوں نے یہیں فوجیں ٹھہرادیں، اس معرکہ میں عمروبن العاصؓ فوج کے ایک حصہ کے افسر تھے [16] مسلمان یہاں مقیم تھے کہ ایک دن اچانک اسی ہزاررومیوں نے عقب سے حملہ کردیااورایک شبانہ روز سخت کشت وخون کے بعد شکست کھائی اور جدھر راستہ ملا بھاگے، مگر مسلمانوں نے تعاقب کرکے جہاں تک مل سکے قتل کیا، اس سے فارغ ہوکر بیسان کا محاصرہ کیا، ایک دن رومیوں نے قلعہ سے نکل کر مقابلہ کیا، مگر سب کے سب مارے گئے،باقی ماندہ آبادی نے صلح کرلی۔ [17]

یرموکترميم

ان مسلسل اور پہیم شکستوں سے سارے روم میں کہرام مچ گیا اور رومیوں نے قیصر سے فریاد کی کہ مسلمانوں نے سارا شام ویران وتباہ کرڈالا،وہ بھی ان کی تاخت وتاراج سے تنگ آچکا تھا،اس لئے سارے ممالک محروسہ میں فرمان جاری کردیا کہ ساری فوجیں ایک جگہ جمع ہوجائیں اورجہاں تک آدمی مل سکیں بھرتی کیے جائیں، چنانچہ دو لاکھ انسانوں کا دل اس حکم پر امنڈآیا۔ [18] عمروبن العاصؓ نے مشورہ دیا کہ مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع ہوکر متحدہ قوت سے مقابلہ کرنا چاہیے اوردربارخلافت سے بھی اسی مشورہ کی تائید ہوئی، چنانچہ اسلامی فوجیں ہر چہارطرف سے سمٹ کر یرموک میں جمع ہوئیں،چونکہ اس معرکہ میں سارا شام امنڈآیا تھا اورمسلمانوں کی تعداد ان کے چوتھائی حصہ سے بھی کم تھی، اس لیے خالدؓ نے غیر معمولی توجہ سے کام لیا اور جدید طرز پر فوج کو چھبیس ۲۶ حصوں پر تقسیم کیا، میمنہ کے بھی کئی ٹکڑے کرکے اس پر عمروبن العاصؓ اور شرجیل بن حسنہ کو مقرر کیا، [19] اوردونوں فوجیں پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں، عرصہ تک لڑائی کا سلسلہ جاری رہا اور متعدد ہولناک لڑائیاں ہوئیں، عمروبن العاصؓ بڑے جوش وخروش سے لڑتے تھے اوراپنی پر جوش تقریروں سے آگ لگادیتے تھے ،ابتداء میں مسلمانوں کے پیراکھڑ گئے تھے ؛بلکہ بہتیرے میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے؛ لیکن پھر سنبھل کر اس زور کا حملہ کیا کہ رومی پوری کوشش کے باوجود نہ ٹھہر سکے اورمیدان بھی مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔

بقیہ فلسطینترميم

فلسطین کا کچھ حصہ عمروبن العاصؓ دمشق کے قبل لے چکے تھے،لیکن درمیان میں دمشق ،فحل یرموک وغیرہ کی مہموں کی وجہ سے پہلی مہم ناتمام رہ گئی تھی، اس لیے یرموک وغیرہ سے فراغت کے بعد عمروبن العاصؓ پھر ادھر متوجہ ہوئے،اورغزہ،سبسطین نابلس، لد، بینی، بیت، جیریں اور عمواس وغیرہ آسانی سے فتح کرکے یہ سلسلہ مکمل کردیا۔ [20]

بیت المقدسترميم

لیکن ابھی فلسطین کا سب سے بڑا شہر ایلیا (بیت المقدس) باقی رہ گیا تھا اس لیے چھوٹے چھوٹے مقامات لینے کے بعد عمروبن العاصؓ نے رومی سپہ سالار ارطبون کو خط لکھا، اس نے جواب دیا کہ اجنادین کے علاوہ اب فلسطین کا ایک چپہ زمین بھی نہیں لے سکتے [21] اس جواب کے بعد انہوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا، حضرت ابوعبیدہؓ بھی قنسرین کی مہم سرکرکے پہنچ گئے؛لیکن جنگ کی نوبت نہیں آئی، ایلیاوالوں نے اس شرط پر شہر حوالہ کردینے کا وعدہ کیا کہ خود امیر المومنین ؓ آکر اپنے ہاتھ سے معاہدہ لکھیں ؛چنانچہ ان کی خواہش کے مطابق حضرت عمرؓ ے شام کا سفر کیا اور صلح نامہ لکھ کر ان کے حوالہ کردیا، اورشام کا یہ متبرک شہر جس کو انبیاء ورسل علیہم السلام کے آرام گاہ ہونے کا شرف حاصل تھا مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور شام پر مکمل قبضہ ہوگیا۔

طاعون عمواسترميم

اسی سال شام، عراق اورمصر میں سخت طاعون پھیلا، ہزاروں جانیں ضائع ہوگئیں، عمروبن العاصؓ نے مشورہ دیا کہ یہاں وبا کا زور ہے، اس لئے فوجیں ہٹا کر کسی محفوظ مقام پر بھیج دینی چاہئے؛لیکن اسلامی فوج کے امیر حضرت ابو عبیدہؓ بڑے متوکل تھے،انہوں نے کہا یہ اللہ کی رحمت ہے، اس میں بڑے بڑے صلحاء نے وفات پائی ہے اس سے فرار کے کیا معنی، چنانچہ انہوں نے عمواس کو نہیں چھوڑا اورخود بھی اس میں مبتلا ہوگئے،آخر میں انہوں نے عمروبن العاصؓ کو اپنا جانشین مقرر کیا اورخود اس رحمت کے دامن میں آئے، ان کی وفات کے بعد عمروبن العاصؓ نے پیش قدمی روک کر طاعون زدہ مقامات سے فوجیں ہٹالیں۔

فتوحات مصرترميم

شام کا فیصلہ ہونے کے بعد بھی عمروبن العاصؓ کے بلند حوصلے پورے نہ ہوئے؛کیونکہ شام کی فتوحات میں خالدؓ اورعبیدہ کی قوتوں کوزیادہ دخل تھا، اس لئے ان کو ایسے میدان میں تلاش ہوئی جہاں تنہا اپنی تلوار کے جوہر دکھائیں اورچونکہ شام کے قریب مصر بہت زیادہ زرخیز اورشاداب مقام تھا اور عمروبن العاصؓ زمانۂ جاہلیت سے اس کی شادابی سے واقف تھے، (کیونکہ یہ تجارت کے سلسلہ میں مصر آیا کرتے تھے) اس لئے حضرت عمرؓ سےپیش قدمی کی اجازت چاہی،لیکن حضرت عمرؓ کو اجازت دینے میں دووجہوں سے پس و پیش ہوا، اول یہ کہ شام کی مہم سر کرنے کے بعد ابھی اسلامی فوجوں نے دم نہ لیا تھا، دوسرے مقوقس شاہ مصر کی قوت کا تھوڑی فوج سے مقابلہ کرنا دشوار تھا،لیکن آخر میں عمروبن العاصؓ کے اصرار اورحوصلہ مندی سے مجبور ہوکر اجازت دیدی اوران کے جانے کےبعد زبیر بن عوامؓ کو ایک جمعیت کے ساتھ امداد کے لیے روانہ کردیا، عمروبن العاصؓ نے شام سے نکل کر پہلا مقام باب الیون میں کیا۔

باب الیونترميم

عمروبن العاصؓ کے پہنچنے کے قبل آپ کی آمد کی اطلاع پاکر مصری فوجیں باب الیون پہنچ گئی تھیں، ابو مریم مصر کا اسقف ان کی قیادت کررہا تھا، اس لیے عمروبن العاصؓ کےپہنچنے کے ساتھ ہی دونوں میں جھڑپ ہوئی، مگر عمروبن العاصؓ نے لڑائی روک دی اور ابو مریم سے تخلیہ میں گفتگو کی خواہش کی ،چنانچہ وہ دونوں آئے،انہوں نے اسلام پیش کیا اورآنحضرت ﷺ کی وصیت سنائی، (حضرت ہاجرہ حضرت ابراہیمؑ کی بیوی مصری تھیں،اس تعلق سے آپ نے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی تھی کہ مصر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا) اوراسلام قبول کرنے کی صورت میں جزیہ کی شرط پیش کی، یہ دونوں چند دن کی مہلت لے کر استصواب کے لئے مقوقس کے پاس گئے؛لیکن ارطبون سپہ سالار مصرنے انکار کردیا اوراہل مصر کو اطمینان دلایا کہ تم لوگ مطمئن رہو، میں مسلمانوں کو ہٹادوں گا،عمروبن العاصؓ کئی دن تک جواب کا انتظار کرتے رہے، مگر اس درمیان میں ارطبون مقابلہ میں آگیا، مگر فاش شکست کھائی۔ [22]

عریشترميم

حضرت عمرؓ نے عمروبن العاصؓ کو مصر پر فوج کشی کی اجازت تو دیدی تھی، مگر دل مطمئن نہ تھا، اس لیے وہ عریش تک پہنچے تھے کہ فرمان خلافت پہنچا کہ اگر مصر کے حدود میں داخل نہ ہوئے ہو تو واپس چلے آؤ اورپہنچ چکے ہو تو پیش قدمی جاری رکھو ،یہ خط چونکہ عریش میں ملا (عریش شام کا مصر کی سرحد پر حکومت مصر کا ایک قریہ تھا) اس لیے واپس نہ ہوئے اور عریش لینے کے بعد فرماکی طرف بڑھے، اس کو جالینوس کا مدفن ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل تھی اوریہاں کے لوگ مقابلہ کے لئے پورے طورپر تیار تھے، اس لیے جیسے ہی اسلامی فوج پہنچی، ان لوگوں نے نکل کر مقابلہ کیا،مگر شکست کھائی۔ [23]

عین شمس یا فسطاطترميم

فرما کی تسخیر کے بعد عمروبن العاصؓ بلبیس اورام ونین وغیر فتح کرتے ہوئے عین شمس پہنچے،عین شمس زمانہ قدیم میں بڑا عظیم الشان اور گنجان شہر تھا، یہاں آفتاب کا ہیکل تھا،جس کی تیرتھ کو ہزاروں آدمی آتے تھے،لیکن جس زمانہ میں مسلمانوں کاحملہ ہوا اس وقت تباہ ہوچکا تھا، بعد میں یہی مقام آباد ہوکر فسطاط کے نام سے مشہور ہوا۔ [24] عمروبن العاصؓ کے حملہ کے وقت اگرچہ یہاں کوئی آبادی نہ تھی؛بلکہ چراگاہیں تھیں ؛تاہم قصر شمع یہاں ایک قلعہ تھا، جس میں مقوقس کی فوج رہتی تھی، مصر کی تسخیر کے لئے اس کا لینا ضروری تھا، اس لیے عمروبن العاصؓ نے بڑے اہتمام سے محاصرہ کی تیاریاں شروع کیں، اسی دوران میں زبیر بن عوامؓ بھی دس ہزار کی جمعیت لے کر پہنچ گئے اوردونوں نے دوسمتوں سے حملے شروع کردیے، (فتوح البلدان بلاذری:۲۲۰) مگر قلعہ اس قدر مستحکم تھا کہ مہینوں لگ گئے،آخر میں حضرت زبیر بن عوام نے تنگ آکر ننگی تلوار ہاتھ میں لی اور قلعہ کی فصیل پر چڑھ گئے آپ کو دیکھ کر بہت سے جانثار سیڑھی لگا کر پہنچ گئے اور سب لوگوں نے اس زور سے تکبیر کا نعرہ لگایا کہ قلعہ والے بدحواس ہوگئے اور سمجھے کہ مسلمان قلعہ میں آگئے،اس لئے انہوں نے خود اس کے دروازے کھول دیے، [25] اب ان کے لئے سوائے مصالحت کے کوئی چارہ کارنہ تھا، اس لئے صلح کی درخواست کی مسلمانوں نے منظور کرلی اوراتنی رعایت کی کہ فاتحانہ داخلہ کے باوجود شرائط بہت نرم رکھے، یہی مقام بعد میں آباد ہوکر فسطاط کے نام سے موسوم ہوا۔

فتح اسکندریہترميم

عین شمس کی فتح کے بعد عمروبن العاصؓ نے حضرت عمرؓ سے اسکندریہ کی طرف پیش قدمی کی اجازت مانگی، وہاں سے اجازت ملنے کے بعد خارجہ بن حذافہ کو مفتوحہ مقامات کا حاکم مقرر کرکے اسکندریہ روانہ ہوگئے، رومیوں اور قبطیوں کو پہلے سے اطلاع ہوچکی تھی، اس لئے انہوں نے آگے بڑھ کر روکنا چاہا اور اسکندریہ اور فسطاط کے درمیان مقام کریوں میں دونوں کا سخت مقابلہ ہوا، رومی شکست کھا کر بھاگ گئے ،[26] اور عمروؓ بن العاص بڑھتے ہوئے اسکندریہ پہنچے،یہاں کے باشندے مقابلہ کے لئے ہمہ تن تیار تھےمگر مقوقس خود صلح کا خواہش مند تھا،اس لئے اس نے مفاہمت کی درخواست کی؛لیکن عمروبن العاصؓ نے انکار کردیا، اب مقوقس کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں رہ گیا کہ وہ رومیوں کی خواہش کے مطابق جنگ کے لئے آمادہ ہوجائے ،چنانچہ قلعہ کی فصیل پر فوجوں کی صف بندی کی اورمسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے عورتوں کو بھی شامل کرلیا اوران کے چہرے شہر کی طرف کردیے تاکہ مسلمان پہنچان نہ سکیں،عمرو بن العاصؓ نے کہلا بھیجا کہ ہم یہ اہتمام سمجھتے ہیں، لیکن یادرکھو ہم نے فوج کی کثرت کے بل پر میدان نہیں سر کیے ہیں، تمہارے بادشاہ ہر قل کا جوزور وقوت میں تم سے کہیں بڑھ کر ہے،کیا انجام ہوا ،مقوقس نے جوہر موقع پر صلح کا پہلوڈھونڈتا تھا، اسکندریہ والوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ واقعی ہمارے شہنشاہ ہر قل کو ان لوگوں نے اس کے دارالسلطنت سے بھگا کر قسطنطنیہ پہنچادیا، تو ہم لوگ کس شمار میں ہیں،اس کے جواب میں اسکندریہ والوں نے اس کو بہت برا بھلا کہا اورلڑائی کی تیاریاں ہونے لگی۔

مقوقس ابتدا سے جنگ کا مخالف تھا، مگر ہر قل کے خوف سے جس کا وہ باج گذار تھا، علی الاعلان لڑائی سے کنارہ کش نہیں ہوسکتا تھا، لیکن درپردہ وہ برابر مسلمانوں سے صلح کی کوشش کرتا رہا،ہر قل کو اس کی اطلاع ہوگئی، وہ بہت برہم ہوا اوراسی وقت اسکندریہ فوجیں روانہ کردیں، لیکن مقوقس نے عمروبن العاصؓ سے پہلے ہی خفیہ معاہدہ کرلیا تھا کہ یہ جنگ ہماری مرضی کے خلاف ہورہی ہے اور ہم بدرجہ مجبوری اس میں شریک ہیں اس لئے قبطیوں اور رومیوں میں امتیازر کھنا اورقبطیوں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرنا، جس کے رومی مستحق ہیں ،اس معاہدے کے بعد قبطی ہر طرح سے مسلمانوں کے مدد گار رہے اوران کے لئے راستہ صاف کراتے اورگذرگاہوں کے پلوں کی مرمت کرتے تھے۔ غرض اسکندریہ والوں کی تیاری کے بعد مسلمانوں نے اسکندریہ کا محاصرہ کرلیا لیکن قلعہ اس قدر مضبوط مستحکم تھا کہ دو مہینہ تک کوئی نتیجہ نہ نکلا، اس درمیان میں صرف یہ واقعہ قابل ذکر پیش آیا کہ ایک دن قلعہ کے آڑ سے کچھ سوار برآمد ہوئے، ان میں اورمسلمانوں میں مڈبھیڑ ہوگئی جس میں بارہ مسلمان شہید ہوئے، رومیوں کے لئے یہ معرکہ بہت اہم تھا، کیونکہ اسکندریہ میں ان کا سب سے بڑا کنیسہ تھا، اس کے نکل جانے کے بعد ان کی مرکزیت بالکل فنا ہوچکی تھی، اس لیے خود قیصر روم نے جنگ میں شرکت کی تیاریاں شروع کیں، مگر بد قسمتی سے سازو سامان مکمل کرنے کے بعد خود چل بسا، اس کی موت سے رومیوں کی ہمت پست ہوگئی اور بہتوں نے جو اس کے ساتھ تیاریاں کررہے تھے ارادہ فسخ کردیا، کہ بغیر بادشاہ کے لڑنا بے سود ہے، البتہ اسکندریہ کی فوجیں برابر مدافعت میں مشغول رہیں اور کبھی کبھی باشندگان اسکندریہ مسلمانوں سے دوچار ہاتھ کا تبادلہ بھی ہوجاتا تھا،لیکن رومی برابر قلعہ میں رہتے تھے،ایک دن کچھ لوگ قلعہ سے نکلے اورایک مسلمان کا سرکاٹ کر اس کو ساتھ لیتے گئے ،مقتول کے قبیلہ کے لوگ بہت غضبناک ہوئے اور بغیر سر کی نعش دفنانے پر تیار نہ ہوئے، عمروبن العاصؓ نے کہا اس غیط و غضب سے کیا فائدہ ،اگر سرواپس لینا چاہتے ہو تو تم بھی کسی رومی کا سرکاٹ کر اس کو رومیوں کی طرف پھینک دو، چنانچہ ایک پادری ہاتھ آگیا، اس کا سرقلم کرکے کسی طرح رومیوں تک پہنچادیا، اس کے جواب میں انہوں نے مقتول مسلمان کا سرپھینک دیا، چونکہ لڑائی طول پکڑتی جاتی تھی، اس لیے ایک مسلمان نے مشورہ دیا کہ منجنیق نصب کرکے قلعہ پر سنگباری کی جائے لیکن عمروبن العاصؓ نے کہا کہ ایسی نازک حالت میں صف بندی توڑنا مناسب نہیں، ابھی تک جم کر دست بدست لڑائی کی نوبت نہیں آئی تھی، البتہ کبھی کبھی قلعہ والے نکل آتے تھے اور دو چار ہاتھ ردوبدل کے بعد قلعہ بند ہوجاتے ،ایک دن قلعہ سے نکل کر لڑرہے تھے کہ رومیوں کی صف سے آواز آئی ، کہ کون مسلمان میرے مقابلہ میں آتا ہے؟ حضرت مسلمہ بن مخلدؓ بڑھے، مگر بھاری بھرکم آدمی تھے اس لئے حملہ کرتے وقت گھوڑے پر سنبھل نہ سکے اور رومی نے پچھاڑ دیا، مگر مسلمانوں نے بڑھ کر بچالیا، عمروبن العاصؓ کو غصہ آگیا، انہوں نے کہا ایسے نامردوں کو میدان میں آنے کی کیا ضرورت تھی، مسلمہؓ کو بہت ناگوار ہوا، مگر مصلحت وقت کے خیال سے خاموش رہے،اور لڑائی کا بازار گرم ہوگیا، مسلمان رومیوں کو جوش میں دباتے ہوئے قلعہ کے اندر تک چلے گئے اور دیر تک قلعہ کے اندر لڑتے رہے، لیکن پھر رومیوں نے سنبھل کر مسلمانوں کو قلعہ کے باہر کردیا، ان کے نکلنے کے بعد رومیوں نے قلعہ کا دروازہ بند کرلیا، اتفاق سے چار آدمی جن میں ایک عمروبن العاصؓ اوردوسرے مسلمہ ؓ تھے،قلعہ ہی میں رہ گئے،رومیوں کی نظر پڑی تو کہا اب تم ہمارے بس میں ہو، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اپنے کو ہمارے حوالہ کردو، بیکار جان دینے سے کیا فائدہ ،عمروبن العاصؓ نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا ،البتہ اگر تم ہم کو چھوڑدو تو تمہارے قیدی واپس کردیے جائیں گے، رومی اس پر آمادہ نہ ہوئے اور رہائی کی یہ شرط ٹھری کہ چار محصورین میں سے کوئی ایک کسی رومی کا مقابلہ کرے، اگر مسلمان فتحیاب ہوجائے تو سب چھوڑدیے جائیں گے ورنہ انہیں حوالہ کردینا ہوگا، عمروبن العاصؓ راضی ہوگئے،اورخود مقابلہ میں آنا چاہا ،مگر مسلمہؓ نےسمجھا یا کہ آپ امیر ہیں، اگر آپ کو کوئی صدمہ پہنچاتو فوج کا کیا حشر ہوگا، اس لیے مجھ کونکلنے دیجئے،ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی اورمسلمہؓ مقابلہ میں آئے ،خوش قسمتی سے دوہی ایک ہاتھ میں رومی کو گرادیا اوراس طرح سے ان لوگوں کی جان بچ گئی، ان کے چھوٹنے کے بعد رومیوں کو معلوم ہوا کہ ان میں اسلامی لشکر کے سپہ سالار عمروبن العاصؓ بھی تھے، مگراب سوائے پشیمانی کے اورکیا ہوسکتا تھا اس لیے ہاتھ مل کے رہ گئے،عمروبن العاصؓ مسلمہؓ کو ڈانٹنے پر بہت نادم تھے، اس لیے رہائی کے بعد سب سے پہلے ان سے معافی مانگی، مسلمہؓ نے نہایت خوش دلی سے معاف کردیااور پھر بدستور محاصرہ میں مشغول ہوگئے، اسکندریہ کے محاصرہ کو قریب قریب دوسال ہوچکے تھے؛ لیکن ہنوز روز اول تھا، حضرت عمرؓ اس تاخیر سے بہت پریشان تھے، چنانچہ انہوں نے لکھ بھیجا کہ تم لوگ دوسال سے جمے ہوئے ہو، لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نہ نکلا ،معلوم ہوتا ہے رومیوں کی طرح تم بھی عیش وعشرت میں اور ہواوہوس میں پڑکر اپنے فرائض اورخلوص نیت کو بھول گئے جس وقت تم کو میرا خط ملے، لوگوں کے سامنے جہاد پر تقریر کرو، اورجن چار آدمیوں کو میں نے بھیجا تھا، ان کو فوج کے آگے کر کے جمعہ کے دن حملہ کردو، عمروبن العاصؓ نے فوج کو یہ خط سنادیا، اس سے ان لوگوں میں نیا جوش پیدا ہوگیا، اور فوج کو مرتب کرکے حضرت عبادہ بن صامتؓ کے نیزے پر جو بڑے رتبہ کے صحابی تھے، اپنا عمامہ لٹکا کر ان کے حوالہ کیا کہ یہ علم لیجئے اورآپ اس فوج کے سردار ہیں، حضرت عبادہؓ نے اس جوش و خروش سے حملہ کیا کہ پہلے ہی حملہ میں رومیوں کے پاؤں اکھڑ گئے، اوران کو خشکی وتری جس راستہ سے جدھر راہ ملی بھاگ نکلے ،عمروبن العاصؓ نے ایک ہزار آدمی متعین کرکے خشکی کی سمت رومیوں کا تعاقب کیا، ادھر وہ تعاقب میں مصروف تھے، رومیوں نے بحری راستہ سے پلٹ کر حملہ کردیا اور جس قدر مسلمان ملے بے دریغ قتل کردیے ،عمروبن العاص کو معلوم ہوا تو تعاقب چھوڑ کر لوٹ پڑے، رومیوں کا یہ حملہ صرف اتفاقی تھا، ان کی قوت ٹوٹ چکی تھی، اس لیے عمرو بن العاصؓ کو دوبارہ کوئی زحمت پیش نہیں آئی اورآسانی سے زیر کرلیا اورمعاویہؓ بن خدیج کو فتح کا مژدہ سنانے کے لئے دارالخلافہ روانہ کیا، وہ بعجلت منزلیں طے کرتے ہوئے ٹھیک دوپہر کے وقت مدینہ پہنچے اورسیدھے مسجد نبویﷺ میں چلے گئے، اتفاق سے اسوقت حضرت عمرؓ کی لونڈی اس طرف سے گذری، اس نے انہی سے مسافرانہ شکل میں دیکھ کر پوچھا تم کون ہو؟ کہا معاویہ بن خدیج ،عمروبن العاصؓ کا قاصد، اس نے حضرت عمرؓ کو اطلاع دی، آپ نے فوراً طلب کیا، ان کےپہنچتے پہنچتے خود آنے کو تیار ہو رہے تھے دیکھنے کے ساتھ ہی پوچھا کیا خبر لائے ،عرض کیا اللہ نے کامیاب کیا، یہ مژدہ سن کر حضرت عمرؓ نے اسی وقت منادی کرائی اورمسجد نبویﷺ میں تمام مسلمانوں کے سامنے خود معاویہؓ کی زبان سے فتح کے حالات سنوائے ،پھر پوچھا کہ تم سیدھے مسجد میں کیوں چلے گئے، عرض کیا دوپہر کا وقت تھا میں نے خیال کیا کہ آپ آرام فرماتے ہوں گے،جواب دیا کیا میں دن کو سو کر رعایا کو تباہ کرتا۔ [27] اگرچہ اسکندریہ کو مسلمانوں نے بزور شمشیر فتح کیا تھا، لیکن شہر کے امن وامان میں کوئی فرق نہیں آنے پایا اور عام آبادی میں سے کسی کو قتل یا قید نہیں کیا گیا [28] ؛بلکہ جزیہ اورخراج تشحیص کرنے کے بعد کامل امن وامان ہوگیا۔ مصر کی تسخیر کے بعد اگرچہ وہاں رومیوں کی قوت بالکل ٹوٹ چکی تھی، تاہم منتشر طور پر جابجا ابھی ان کی آبادیاں باقی رہ گئی تھیں، اس لیے عمروبن العاص ؓ نے ہر طرف تھوڑی تھوڑی فوجیں روانہ کرادیں،تاکہ آئندہ بغاوت کا خطرہ باقی نہ رہے، چنانچہ خارجہ بن حذافہ نے فیوم، اشمونین، بشروات، اخمیم اورصعید، مصر کے تمام مواضعات لیے اور عمیر بن وہب نے تینس، ومیاط، تونہ، دمیرہ،شطا،وقہلا، بوصیر وغیرہ پر قبضہ کرلیا اوریہاں کی کل آبادی نے فسطاط کے شرائط پر صلح کرلی، [29] اور عقبہ بن عامر یادردان نے مصر کی آبادیوں پر قبضہ کیا اور مصر واسکندریہ پر پورا تسلط ہوگیا۔

فتوحات مغرب برقہترميم

عمروبن العاصؓ کی فتوحات کا سیلاب اسکندریہ پہنچنے کے بعد برقہ کی طرف مڑا،برقہ فسطاط سے بیس پچیس منزل کی مسافت براسکندریہ اورطرابلس کے درمیان ایک ذرخیز سیر حاصل اورآباد رقبہ زمین تھا، یہاں کی آبادی بہت مرفہ الحال تھی، یہ قطعہ متعدد شہریوں پر مشتمل تھا، انطابلس یہاں کا بڑا شہر تھا، [30] یہ لوگ حکومت مصر کے باجگذار تھے، عمرو بن العاصؓ نے انطابلس پہنچ کر اس کا محاصرہ کرلیا، برقہ والے بہت نرم خو اور اطاعت شعار تھے، اس لیے بلاکسی مزاحمت کے جزیہ قبول کرلیا، اورتیرہ ہزار دینار سالانہ پر صلح ہوگئی۔ [31]

زویلہترميم

برقہ سے فارغ ہوکر عقبہؓ بن نافع کو زویلہ روانہ کیا، یہ سوڈان کی سرحد پر ایک آباد شہر تھا، برقہ اور زویلہ کی درمیانی آبادیوں نے بلا کسی جنگ کے خود سے اطاعت قبول کرلی۔ زویلہ والوں نے بھی بخوشی جزیہ دینا منظور کرلیا۔ [32]

طرابلس الغربترميم

زویلہ کے بعد طرابلس کا رخ کیا، طرابلس بحرروم کے ساحل پر آباد ہے، یہ مقام اس زمانہ میں آفریقہ کے ممتاز ترین مقامات میں تھا، عمروبن العاصؓ نے طرابلس کے مشرق میں فوجیں اتاردیں اورنہایت اہتمام سے اس کا محاصرہ کیا، دومہینہ تک برابر محاصرہ جاری رہا؛لیکن کہیں سے اندر جانے کا راستہ نہ ملتا تھا، ایک دن کچھ مسلمان شکار کو نکلے، واپسی میں دھوپ سخت تھی،اس لیے یہ لوگ دریا کے کنارہ کنارہ واپس ہوئے ،شہر کے قریب پہنچ کر دیکھا کہ شہر اور دریا کے درمیان کوئی فصیل یا شہر پناہ وغیرہ نہیں ہے اور دریا کے گھٹاؤ کی وجہ سے درمیان میں خشک راستہ بھی چھوٹا ہوا ہے، انہوں نے آکر فورا ًعمرو العاصؓ کو اطلاع دی ؛چنانچہ مسلمان اسی وقت حملہ کے لیے تیار ہوگئے اوراسی راستہ سے فورا ًحملہ کردیا ،اس ناگہانی حملہ سے شہر والے بالکل بدحواس ہوگئے ،دریائی راستہ سے بھاگنا آسان نہ تھا؛ کیونکہ درمیان میں مسلمان حائل تھے، اس لیے شہر ہی میں کشت وخون ہوا، چونکہ مسلمانوں کاحملہ بالکل اچانک تھا،طرابلس والے پہلے سے تیار نہ تھے، اس لیے تسخیر میں زیادہ دشواری نہ ہوئی اورآسانی سے زیر کرلیا۔ [33]

سبرہترميم

طرابلس سے آگے بڑھ کر سبرہ ایک شہر پڑتا تھا، طرابلس کی تسخیر کے بعد عمروبن العاصؓ خود وہیں رہے اور تھوڑی فوج سبرہ بھیج دی، یہ لوگ علی الصباح سبرہ پہنچ گئے، اہل شہر طرابلس کے واقعہ سے لا علم تھے، اس لیے حسب معمول صبح سویرے شہر کا پھاٹک کھول کر اپنے اپنے کاروبارمیں لگ گئے، مسلمانوں نے یلغار کرکے زبردستی شہر میں داخل ہوکر قبضہ کرلیا اور کشت وخون کی نوبت نہیں آئی۔ [34] ان مہموں کے بعد عمروبن العاصؓ نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ طرابلس فتح ہوچکا ہے آفریقہ (تونس، مراکش اورالجزائر وغیرہ) یہاں سے صرف نودن کی مسافت پر ہے، اگر امیر المومنین مناسب سمجھیں توآگے پیش قدمی کی جائے ؛لیکن وہاں سے حکم آگیا کہ افریقہ کے باشندے شورش پسند ہیں،اپنے حکمرانوں سے ہمیشہ بغاوت کرتے ہیں،اس لیے آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں؛ چنانچہ عمروبن العاصؓ نے آگے پیش قدمی روک دی۔ [35]

مصر کی گورنری اوراسکندریہ کی بغاوتترميم

ان فتوحات کے بعد حضرت عمرؓ نے عمروؓ بن العاصؓ کو مصر کی حکومت پر سرفراز کیا،کچھ دنوں کے بعد ان کا انتقال ہوگیا اور حضرت عثمانؓ سریر آرائے خلافت ہوئے، اسی زمانہ میں اسکندریہ والوں نے بغاوت کردی ،اس کا سبب یہ ہوا کہ رومی اسکندریہ پر مسلمانوں کے قبضے کے وقت سے ہمیشہ اس کے واپس لینے کی فکر میں رہتے تھے، اسکندریہ بحر روم میں ان کی نہایت اہم بندرگاہ تھی، اس کے نکل جانے کے بعد ان تمام افریقی مقبوضات خطرہ میں پڑگئے تھے؛ چنانچہ انہوں نے اسکندریہ کی رومی آبادی سے خط و کتابت کرکے اس کو بغاوت پر آمادہ کرلیا اوران کی مدد کے لیے قسطنطنیہ سے عظیم الشان لشکر بھیجا، لیکن قبطی آبادی میں اس میں کوئی حصہ نہیں لیا اور مقوقس صلح پر قائم رہا، عمروبن العاصؓ کو معلوم ہوا تو وہ مقابلہ کو نکلے دونوں میں سخت معرکہ ہوا رومی شکست کھا کر اسکندریہ کے اندر داخل ہوگئے، مسلمانوں نے شہر کے اندر داخل ہوکر جہاں تک ہوسکا مارا، منویل حضی رومی سپہ سالار مارا گیا، جب یہاں بھی پناہ نہ ملی تو اسکندریہ سے نکل کر بھاگے اور چونکہ قبطیوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا، اس لیے جذبہ انتقام میں ان آبادیوں کو لوٹتے ہوئے نکل گئے، بدحواسی میں اپنے حامیوں کو بھی تاخت وتاراج کردیا، جب مسلمانوں کا کامل تسلط ہوگیا تو قبطی عمروبن العاصؓ کے پاس فریاد لے کر آئے کہ رومیوں نے ہمارا سارا مال و متاع لوٹ لیا ہے، ہم نے مسلمانوں سے بغاوت نہیں کی تھی، اس لیے ہم کو واپس دلایا جائے ،انہوں نے شناخت کراکے جن جن لوگوں کا مال تھاواپس کرادیا اورآئندہ بغاوت کے خطرہ سے بچنے کے لیے اسکندریہ کی شہر پناہ تڑوادی۔ [36]

معزولیترميم

۲۶ھ میں حضرت عثمانؓ نے عمروبن العاصؓ کو مصر کی گورنری سے علیحدہ کردیا، حضرت عثمانؓ پر ان کے مخالفین کی جانب سے جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے اتنے بڑے فاتح اور سپہ سالار کو معزول کرکے دانشمندی کا ثبوت نہیں دیا، جس نے مصر ،اسکندریہ، اورطرابلس کا تختہ الٹ دیا تھا، لیکن درحقیقت حضرت عثمانؓ ان کی معزولی پر مجبور ہوگئے تھے،وہ بلاوجہ معزول نہیں کرتے تھے، طبری کے یہ الفاظ ہیں، وکان لا یعزل احدا الا عن شکاۃ اواستغاثۃ [37] یعنی حضرت عثمان کبھی کسی کو بغیر شکایت یا استغاثہ کے معزول نہیں کرتے تھے ،واقعہ یہ ہے کہ پیہم اس قسم کے حالات پیش آتے گئے کہ حضرت عثمانؓ کو ان کی معزولی کے سوا اورکوئی چارہ کار نظر نہ آیا ،مصر کی فتح کے بعد سے برابر عمروبن العاصؓ ہی یہاں کے حکمران رہے، البتہ حضرت عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں مصر کے ایک چھوٹے حصہ کا جو سعید مصر کے نام سے موسوم ہے، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو والی بنایا تھا، لیکن یہ تقرر بھی عمروبن العاصؓ پر بار تھا اوروہ مصر میں کسی کو بھی اپنے سوا نہ دیکھنا چاہتے تھے،لیکن حضرت عمرؓ کی زندگی میں ان کی ہیبت سے عبداللہ ؓ کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرسکے، آپ کی وفات کے بعد ہی حضرت عثمانؓ سے عبداللہ ؓ کی معزولی کی درخواست کی،لیکن آپ نے قبول نہ کی۔ [38]

مصر نہایت زرخیز ملک ہے،لیکن عمروبن العاصؓ کے زمانہ میں اس کی زرخیزی کے تناسب سے خراج نہ ملتا تھا اور حضرت عمرؓ ہی کے زمانہ سے اس کی شکایت چلی آتی تھی،حضرت عمرؓ نے اس بارہ میں ان کو ایک سخت خط بھی لکھا تھا، یہ خط اوراس کا جواب مقریزی میں موجود ہے،حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں بھی یہ شکایت برابر قائم رہی، انہوں نے بھی ان کو لکھا، مگر عمروبن العاصؓ نے صاف جواب دیا کہ گائے اس سے زیادہ دودھ نہیں دے سکتی، اس جواب پر حضرت عثمانؓ نے خراج کا عہدہ ان سے نکال کر عبداللہ بن سعد کے متعلق کردیا،عمروبن العاصؓ ،عبداللہ بن سعدؓ کا تعلق سعید مصرہی سے بمشکل برداشت کیے ہوئے تھے،اس انتظامی تغیر نے دونوں کے تعلقات اورزیادہ کشیدہ کردیے اوردونوں ایک دوسرے کے خلاف دربار خلافت میں شکایات بھیجنے لگے، عبداللہ بن سعد لکھتے تھے کہ عمروبن العاصؓ خراج کی وصولی میں رخنہ انداز ہوتے ہیں اور عمروبن العاصؓ لکھتے کہ عبداللہ جنگی تدبیروں میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں، [39] اس لیے یہ دو عملی عرصہ تک نہ چل سکی اور حضرت عثمانؓ نے عمرو بن العاصؓ کو مصر سے معزول کرکے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مستقل والی بنادیا ،یہ طبری اورابن اثیر کی روایت ہے ،لیکن کتاب الولاۃ اورحسن المحاضرہ کی روایت کے مطابق عمروبن العاصؓ اسکندریہ کی بغاوت کے پہلے ہی معزول ہو چکے تھے اوران ہی کی معزولی سے اسکندریہ والوں میں بغاوت کا حوصلہ پیدا ہوا تھا اور بغاوت برپا ہونے کے بعد پھر حضرت عثمانؓ کو مجبور ہوکر ان کو اس کے فرو کرنے پر مامور کرنا پڑا، جب وہ بغاوت کا خاتمہ کرچکے تو حضرت عثمان نے ان کو امارت جنگ کے عہد پر بحال کرنا چاہا؛ لیکن انہوں نے قبول نہ کیا اورجواب دیا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ سینگ میں پکڑوں اور دودھ دوسرا دھوھے، اس روایت کے مطابق عمروبن العاصؓ کی معزولی کا واقعہ ۲۵ھ میں پیش آیا، عمروبن العاصؓ اپنی معزولی پر حضرت عثمانؓ سے اس درجہ برہم ہوئے کہ جب معزولی کے بعد مصرسے مدینہ آئے اور حضرت عثمانؓ سے ملاقات ہوئی تو وہ ان کی باتوں کا ٹھیک جواب بھی نہ دیتے تھے، جس وقت ان سے اورحضرت عثمانؓ سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی، اس وقت یہ لبادہ پہنے ہوئے تھے، حضرت عثمانؓ نے پوچھا اس لبادہ میں کیا بھرا ہے،جواب دیا، عمروبن العاصؓ ،حضرت عثمان نے کہا یہ تو میں بھی جانتا ہوں، [40] میرا مطلب یہ ہے کہ روٹی ہے یا اورکوئی چیز؟ پھر پوچھا تم نے عبداللہ بن سعد کو مصر میں کس حالت میں چھوڑا ،کہا جس حال میں آپ چاہتے تھے، پوچھا اس کا کیا مطلب ،کہا اپنے نفس کے لیے قوی اوراللہ کے لیے ضعیف ،فرمایا میں نے ان کو تمہارے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت کی تھی جواب دیا، آپ نے ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بارڈالا۔ [41] اس وقت عبداللہ بن سعد کا بھیجا ہوا خراج پہنچ چکا تھا اوراس کی تعداد عمروبن العاصؓ کے زمانہ کے خراج سے بہت زیادہ تھی،حضرت عثمانؓ نے ان سے کہا دیکھو اونٹنی نے دودھ دیا، انہوں نے کہا ہاں لیکن بچے بھوکے رہ جائیں گے۔ [42] مگر عمروبن العاصؓ معزولی کے بعد بھی حضرت عثمانؓ کے اسی طرح خیر خواہ رہے، جس طرح معزولی کے قبل تھے، چنانچہ جب مصر کے باغیوں کا گروہ چلا اور حضرت عثمانؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے عمروبن العاصؓ کو سمجھانے کے لیے بھیجا،انہوں نے اپنے سابق اثر سے کام لے کر ان کو واپس کیا اور شہر کے لوگوں کو جمع کرکے حضرت عثمان کی طرف سے صفائی پیش کی۔ [43] حضرت عثمانؓ کو جب کبھی مشکلات پیش آتی تھیں تو عمروبن العاصؓ سے مشورہ کرتے تھے یہ نہایت خیر خواہی سے مشورہ دیتے تھے،سازش کے زمانہ میں جب باغیوں نے اپنے مطالبات پیش کیے تو آپ نے ایک مجلس شوری منعقد کی، اس کے ایک رکن عمروبن العاص بھی تھے، تمام اراکین سے مشورہ کرنے کے بعد عمروبن العاصؓ سے خاص طور پر ان کی رائے پوچھی،انہوں نے کہا آپ ضرورت سے زیادہ نرمی کرتے ہیں،گرفت کے موقعوں پر چشم پوشی کرجاتے ہیں، عمرؓ سے زیادہ آپ نے لوگوں کو آزادی دے رکھی ہے، میرا مشورہ یہ ہے کہ ملکی انتظام میں اپنے پیشروابوبکرؓ وعمرؓ کے نقش قدم پرچلیے اورنرمی کے موقع پر نرمی اورسختی کے موقع پر سختی سے کام لیجئے۔ [44]

عہد علیؓ ومعاویہؓترميم

معزولی کے بعد عمروبن العاصؓ نے سیاسی زندگی سے کنارہ کش ہوکر فلسطین میں اقامت اختیار کرلی تھی اور کبھی کبھی مدینہ آجاتے تھے ،حضرت عثمانؓ کے محصور ہونے کے وقت مدینہ میں موجود تھے،لیکن جب دیکھا کہ فتنہ وفساد کے شعلے قابو سے باہر ہوگئے تو یہ کہہ کر کہ عثمانؓ کے قتل میں جس کا ہاتھ ہوگا، اس کو اللہ ذلیل کریگا،جو شخص ان کی مددنہ کرسکتا ہو اس کو مدینہ چھوڑدینا چاہئے اور خود شام چلے گئے،مگر دل برابر ان میں لگارہا ،ہر آنے جانے والے سے حالات پوچھ لیا کرتے تھے، [45] اس کے بعد حضرت عثمانؓ کی شہادت کا واقعہ کبریٰ پیش آیا، پھر جنگ جمل کا ہنگامہ ہوا،مگر انہوں نے دائرہ عزلت سے باہر قدم نہیں نکالا۔ پھر جب حضرت علیؓ اورامیر معاویہؓ میں اختلاف شروع ہوا اورحضرت علیؓ نے جریر بن عبداللہ بجلی کو بیعت کے لیے امیر معاویہ ؓ کے پاس بھیجا اوریہ مطالبہ کیا کہ بیعت کرو، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ تو معاویہؓ نے اپنے خاندان والوں سے مشورہ کیا، عتبہ بن ابی سفیان نے رائے دی کہ عمروبن العاصؓ کو بلا کر ان سے مشورہ لو، عمروبن العاص ؓ اس وقت فلسطین میں تھے بلا کر آئے، (طبری کی ایک روایت یہ ہے کہ عمروبن العاصؓ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر سن کر خود آئے تھے) معاویہؓ نے کہا اس وقت کئی مہمیں درپیش ہیں، محمد بن حنفیہ قید خانہ توڑ کر اپنے ساتھیوں سمیت فرارہوگئے ہیں، قیصر روم علیحدہ چڑھائی پر آمادہ ہے، تیسرا اورسب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ علیؓ نے بیعت کا مطالبہ کیا ہے اورانکار کی صوررت میں جنگ پر آمادہ ہیں ،انہوں نے مشورہ دیا کہ محمد بن حنفیہ کا تعاقب کراؤ مل جائیں تو فبہا ورنہ کوئی حرج نہیں ،قیصر روم کے قیدی چھوڑ کر اس سے مصالحت کرلو، علیؓ کا معاملہ البتہ بہت اہم ہے،مسلمان کبھی بھی تم کو ان کے برابر نہ سمھیں گے، معاویہؓ نے کہا وہ عثمانؓ کے قتل میں معاون تھے، امتِ اسلامیہ میں پھوٹ ڈال کر فتنہ پیدا کیا، عمروبن العاصؓ نے کہا لیکن تم کو سبقت اسلام اور قرابت نبویﷺ کا شرف حاصل نہیں ہے اور میں تمہارے مقصد کے حصول کے لیے خواہ مخواہ کیوں تمہاری مدد کروں، امیر معاویہؓ نے کہا آخر کیا چاہتے ہو، عمروبن العاص ؓ نے کہا مصر، معاویہؓ نے کہا تم مصر چاہتے ہو اور مصر کسی طرح عراق سے کم نہیں ہے، عمروؓ نے کہا ہاں ،لیکن مصر کا مطالبہ اس وقت ہے جب علیؓ کو تم مغلوب کرچکے ہوگے اوردنیا تمہارے زیر نگیں ہوگی، اس گفتگو کے بعد عمروبن العاصؓ اپنی قیام گاہ پر چلے گئے، عتبہ نے معاویہؓ سے پھر اصرار کیا کہ مصردےکر کیوں نہیں فائدہ اٹھاتے ،ان کے اصرار پر معاویہؓ راضی ہوگئے اور دوسرے دن صبح کو عمروبن العاصؓ سے مصر دینے کا تحریری وعدہ کرلیا۔ [46]

عمروبن العاصؓ نے مشورہ دیا کہ پہلے عمائد شام کے دلوں میں یہ بیٹھا دو کہ عثمانؓ کی شہادت میں علیؓ کا ہاتھ تھا،پھر ان کو ان کی مخالفت پر آمادہ کروورنہ کامیابی ناممکن ہے اور سب سے پہلے شرجیل بن سمط کندی کو جو شام کے بااثر آدمی ہیں یقین دلا کر اپنا ہم خیال بناؤ،غرض امیر معاویہؓؓ نے ان کی بتائی ہوئی تدبیروں سے عمائدِ شام کو یقین دلادیا کہ عثمانؓ کےخون بے گناہی سے علیؓ کا ہاتھ بھی رنگین ہے،شرجیل کو پورا یقین ہوگیا اور انہوں نے شام کا دورہ کرکے لوگوں کو حضرت علیؓ کے خلاف ابھارنا شروع کیا،[47] اور معاویہؓ نے خلیفہ مظلوم کے خون آلود پیراہن اورحضرت نائلہؓ کی کٹی ہوئی انگلیوں کی نمائش کر کے سارے شام میں آگ لگادی، لوگ آتے تھے اور یہ المناک نظارہ دیکھ دیکھ کر روتے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے قسم کھالی کہ جب تک قاتلین عثمان ؓ کو قتل نہ کریں گے اس وقت تک نہ بستر پر لیٹیں گے نہ عورتوں کو چھویں گے۔ [48]

اس کے بعد طرفین نے جنگی تیاریاں شروع کردیں اور عمروبن العاصؓ شام کی فوج کے امیر العسکر مقرر ہوئے اور وہ المناک جنگ شروع ہوئی جو تاریخ اسلام میں جنگ صفین کے نام سے مشہور ہے،اس جنگ کا سلسلہ مدتوں رہا، آخری فیصلہ کن معرکہ کے بعد جب عمروبنؓ العاص کو یقین ہوگیا کہ اب شامی زیادہ دیر تک میدان میں نہیں ٹھہر سکتے تو یہ تدبیر کی کہ نیزوں پر قرآن آویزاں کرکے اعلان کرادیا کہ کتاب اللہ سے جو فیصلہ ہوجائے اس پر ہم راضی ہیں ،قرآن پاک کے اٹھتے ہی کوفیوں نے جنگ سے ہاتھ روک لیا، حضرت علیؓ لاکھ سمجھاتے رہے کہ یہ محض فریب ہے ،لیکن کسی نے نہ سنا ،جب اختلاف کا خطرہ بڑھا تو آپ بھی چاروناچار آمادہ ہوگئے۔ دوسرے دن امیر معاویہؓ کے پاس آدمی بھیجا کہ تحکیم کا طریقہ کیا ہوگا، انہوں نے کہا ایک حکم تمہارا ہو اورایک ہمارا، دونوں کتاب اللہ کی روسے جو فیصلہ کردیں وہ دونوں کے لیے واجب التسلیم ہوگا، غرض عمروبن العاص شامیوں کی جانب سے اور ابوموسیٰ کوفیوں کی جانب سے حکم مقرر ہوئے اور ثالثی نامہ تحریر ہوا، کہ حکمین اختلاف امت کا خیال رکھتے ہوئے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی روسے عدل وانصاف کے ساتھ جو فیصلہ کردیں گے وہ طرفین کے لئے واجب التسلیم ہوگا اور جوفریق اس کو نہ مانے گا، اس کے خلاف دونوں حکم مدددیں گے، اگر درمیان میں کوئی حکم مرگیا تو اس فریق کو دوسرا حکم مقرر کرنے کا اختیار ہوگا، اس ثالثی کے بعد دونوں نے اپنی اپنی فوجیں ہٹالیں اور عمروبن العاصؓ اور ابوموسیٰ اشعریؓ سے تبادلہ خیالات شروع ہوا جس کا خلاصہ یہ ہے۔ عمروبن العاصؓ : آپ کو معلوم ہے کہ عثمانؓ مظلوم شہید کیے گئے۔ ابوموسیٰؓ : بیشک۔ عمروبن العاصؓ : آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ معاویہؓ آل معاویہ ان کے طرفدار ہیں۔ ابوموسیٰؓ : یہ بھی صحیح ہے۔ عمرو بن العاصؓ : ایسی صورت میں قرآن کا یہ حکم ہے،وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا اس کے علاوہ نسبا بھی وہ قریشی ہیں،ہاں سابقین میں نہیں ہیں، یہ کوئی ایسا مانع نہیں ہے، اس کے علاوہ ان میں اور بہت سے اوصاف موجود ہیں،انہوں نے خلیفہ مظلوم کی حمایت کی، حسنِ تدبراورحسن سیاست میں یگانہ ہیں،ام المومنین ام حبیبہؓ کے بھائی اورآنحضرت ﷺ کے صحابی ہیں۔ ابوموسیٰؓ :عمروبن العاص! اللہ کا خوف کرو،تم نے معاویہ کے جو فضائل بیان کیے،ان میں سے کوئی بھی ایسے نہیں ہیں، جو ان کو خلافت کا مستحق بناتے ہوں اگر محض شرافت پر استحقاق خلافت کا انحصار ہوتا تو آل ابرہہ ان سے زیادہ مستحق ہوتے ،خلافت محض اہل دین اورصاحب فضل افراد کا حق ہے، اگر شرف کی بنیاد پر میں کسی کو خلافت دیتا تو سب سے زیادہ علیؓ مستحق تھے اور تمہاری یہ دلیل کہ انہوں نے عثمانؓ کے خون کے بدلہ کا بار اٹھایا ہے، ایسی نہیں ہے جس سے ان کو مہاجرین اولین پر فضیلت حاصل ہوسکے تم مانتے ہو تو مانو، لیکن میں کسی حالت میں اس کو نہیں مان سکتا، رہی یہ طمع کہ معاویہ کے نزدیک میری قدر ومنزلت بڑھ جائے گی یا ان سے مجھ کو مالی فائدہ ہوگا تو یہ مجھ پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی ،اللہ کے معاملہ میں رشوت ستانی گوارا نہیں کرسکتا ،ہاں اگر تم چاہو تو عمربن الخطابؓ کا نام زندہ کردیں۔ عمروبن العاصؓ :اگر آپ ابن عمرؓ پر راضی ہیں تو میرے لڑکے میں کیا خرابی ہے،اس کے فضائل سے آپ اچھی طرح واقف ہیں۔ ابوموسیٰ :تمہارا لڑکا یقیناً بہت سچا ہے، مگر تم نے اس کو اس فتنہ میں مبتلا کرکے محفوظ نہ چھوڑا۔ عمروبن العاصؓ :خلیفہ ایسے شخص کو ہوناچاہیے، جس کے دو داڑھ ہوں، ایک سے خود کھائے ،دوسرے سے لوگوں کو کھلائے۔ ابوموسیٰ :مسلمانوں نے بڑی جنگ وجدل کے بعد یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے،خدارا،اب دوبارہ ان کو فتنہ میں نہ ڈالو۔ غرض دونوں باہمی تبادلہ خیالات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ حضرت علیؓ اور معاویہؓ دونوں کو معزول کرکے نئے سرے سے خلیفہ کا انتخاب کیا جائے کہ یہ کشت وخون کسی طرح بند ہو، چنانچہ مقررہ تاریخ پر دو مۃ الجندل میں فریقین جمع ہوئے، جب فیصلہ سنانے کا وقت آیا تو عمروبن العاصؓ نے ابوموسیٰؓ سے کہا کہ آپ میرے بزرگ اورآنحضرت ﷺ کے مقرب صحابی ہیں، اس لیے پہلے آپ فیصلہ سنائیے، ابوموسیٰ ؓ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو مخاطب کرکے کہا کہ صاحبو! بہت غور وفکر کے بعد ہم دونوں اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ علیؓ اور معاویہؓ دونوں کو معزول کیے بغیر امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی، اس لیے میں نے ان دونوں کو معزول کیا، اب آپ لوگوں کو اختیار ہے جس کو خلافت کا اہل سمجھیں اس کو اپنا خلیفہ بنالیں، ابوموسیٰ ؓ کے فیصلہ سنانے کے بعد عمروبن العاصؓ نے کھڑے ہوکر کہا: آپ لوگوں نے ابوموسیٰؓ کا فیصلہ سن لیا، انہوں نے علیؓ اور معاویہؓ دونوں کو معزول کیا، میں بھی علیؓ کو معزول کرتا ہوں، لیکن معاویہؓ کو برقرار رکھتا ہوں۔ عمروبن العاصؓ کےاس فیصلہ سے مجمع میں سناٹا چھاگیا، ابوموسیٰؓ نے ان کو برا بھلا کہنا شروع کیا اور قریب تھا کہ تلواریں میان سے نکل آئیں، لیکن شامیوں نے فوراً حضرت ابوموسیٰ کو اونٹ پر بیٹھا کر مکہ روانہ کردیا اور عمروبن العاصؓ بھی ہٹ گئے۔

مصر پر حملہترميم

اس فیصلہ کے بعد عمروبن العاصؓ نے مصر لینے کے لیے مسلمہ بن مخلد انصاری اور معاویہ بن خدیج کندی سے خط و کتابت شروع کی، یہ دونوں حضرت عثمانؓ کی شہادت سے بہت متاثر اورحضرت علیؓ کے مخالف تھے،اس لیے دونوں ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے، اس کے بعد عمروبن العاصؓ چھ ہزار فوج لے کر روانہ ہوگئے، اس وقت محمد بن ابی بکر حضرت علیؓ کی طرف سے مصر کے گورنر تھے، عمروبن العاصؓ نے ان کو خط لکھا کہ مصر والے تمہارے مخالف ہیں، لڑائی میں ایک شخص بھی تمہارا ساتھ نہ دے گا، لہذا تم مصر چھوڑ دو، میں خواہ مخواہ تمہارے خون سے اپنا ہاتھ نہیں رنگنا چاہتا، محمد نے یہ خط حضرت علیؓ کے پاس بھیج دیا، وہاں سے مقابلہ کرنے کا حکم آیا، محمد بن ابی بکر نے عمروؓ بن العاص کو مقابلہ کی اطلاع دیدی، عمروبن العاصؓ دو ہزار آدمی لے کر بڑے، محمد بھی میدان میں آئے اور ایک خونریز مقابلہ کے بعد مصر فوج کے قوت بازو "کنانہ" مارے گئے،ان کا گرنا تھا کہ مصریوں کے پاؤں اکھڑ گئے، عمروبن العاصؓ محمد بن ابی بکر کی طرف بڑھے،مگر وہ شکست کے آثار دیکھ کر پہلے نکل گئے تھے، عمروبن العاصؓ نے ہر طرف آدمی دوڑائے اور وہ گرفتار کر کے لائے گئے، اس وقت بہت پیاسے تھے،لیکن شامیوں نے پانی تک نہ دیا اور تشنہ لب قتل کردیے گئے اور مصر پر عمروبن العاصؓ کا قبضہ ہوگیا۔

عمروبن العاصؓ پر قاتلانہ حملہترميم

نہروان میں خارجیوں کی شکست اورقتل عام سے ان کے بقیہ افراد میں انتقام کا جذبہ بہت ترقی کرگیا تھا، اس لیے ابن ملجم ،برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر التمیمی نے مشورہ کیا کہ سارا فساد علیؓ، معاویہؓ اور عمروؓ بن العاص کی وجہ سے ہے اس لیے ان کا قصہ پاک کردینا چاہیے، چنانچہ ایک مقررہ شب کو تینوں نے تینوں اشخاص پر خفیہ حملہ کیا، ابن ملجم نے حضرت علیؓ کو شہید کیا، برک بن عبداللہ نے معاویہ پر حملہ کیا، مگر زخم اوچھا لگا، اس لیے بچ گئے،عمروبن بکر، عمروبن العاصؓ پر متعین تھا، مگر اتفاق سے اس دن عمروبن العاص کی طبیعت کچھ ناساز تھی، اس لیے ان کے بجائے خارجہ بن حذافہ نماز پڑھانے نکلے، عمرونے ان ہی کو عمروبن العاصؓ سمجھ کر قتل کردیا۔ [49]

مصر کی گورنریترميم

مصر اورشام پرامیر معاویہؓ کے مستقل قبضہ کے بعد ان میں اور عمروبن العاصؓ میں مصر کے معاملہ میں شکر رنجی ہوگئی، مگر معاویہ بن خدیج نے درمیان میں پڑکر صلح کرادی اور معاویہؓ نے عمروبن العاصؓ کو چند شرائط کے ساتھ مصر کا والی بنادیا، ان شرائط میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ ہمیشہ معاویہ کے اطاعت گذار ہیں گے، مزید توثیق کے لیے عہد نامہ لکھا گیا اس پر شاہدوں سے دستخط لیے گئے۔ [50]

وفاتترميم

عمروبن العاصؓ بہ اختلاف روایت ۴۳یا ۴۷یا ۵۱ھ میں مصر ہی میں اپنے عہد حکومت میں بیمار ہوئے،عمر کافی پاچکے تھے،زندگی کی زیادہ امید نہ تھی، اس لئے مرض الموت میں اپنی گذشتہ لغزشوں پر بہت نادم تھے۔ ابن عباسؓ عیادت کو آئے، سلام کے بعد پوچھا ابو عبداللہ! کیا حال ہے؟ جواب دیاکیا پوچھتے ہو، دنیا کم بنائی مگر دین زیادہ بگاڑا، اگر اس کا بگاڑاہوتا جس کو بنایا ہے اوراسے بنایا ہوتا جس کو بگاڑا ہے تو یقیناً کامیاب ہوتا، اگر آخر عمر کی آرزو فائدہ مند ہوتی تو ضرور آرزو کرتا، اگر بھاگنے سے بچ سکتا تو ضرور بھاگتا،مگر اب منجنیق کی طرح زمین وآسمان کے درمیان معلق ہوں، نہ ہاتھوں کے سہارے اوپر چڑھ سکتا ہوں نہ پاؤں کے سہارے نیچے اتر سکتا ہوں، اے بھتیجے !مجھ کو کوئی ایسی نصیحت کر کہ اس سے فائدہ اٹھاؤں، ابن عباسؓ نے کہا افسوس اب وہ وقت کہاں، اب وہ بھتیجا بوڑھا ہوکر آپ کا بھائی ہوگیا ہے، اگر آپ رونے کے لیے کہیں تو میں رونے کے لیے تیارہوں ،مقیم سفر کا کیسے یقین کرسکتا ہے، عمروبن العاصؓ نے کہا، اس وقت اسی برس سے کچھ اوپر میری عمر ہے اور تو مجھ کو پروردگار کی رحمت سے ناامید کرتا ہے،خدایا یہ ابن عباس مجھ کو تیری رحمت سے ناامید کررہا ہے ابھی تو مجھے یہاں تک تکلیف دے کہ راضی ہوجا، ابن عباسؓ نے کہا ہیہات ابوعبداللہ جو چیز لی تھی وہ تو نئی تھی اور جو دے رہے ہو وہ پرانی ہے، عمروبن العاصؓ نے کہا، ابن عباس تم کو کیا ہوگیا ہے، جو بات میں کہتا ہوں تم اس کا الٹا کہتے ہوں۔ ابن شمامہ مہری کہتے ہیں کہ عمروبن العاصؓ کے مرض الموت میں ہم ان کی عیادت کو گئے وہ دیوار کی طرف منہ کرکے رونے لگے، ان کے بیٹے عبداللہ نے دلاسا دیا کہ ابا کیا آپ کو آنحضرت ﷺ نے فلاں فلاں بشارتیں نہیں دی ہیں؟ جواب دیا میرے پاس افضل ترین دولت "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ"کی شہادت ہے، مجھ پر زندگی کے تین دور گذرے ہیں، ایک وہ دور تھا جس میں آنحضرت ﷺ کا سخت ترین دشمن تھا اور میری سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ کسی طرح قابو پاکر آپ کو قتل کردوں،اگر اس حالت میں مرجاتا تو میرے لیے دوزخ یقینی تھی،پھر اللہ عزوجل نے میرے دل میں اسلام ڈالا،میں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ! ہاتھ پھیلائیے میں بیعت کروں گا، آپ نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے سمیٹ لیا، فرمایا عمروبن العاصؓ! تم کو کیا ہوگیا میں نے عرض کیا میں ایک شرط چاہتا ہوں، فرمایا وہ کونسی شرط ہے، میں نے عرض کیا میری مغفرت ہوجائے،فرمایا، عمروبن العاصؓ ! کیا تم کو معلوم نہیں کہ اسلام اپنے پہلے تمام گناہوں کو کالعدم کردیتا ہے ،ہجرت اپنے پہلے کے گناہوں کو مٹادیتی ہے، حج اپنے پہلے کے گناہوں کو گرا دیتا ہے،اس کے بعد یہ حالت ہوگئی کہ رسول اللہﷺ سے زیادہ نہ میرا کوئی محبوب رہا اور نہ ان سے زیادہ میری نگاہ میں کوئی بزرگ باقی رہا، میں آپ کی انتہائی عظمت وہیبت کی وجہ سے آپ کو نظر بھر نہیں دیکھ سکتا تھا اگر کوئی مجھ سے آپ کا حلیہ پوچھے تو میں نہیں بتاسکتا کہ میں نے نظر بھر کبھی دیکھا ہی نہیں اگر اس حالت میں مرجاتا تو جنت کی امید تھی، پھرتیسرا دور آیا جس میں میں نے مختلف قسم کے اعمال کیے، اب میں نہیں جانتا کہ میرا کیا حال ہو گا جب میں مرجاؤں تو نوحہ کرنے والیاں میرے ساتھ نہ جائیں، نہ جنازہ کے پیچھے آگے جائے، دفن کرتے وقت مٹی آہستہ آہستہ ڈالی جائے ،دفن کرنے کے بعد اتنی دیر قبر کے پاس رہنا جب تک جانور ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم ہوجائے، تاکہ میں تمہاری وجہ سے مانوس ہوجاؤں اور یہ غور کرلوں کہ اپنے رب کے قاصدوں کو کیا جواب دوں۔

موت کے وقت اپنے محافظ دستے کو بلا بھیجا اورپوچھا کہ میں تمہارا کیسا ساتھی تھا؟ جواب ملاکہ آپ ہمارے سچے ساتھی تھے، ہماری عزت کرتے تھے،ہم کو دل کھول کر لیتے دیتے تھے،یہ سلوک کرتے تھے وہ کرتے تھے، کہا میں یہ سلوک اس لیے کرتا تھا کہ تم مجھ کو موت سے بچاؤگے،یہ موت سامنے کھڑی ہوئی کام تمام کرنا چاہتی ہے،اس کو کسی طرح سے میرے سامنے سے دور کرو، یہ عجیب فرمائش سن کر ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے، کچھ دیر کے بعد بولے، اباعبداللہ! خدا کی قسم ہم کو آپ سے ایسی فضول بات سننے کی امید نہ تھی ،آپ جانتے ہیں کہ موت کے مقابلہ میں ہم آپ کےکچھ کام نہیں آسکتے ،عمروبن العاصؓ نے کہا میں نے یہ جانتے ہوئے تم سے ایسی فرمائش کی تھی کہ تم موت کے مقابلہ میں میری کوئی مدد نہیں کرسکتے ،کاش! میں نے تم میں سے کسی کو اپنی حفاظت کے لیے نہ رکھا ہوتا،افسوس ابن ابی طالب سچ کہتے تھے کہ انسان کا محافظ خود اس کی موت ہے، خدایا میں بری نہیں ہوں کہ معذرت کروں ،طاقتور نہیں ہوں کہ غالب آجاؤں،اگر تیری رحمت نے دستگیری نہ کی تو میں ہلاک ہوجاؤں گا۔ [51] اس کے بعد اپنے صاحبزادہ سے وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو پہلےمعمولی پانی سے نہلا کر کپڑے سے خشک کرنا ،پھر تازہ اورصاف پانی سے نہلانا، تیسری مرتبہ کافور آمیز پانی سے غسل دینا اورکپڑے سے خشک کرنا،کفناتے وقت ازار کس کر باندھنا کہ میں مخاصم ہونگا،جنازہ درمیانی چال سے لے چلنا، لوگوں کو جنازہ کے پیچھے رکھنا کہ اس کے آگے ملائکہ چلتے ہیں اور پچھلا حصہ بنی آدم کے چلنے کے لئے ہے،قبر میں رکھنے کے بعد مٹی آہستہ آہستہ ڈالنا، پھر دعا میں مصروف ہوگئے کہ الہا تو نے حکم دیا، میں نے عدول حکمی کی تو نے ممانعت کی میں نے نافرمانی کی میں بری نہیں ہوں کہ معذرت کروں طاقتور نہیں ہوں کہ غالب آجاؤں ہاں لا الہ الا اللہ لا الہ الا اللہ یہی کہتے کہتے جان ،جان آفریں کے سپرد کردی، انا للہ وانا الییہ راجعون۔ [52] یکم شوال ۴۳ھ بعد نماز عید الفطر آپ کے صاحبزادہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور مقطم میں سپرد خاک کیے گئے۔ [53]

اولادترميم

دولڑکے تھے،عبداللہ اورمحمد،دونوں خولہ بنت حمزہ کے بطن سے تھے۔

فضل وکمالترميم

اسلام کے بعد عمروبن العاصؓ کی عمر کا زیادہ حصہ میدان جنگ میں گذرا،اس لیے سرچشمۂ علم و عرفان سے فائدہ اٹھانے کا موقع کم ملا، پھر بھی علم کی دولت سے بالکل تہی دامن نہ تھے۔

قرأتِ قرآنترميم

قرآن مجید بہت سے فنون کا مجموعہ ہے،اس کی قرأت بھی مستقل فن ہے ،عمروبن العاصؓ کو قرآن سے خاص ذوق تھا، اورقرآن بہت صاف وواضح پڑھتے تھے۔ [54]

علم حدیث اور اس کی اشاعتترميم

اگرچہ عمروبن العاصؓ کو لڑائیوں کی شرکت کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہنے کا موقع کم ملا، تاہم جو لمحات بھی میسر آئے انمیں خوشہ چینی سے غافل نہ رہے اور اقوال نبوی ﷺ کی خاصی تعداد ان کے حصے میں آئی، ان کی مرویات کی تعداد ۳۹ ہے، ان میں تین متفق علیہ ہیں اورایک میں بخاری اور تین میں مسلم منفرد ہیں، [55] حدیث کے اس سرمایہ کو تنہا اپنی ذات تک محدود نہ رکھا، بلکہ دوسرے مسلمانوں تک پہنچایا، آپ کے مستفیدین کی تعداد بھی کافی ہے، ان میں آپ کے صاحبزادہ ،عبداللہ، غلام ابوقیس اور قیس بن ابی حازم،ابو عثمان نہدی،علی بن رباح ،لخمی،عبدالرحمن بن شمامہ، عروہ بن زبیر، محمد بن کعب، عمارہ بن حزیمہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

تعلیم وتلقینترميم

عمروبن العاصؓ جنگی مصروفیتوں کے ساتھ ساتھ تعلیم و تلقین کا فرض بھی انجام دیتے تھے، چنانچہ سریہ ذات السلاسل میں کامیابی کے بعد وہیں مقیم ہوکر نو مسلموں کو تعلیم دیتے تھے، آنحضرت ﷺ کے بعد جب دنیا طلبی کی ہوس زیادہ ہوگئی تھی، اس وقت لوگوں کے سامنے تقریر کرتے اوران کو اسوۂ نبوی کی پیروی کی ہدایت کرتے تھے، علی بن رباح روایت کرتے ہیں کہ ایک دن عمروبن العاصؓ منبر پر تقریر کررہے تھےکہ آج تم لوگوں کا حال یہ ہورہا ہے کہ آنحضرت ﷺ جن چیزوں سے احتراز فرماتے تھے، تم ان کی طرف راغب ہورہے ہو اوردنیا کی تمنا کرتے ہو، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس سے کنارہ کشی اختیار فرماتے تھے۔ [56]

علم اجتہادترميم

تمام مسائل میں علی الترتیب قرآن وحدیث سے کام لیتے تھے،لیکن ان دونوں سے رہنمائی نہ ہوتی اوران کے حل کرنے کا کوئی تیسرا ذریعہ نہ ہوتا تو اجتہاد سے کام لیتے، سریہ ذات السلاسل میں ایک شب نہانے کی ضرورت پیش آگئی، جاڑا سخت تھا،نہانے میں بیماری کا خطرہ تھا، اورنہ نہانے کی صورت میں نماز جاتی تھی، چنانچہ اس موقع پر انہوں نے غسل کی حالت کو وضو پر قیاس کرلیا کہ پانی نہ ملنے یا بیماری کے خطرہ کی صورت میں تیمم جائز ہوجاتا ہے اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی ،واپس آکر آنحضرت ﷺ سے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ عمروبن العاصؓ:تم نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھ لی،عرض کیا یا رسول اللہﷺ رات بہت ٹھنڈی تھی،نہانے کی صورت میں ہلاکت کا خوف تھا،اس موقع پر مجھ کو قرآن کی یہ آیت یاد آگئی کہ" لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا" اس لیے میں نے تیمم کرلیا، آنحضرت ﷺ ہنس کر خاموش ہوگئے۔ [57]

ادب وانشاترميم

ادب وانشا میں ذوق سلیم پایا تھا، اپنے عہد کے بہترین انشا پردازوں میں تھے، اختصار،جامعیت اوربدیع تشبیہات ان کی انشا پردازی کی خصوصیات تھین،تاریخ کی کتابوں میں ان کی ادبیت کی بہت سے مثالیں ہیں،بعض نمونے یہ ہیں،مشہور عام الرمادہ میں یعنی جس سال عرب میں قحط پڑا تھا،عمروبن العاصؓ کو مصر سے غلہ بھیجنے میں تاخیر ہوئی تو حضرت عمرؓ نے ان کو لکھا کہ: جب تم اور تمہارے ساتھی شکم سیر ہوں تو تم اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ میں اور میرے ساتھی ہلاک ہوجائیں، المدد،المدد،انہوں نے فورا جواب دیا۔ لبیک،لبیک میں اتنا بڑا اونٹوں کا قافلہ بھیجتا ہوں کہ اس کا اگلا سرا آپ کے پاس ہے، اورپچھلا سرا میرے پاس۔ [58] حضرت عثمانؓ کے عہد میں ان کی معزولی کا واقعہ اوپر گذر چکا ہے، معزولی کے اسباب میں ایک سبب یہ بھی تھا کہ مصر کے خراج کی رقم کم وصول ہوئی تھی، جب ان کی جگہ عبداللہ ابن ابی سرح کا تقرر ہوا تو کمی کی شکایت جاتی رہی ،چنانچہ مصر سے واپسی کے بعد اس بارہ میں ان سے اورحضرت عثمانؓ سے حسب ذیل گفتگو ہوئی: عثمانؓ،تم عبداللہ بن ابی سرح کو کس حال میں چھوڑ آئے، عمرو: جیسا آپ چاہتے ہو۔ عثمانؓ: وہ کیا۔ عمروؓ: اپنے نفس کے لیے قوی اوراللہ کے لیے کمزور۔ عثمانؓ: میں نے تو ان کو تمہارے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت کی تھی۔ عمروؓ: تو آپ نے ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا۔ عثمانؓ: دیکھو اونٹنی نے دودھ دیا (یعنی خراج زیادہ وصول ہوا) عمروؓ: لیکن بچے بھوکے رہ گئے۔ [59] اسی طریقہ سے جب امیر معاویہؓ نے حضرت عمرؓ سے قبرس پر حملہ کی اجازت مانگی تو حضرت عمرؓ نے عمروبن العاصؓ سے سمندر کے حالات پوچھ بھیجے، انہوں نے جواب لکھا: ان رایت خلقاً عظیماً یرکبہ خلق صغیر کدودٍ علی عود،ان مال غرق وان بخابرق [60] میں نے ایک بڑی مخلوق(سمندر) دیکھی جس پر چھوٹی مخلوق اس طرح سوار ہوتی ہے جیسے لکڑی پر کیڑا کہ اگر لکڑی ذرا بھی پلٹا کھائے تو کیڑا ڈوب جائے اور اگر صحیح سلامت نکل جائے تو خوفزدہ اور ہراساں رہ جائے۔

حلیہترميم

پستہ قد،فربہ اندام، بالوں میں سیاہ خضاب کرتے تھے، ایک مرتبہ اس قدر گہرا خضاب کیا کہ بال کو ے کے پر کی طرح کالے ہوگئے، حضرت عمرؓ نے دیکھا تو پوچھا، ابا عبدالرحمن یہ کیا؟ عرض کیا امیر المومنین! میں چاہتا ہوں کہ مجھ کو آپ کسی قابل شمار کریں،اس کے بعد پھر انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ [61]

اخلاق وعاداتترميم

عمرو بن العاصؓ کو ابتلاوآزمائش کے مختلف دوروں سے گذرنا پڑا اور ان میں وہ ایک صحابی رسول کی حیثیت سے اپنا دامن نہ بچاسکے اوراس قسم کی بعض لغزشیں سرزد ہوگئیں جو ایک صحابی کے مرتبہ سے فرو تر ہیں،تاہم وہ بارگاہ نبوی ﷺ کے جلیس اورآپ کے صحبت یافتہ تھے،اس لیے ان لغزشوں کے باوجود آپ کے وہ فضائل نظر انداز نہیں کیے جاسکتے جو فیضان نبوت نے تمام صحابہ کرام میں پیدا کردیے تھے، اسی لیے ایک دقیقہ رس نگاہ ان کے دامن عفاف میں خفیف بدنما دھبوں کے ساتھ وہ اخلاقی نقوش بھی دیکھتی ہے جن سے ہر صحابی گل بدامن تھا۔

قوت ایمانترميم

قوتِ ایمان تمام فضائل کا سرچشمہ ہے،اسی سے تمام فضائل کا ظہور ہوتا ہے،عمروبن العاصؓ کی ایمانی قوت کا خود زبان رسالت ﷺ نے اعتراف کیا ہے کہ"اسلم الناس وامن عمروبن العاص" [62] ایک دوسرے موقع پر فرمایا کہ :ابنا العاص مومنان یعنی ھشام وعمرو [63] آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کی واقعات سے بھی پوری تصدیق ہوتی ہے،ایک مرتبہ عمروبن العاصؓ کو آنحضرت ﷺ نے بلابھیجا کہ وہ لباس بدل کر اورہتھیار لگاکر آئیں، یہ حسب الحکم حاضر ہوئے،آنحضرت ﷺ وضو فرمارہے تھے، نظر اٹھا کر دیکھا، پھر نظر نیچی کرکے فرمایا کہ میں تم کو امیر بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں، انشاء اللہ تم محفوظ رہوگے اورمال غنیمت بھی ہاتھ آئےگا، اس سے تم کو بھی وافر حصہ ملے گا، عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں مال کی طمع میں اسلام نہیں لایا؛ بلکہ اس کو دلی رغبت کے ساتھ قبول کیا، فرمایا: مال صالح مرد صالح کے لیے بہتر ہے، [64] ایک موقع پر آپ نے فرمایا، عمرو بن العاصؓ قریش کے صالح افراد میں ہیں، عبداللہ اورابو عبداللہ عمروبن العاصؓ کیا اچھے گھرانے کے لوگ ہیں۔ [65]

حق پسندیترميم

اگرچہ بعض سیاسی امور میں عمروبن العاصؓ اپنا دامن لغزش سے نہ بچا سکے؛ لیکن طبعاً وہ حق پرست تھے،ایک دن خانہ کعبہ کے سایہ دیوار کے تلے بیٹھے لوگوں کو حدیث سنارہے تھے، کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے خلوص دل سے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کرلی اس کو مقدور بھر اس کی حمایت کرنی چاہیے اوراگر کوئی دوسرا شخص اس کے مقابلہ کے لیے کھڑا ہو تو اس کی گردن اڑادینی چاہیے،عبدالرحمن بن عبدرب کعبہ(اس حدیث کے راوی) نے کہا کہ اللہ آپ کو خوش رکھے،کیا یہ حدیث آپ نے آنحضرتﷺ سے سنی ہے،عمروبن العاصؓ نے اپنے کانوں اورقلب کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ میرے دونوں کانوں نے سنی اور قلب نے محفوظ رکھی،اس پر عبدالرحمن نے کہا کہ تمہارے ابن عم معاویہ ہم لوگوں کو ناجائز طور پر ایک دوسرے کے مال کھانے اور جانیں ضائع کرنے کا حکم دیتے ہیں، حالانکہ اللہ فرماتا ہے کہ: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا" یہ سن کر عمروبن العاصؓ چپ ہوگئے اورکہا کہ جس میں اللہ کی نافرمانی نہ ہوتی ہو، اس کو مانو اورجس میں ہوتی ہو، اس کو نہ مانو۔ [66] خود آنحضرتﷺ نے ان کے متعلق بارہا تحسین کے کلمات ارشاد فرمائے،ایک موقع پر فرمایا کہ عمروبن العاص قریش کے صالح لوگوں میں ہیں،[67] اوران کے خدمات کی بنا پر ان سے محبت فرماتے تھے،حسن روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عمروبن العاص سے کہا کہ کیا وہ شخص نیک خصلت نہیں ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے آخر دم تک محبوب رکھا ہو، یہ بولے اس کی سعادت میں کس کو شک ہو سکتا ہے،کہا آنحضرتﷺ آخر دم تک تم سے محبت کرتے رہے۔ [68]

تدبیروسیاستترميم

عقل ودانش اورتدبیر سیاست کے لحاظ سے عمروبن العاصؓ کا شمار ان مخصوص اشخاص میں تھا جو سارے عرب میں مدبر مانے جاتے تھے،[69] ان کی اصابت رائے کا خود آنحضرتﷺ نے ان الفاظ میں اعتراف فرمایا کہ تم اسلام میں صائب رائےکے آدمی ہو [70] فاروقؓ اعظم جیسا مدبر کہتا تھا کہ عمروبن العاصؓ حکومت کے لیے موزوں ہیں اور جب کسی خام کار اورضعیف الرائے کو دیکھتے تو تعجب سے فرماتے کہ اس شخص اور عمروبن العاصؓ کا خالق ایک ہے، [71] اسی تدبیر وشجاعت کی بنا پر آنحضرت ﷺ اکثر بڑی مہمیں ان ہی کے سپرد فرماتے تھے اوربعض مرتبہ ابوبکرؓوعمرؓ جیسے جلیل القدر صحابہ پر امیر بناتے تھے، [72] جنگ صفین میں امیر معاویہؓ حضرت علیؓ کے مقابلہ میں سپر ڈالنا چاہتے تھے،لیکن محض عمروبن العاصؓ کی تدبیر نے دفعۃً ہوا کا رخ بدل دیا اوراس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ ان کی سیاست کا کرشمہ تھا، ان کی زندگی کا ہر صفحہ تدبیر و سیاست سے لبریز ہے، مغیرہ بن شعبہ تدبیر و سیاست میں ان کا جواب تھے، اس لیے کبھی کبھی دونوں میں چشمک ہوجایا کرتی تھی، امیر معاویہؓ نے ان کو مصر کی حکومت پر مامور کرنے کے بعد ان کے بیٹے عبداللہ کو کوفہ کا والی مقرر کیا، مغیرہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے ا میر معاویہؓ سے کہا کہ ان دونوں باپ بیٹوں کو مصر اور کوفہ کا والی بنا کر تم نے اپنےکو شیروں کے جبڑے کے درمیان دیدیا، امیر معاویہؓ نے بھی خطرہ محسوس کیا، چنانچہ عبداللہ کو معزول کرکے ان کی جگہ مغیرہ کو مقرر کیا، عمروبن العاصؓ کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے امیر معاویہؓ سے کہا کہ تم نے ایسے شخص کو کوفہ کی حکومت سپرد کی ہے کہ اگر وہ خراج کھاجائے تو تم وصول بھی نہیں کرسکتے، مغیرہ واقعی تنگ دست رہا کرتے تھے، اس لیے امیر معاویہؓ کی سمجھ میں آگیا، چنانچہ انہوں نے ان سے خراج کا عہدہ نکال کر صرف امامت کے فرائض باقی رکھے، مغیرہؓ نے عمروبن العاصؓ سے کہا کہ یہ تمہاری شکایت کا نتیجہ ہے،انہوں نے کہا نہیں ؛بلکہ تمہاری شکایت کا جواب ہے۔ [73]

جہاد فی سبیل اللہترميم

عمر بن العاصؓ کے صحیفۂ حیات میں جہاد فی سبیل اللہ کا عنوان بہت نمایاں ہے،تمام مغازی میں مشہور مجاہد خالد بن ولید کے دوش بدوش رہے،ان کا خود بیان ہے کہ"ابتدائےاسلام سے آنحضرتﷺ نےکسی کو مغازی میں میرے اور خالد کے برابر نہیں کیا،[74] شام اور مصر اور طرابلس وغیرہ کے فتوحات کی تفصیل اوپر گذرچکی ہے، مدینہ میں ذرا بھی کوئی خطرہ پیدا ہوتا، فوراً ان کی تلوار میان سے نکل آتی تھی، ایک مرتبہ کسی سبب سے یک بیک لوگوں میں کچھ انتشار پیداہوگیا اورعام بھگدڑمچ گئی، صرف حضرت ابو حذیفہؓ کے غلام سالم مسجد میں تلوار چھپائے کھڑے رہے، عمروبن العاصؓ نے دیکھا تو یہ بھی تلوار لگا کر ان ہی کے پاس کھڑے ہوگئے، یہ عام سراسیمگی دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے خطبہ دیا اورفرمایا کہ تم لوگ اللہ اوررسول کی پناہ میں کیوں نہیں آئے اور عمروبن العاصؓ اورسالمؓ کو کیوں نہ نمونہ بنایا۔ [75]

صدقات وخیراتترميم

اللہ کی راہ میں بہت فراخدلی کے ساتھ صدقہ دیتے تھے،جس کا اعتراف خود آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک نے بارہا کیا ہے، علقمہ بن رمثہ بلوی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک سریہ میں عمروبن العاصؓ کو بحرین بھیجا اورخود ایک دوسرے سریہ میں نکلے ہم لوگ بھی ہمرکاب تھے، آپ پر کچھ غنودگی طاری ہوگئی، بیدار ہوئے تو فرمایا کہ اللہ عمرو پر رحم کرے،یہ دعا سن کر ہم میں سے ہر شخص اس نام کے اشخاص کا ذکر کرنے لگے، دوبارہ پھر آنکھ جھپک گئی، پھر ہوشیار ہوکر فرمایا اللہ عمرو پر رحم کرے، جب تیسری مرتبہ آپ نے فقرہ کو دہرایا تو ہم لوگوں سے ضبط نہ ہوسکا اورپوچھا، آپ کا ارشاد کس عمرو کے متعلق ہے، فرمایا عمروبن العاصؓ، ہم لوگوں نے سبب پوچھا، فرمایا کہ مجھ کو وہ وقت یاد آگیا، جب میں لوگوں سے صدقہ منگواتا تھا، تو وہ بہت وافر صدقہ لاتے تھے اور جب پوچھتا کہاں سے لاتے ہو تو کہتے اللہ نے دیا، [76] ایک موقع پر آپ نے تین مرتبہ فرمایا خدا یا عمروبن العاصؓ کی مغفرت فرما میں نے جب ان کو صدقہ کے لیے بلایا تھا تو وہ صدقہ لائے تھے۔ [77]

حوالہ جاتترميم

  1. عنوان : Исламский энциклопедический словарьISBN 978-5-98443-025-8
  2. عنوان : Амру
  3. (تفصیل کے لیے دیکھو مقدمہ سیرالمہاجرین)
  4. (ابن سعد،حصہ مغازی حالات،غزوۂ خندق)
  5. (اصابہ:۲/۵)
  6. (مسند احمد بن حنبل:۱۹۸/۴)
  7. (استیعاب:۴۴۹/۲)
  8. (استیعاب۴۴۹/۲)
  9. (اسد الغابہ:۱۶۱/۴)
  10. (ابن سعدحصہ مغازی:۱۰۵)
  11. (اسد الغابہ:۴/۱۱۷)
  12. (فتوح البلدان بلاذری:۸۳)
  13. (ابن اثیر،۳۱۸/۲)
  14. (طبری:۸۲/۴)
  15. (ابن اثیر:۳۲۰/۲)
  16. (طبری:۲۱۵۶)
  17. (طبری:۲۱۵۶)
  18. (فتوح البلدان بلاذی:۱۴۱)
  19. (طبری:۲۱۹۳)
  20. (ابن اثیر:۳۸۸/۲)
  21. (ابن اثیر:۳۸۹/۲)
  22. (طبری:۲۵۸۴ تا ۲۵۸۶،طبری کے بیان کے مطابق ارطبون بھی اس میں ماراگیا، لیکن یہ غلط ہے،کیونکہ آئندہ متعدد معرکوں میں وہ شریک رہا)
  23. (فتوح البلدان بلاذری:۲۲۰)
  24. (مقریزی:۳۷۱/۱)
  25. (فتوح البلدان بلاذری:۲۲۰، دروازہ کھولنے کا واقعہ طبری میں ہے)
  26. (فتوح البلدان بلاوزی:۲۲۷،۲۲۸)
  27. (یہ تمام تفصیلات مقریزی:۲۶۳ تا۲۶۷/۱، سے ماخوذ ہیں اور بعض بعض واقعات طبری سے لیے گئے ہیں)
  28. (فتوح البلدان:۲۲۸)
  29. (فتوح البلدان:۲۲۴)
  30. (معجم البلدان برقہ)
  31. (بلاذری:۲۳۱)
  32. (بلاذری:۲۳۱)
  33. (معجم البلدان:۳۵/۶،وابن ایثر)
  34. (ابن اثیر:۲۰/۳)
  35. (فتوح البلدان بلاذری:۲۳۳)
  36. (طبری:۸۱۴/۵)
  37. (کتاب الاولاۃ کندی :۱۰)
  38. (کتاب الولاۃ کندی:۱۰)
  39. (ابن اثیر:۳۵۳/۳)
  40. (ابن اثیر:۶۸/۳)
  41. (یعقوبی:۱۸۹/۲)
  42. (یعقوبی:۱۸۹/۲)
  43. (یعقوبی:۲۰۲،۲۰۳/۲)
  44. (طبری:۹۴۵)
  45. (طبری:۳۲۵)
  46. (یعقوبی:۲۱۷/۲)
  47. (اخبار الطوال:۱۶۷،۱۶۹)
  48. (طبری:۳۲۵۵/۷)
  49. (یہ تمام تفصیلات طبری سے ماخوذ ہیں)
  50. (طبقات ابن سعد ،ق۲:۴/۶)
  51. (ابن سعد ،ق۲:۸/۴)
  52. (ابن سعد،ق۲:۸/۴)
  53. (اسد الغابہ:۱۱۷/۲، مستدرک :۴۵۴/۳)
  54. (اصابہ:۲/۵)
  55. (تہذیب الکمال،صفحہ:۲۹۰)
  56. (مسند احمد بن حنبل:۲۰۴/۴)
  57. (مسند احمد بن حنبل:۲۰۴/۴)
  58. (حسن المحاضرہ سیوطی:۶۸)
  59. (یعقوبی:۱۸۹/۲)
  60. (مستدرک حاکم:۴۵۴/۳)
  61. (مستدرک حاکم،۴۵۴/۳)
  62. (مسند احمد بن حنبل:۱۵۵/۴)
  63. (مسند احمد بن حنبل:۱۵۵/۴)
  64. (مسند احمد بن حنبل:۱۹۷/۴)
  65. (کنز العمال،جلد۵،فضائل عمرو بن العاصؓ)
  66. (مسلم :۱۱۸/۲، مطبوعہ مصر)
  67. (اصابہ :۳/۵)
  68. (مسنداحمد بن حنبل:۲۰۳/۴)
  69. (تہذیب التہذیب:۵۷/۸، واستیعاب واسدالغابہ وغیرہ)
  70. (کنزالعمال:۱۸۶/۶)
  71. (اصابہ :۳/۵)
  72. (تہذیب التذہیب:۵۶/۸)
  73. (طبری)
  74. (مستدرک حاکم:۴۵۵/۳)
  75. (اصابہ:۳/۵)
  76. (مستدرک حاکم:۴۵۵/۳)
  77. (کنزالعمال،جلد۶،فضائل عمروبن العاصؓ)