گجر

گُرجرا قبیلہ کی تاریخ

گجر ،گُرجر, گوجر (سنسکرت: گرجرا) ایک زمیندار اور خانہ بدوش چرواہوں کی قوم ہے، جو بنیادی طور پر بھارت، پاکستان، کشمیر اور افغانستان میں پھیلی ہوئی ہے۔[4] اندرونی طور پر مختلف قبیلوں میں تقسیم ہے۔[5] اگرچہ روایتی طور پر وہ زراعت، چرواہی اور خانہ بدوش سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ گوجر ایک بڑا متضاد گروہ ہے جو مذہب، پیشہ اور سماجی و اقتصادی حیثیت کے لحاظ سے اندرونی طور پر مختلف ہے۔ گجروں کا تاریخی کردار معاشرے میں کافی متنوع رہا ہے، ایک سرے پر وہ کئی سلطنتوں، خاندانوں کے بانی رہے ہیں، اور دوسرے سرے پر، کچھ خانہ بدوش بھی ہیں جن کی اپنی کوئی زمین نہیں ہے۔ گجر شناخت کی تاریخ میں اہم نکتہ اکثر قرون وسطی (570 عیسوی) کے دوران موجودہ راجستھان میں ایک گرجر سلطنت کے ظہور سے ملتا ہے۔ گوجر لسانی اور مذہبی اعتبار سے متنوع ہیں۔ اگرچہ وہ اس علاقے اور ملک کی زبان بول سکتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں، گوجروں کی اپنی زبان ہے، جسے گجری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ مختلف طریقے سے ہندو مذہب، اسلام اور سکھ مت کی پیروی کرتے ہیں۔[6][7] ہندو گجر زیادہ تر بھارتی ریاستوں راجستھان، ہریانہ، مدھیہ پردیش، پنجاب کے میدانی علاقوں اور مہاراشٹر میں پائے جاتے ہیں۔ مسلم گجر زیادہ تر پنجاب، پاکستان میں پائے جاتے ہیں جہاں ان کی آبادی کا 20% ہے، بنیادی طور پر شمالی پنجابی شہروں گوجرانوالہ، گجرات، گوجر خان، جہلم اور لاہور، افغانستان اور جموں و کشمیر ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے گڑھوال اور کماؤن ڈویژن، جیسے بھارتی ہمالیائی علاقوں میں مرتکز ہیں۔[1]

گرجر / گجر / گوجر
Gujjar boy and girl in traditional Gojri attire.jpg
کشمیری گجر خاتون اور مرد اپنے روایتی گوجری لباس میں
کل آبادی
تقریبا 150-200 ملین
گنجان آبادی والے علاقے
بھارت کا پرچم بھارت139,300,000+ (10% ملک کی کل آبادی کا)[1]
پاکستان کا پرچم پاکستان45,040,000+ (20% ملک کی کل آبادی کا)[1][2]
افغانستان کا پرچم افغانستان1,992,000+ (5% ملک کی کل آبادی کا)[3]
زبانیں
گوجریگجراتیہندیکشمیریپنجابیاردوپشتوہریانویسندھیراجستھانیبلوچیپہاڑیبھوجپوری مراٹھی
مذہب
ہندو مت Om symbol.svgاسلام Allah-green.svgسکھ مت Khanda.svgجین مت Jain Prateek Chihna.svgبدھ مت Dharma Wheel.svg
متعلقہ نسلی گروہ
جٹراجپوتآہیرکھتریبکروالکوچی

گجر برصغیر میں زمانہ قدیم سے آباد ہیں۔ جن کا ذکر مہابھارت اور ویدوں میں بھی ملتا ہے۔ گجر زمانہ قدیم میں کھشتری اور آریا کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انکی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے گرجر کا خطاب ملا جس کے معنی دشمن کو نیست و نابود کرنے والا ہے ان کی جسمانی خصوصیات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خالص ہند آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں سے یہ قوم دنیا کے دیگر حصوں میں پھیلی۔ یورپ میں گرجستان آباد کیا اور چین میں ریاست کھوٹان اس طرح روس میں چیچنیا اور دیگر کئ ملکوں میں صدیوں تک حکومت کی۔ یورپ سے گجر قوم کے کچھ قبیلے واپس وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کی طرف پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں واپس آئے اور یہاں کے مقامی گجر اور دیگر اقوام سے حکومت چھین لی یہ لوگ سفید ہن گجر کہلاتے تھے اور انہوں نے راجپوتانہ کا بڑا حصہ فتح کر لیا اور کئی صدیوں تک برصغیر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ڈی آر بھنڈارکر نے ثابت کیا ہے کہ سفید ہن گجر شمالی ہند میں 550 عیسوی کے قریب داخل ہوئے تھے۔ ان کا ذکر سب سے پہلے پانا کی کتاب ’ہرش چرت‘ میں آیا ہے، پاکستان میں گجروں کی لاہور گوجرانوالہ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، راولپنڈی، فیصل آباد اور جہلم کے اضلاع میں آبادیاں ہیں، جبکہ جموں و کشمیر، ہزارہ ڈویژن کے مانسہرہ ضلع میں بھی بڑی تعداد میں گجر آباد ہیں۔[8] گجر خیبر پختونخوا کی دوسری اور پنجاب کی تیسری بڑی برادری ہے۔[9]

لفظ" گجر" کی اصطلاح

محمد عبد الملک نے ’شاہان گوجر‘ میں لکھا ہے کہ دوسرے ممالک میں اس قوم کو خزر، جزر، جندر اور گنور بھی کہا گیا ہے۔[10] برصغیر میں یہ پہلے گرجر کی صورت پھر گوجر ہو گیا۔ یہ لوگ گرجستان سے آئے تھے۔ بحیرہ خزر کا نام شاید خزر پڑھ گیا کہ اس کے ارد گرد خزر یعنی گوجر آباد تھے۔ جو سھتین قبایل کی نسل سے ہیں ۔ شاہانِ گوجر میں اگنی کل کی چاروں قوموں چوہان، چالوکیہ، پڑھیار اور پنوار کا ذکر گوجروں کے ضمن میں کیا ہے۔

حسن علی چوہان نے ’تاریخ گوجر‘ میں لکھا ہے کہ رامائین میں گوجر کے معنی غازی کے آئے ہیں اور یہ کھشتری ہیں جو بعد میں گوجر کہلانے لگے۔[11] اس میں سورج بنسی، چندر بنسی، چوہان، چالوکیہ، پڑھیار، پنوار اور راٹھوروں کو بھی گوجر کہا گیا ہے۔ مشہور تاریخ دان وی اے سمتھ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں چوہان، سولنکی، پڑھیار، پنوار، چنڈیلا اور تنوار اصل میں گجروں کے ہی قبائل ہیں جو بعد میں دوسری قوموں میں بھی شامل ہوئے۔ جب کہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ گوجر قوم کے لوگ نوکری نہیں کرتے ہیں، ان کی گزر اوقات دودھ دہی پر ہے۔ جلال الدین اکبر نے ایک قلعہ بنا کر اس میں گوجروں کو آباد کیا تھا جس کا نام گجرات ہو گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوجر اور گجر کی اصل ایک ہی ہے۔

ابتدائی تاریخ

گوجروں کی آبادی کا دور دور تک منتشر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی فرمانروائی کا دائرہ کس قدر وسیع تھا۔ گوجر بیشتر گلہ بانوں کی ایک قوم تھی جو جنگ و پیکار کی دلدادہ تھی اور آج کل بھی گوجروں میں یہ رجحانات پائے جاتے ہیں۔ یہ مستقل مزاج زراعت کاروں کی حثیت سے شہرت کے مالک ہیں۔ تاہم انہوں نے عمومی حثیت سے اقامت کی زندگی اختیار کرلی ہے۔ ہند کے انتہاہی شمالی مغربی حصہ خاص کر کانگرہ اور سنجھال کے پہاڑوں کے بیرونی کناروں تا حال گوجر خانہ بدوش چرواہوں اور گلہ بانوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے نام پر شمالی مغربی برصغیر میں بہت سی بستیاں، قبضے اور شہر آباد ہوئے جو اب تک موجود ہیں۔

گوجروں نے اپنی ریاست کوہ آبو کے قریب بھٹکال میں قائم کی تھی۔ اس خاندان کی ایک اور شاخ بروچ نے ایک اور ریاست قائم کی تھی جو ان کے نام سے بروچ کہلائی۔ ایک اور شاخ اونتی کے نام سے موسوم ہوئی ہے۔ اس خاندان نے عربوں کو جو گوجروں کے علاقہ تاراج کر رہے تھے روکا۔ ان دونوں خاندانوں میں بالادستی کے لیے جنگ ہوئی۔[12] جس میں اونتی خاندان کو کامیابی ہوئی اور ان کو اپنے اپنے طاقتور پڑوسییوں راشٹر کوٹوں اور پالوں سے جنگیں کرنی پڑیں۔ اونتی راجا ناگاہ بھٹ دوم (800ء؁ تا 825ء؁) نے مونگیر کے مقام پر دھرم پال کو شکست دی۔ اس نے کاٹھیاوار، مالوہ اور راجپوتانہ میں کامیاب لڑائیاں لڑیں۔ اس کا بیٹا بھوج ایک کامیاب اور قابل راجا تھا۔ شروع میں اس نے پالوں اور راشٹر کوٹوں سے شکست کھائی۔ مگر بالاآخر اس نے اپنے دشمنوں کو ہرا کر اپنے دشمنوں کو ہرا کر کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کرلیے۔

بروچ کے دارلحکومت قنوج پر گوجروں کی شاخ پرتی ہاروں کا قبضہ ہو گیا تھا۔ مگر راجا یشودومن سے قبل کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ یشودرمن کشمیر کے راجا للیتا کے ہاتھوں شکست کھا کر مارا گیا۔ نویں صدی کے شروع میں بنگال کے راجا دھرم پال نے قنوج کے راجا کو تخت پر سے اتار کر اپنی پسند کے آدمی کو تخت پر بٹھا دیا۔ اس کو تقریباً 816ء؁ میں ناگابھٹ دوم نے نکال باہر کیا۔ اس کے بیٹے بھوج نے قنوج کو اپنا پایا تخت بنایا۔ اس ایک طویل عرصہ (840ء؁ تا 890ء؁) تک ایک وسیع علاقے پر حکومت کی۔ اس کا بیٹا مہندر پال (890ء؁ تا 908ء؁) اپنے باپ کی وسیع مملکت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر اس کے بعد اس ریاست کو ذوال آگیا اور اس کا بیٹا مہی پال اندر سوم کے ہاتھوں جو دکن کے راشترکوٹیہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا شکست کھا گیا اور درلحکومت پر بھی اندر سوم کا قبضہ ہو گیا۔ مہی پال نے اگرچہ قنوج پر دوبارہ قبضہ کر لیا لیکن وہ ریاست کے شیرازے کو بکھرنے سے نہیں بچا سکا۔ پڑھیاروں کی ایک ریاست رجپوتانہ میں مندوری یا مندر کے مقام پر تھی، جس کو راٹھوروں نے چھین لی تھی۔ عبد المک نے گوجروں کا خزر قوم کی باقیات ہونے کا دعویٰ محض اس وجہ سے کیا ہے کہ پاکستان کے شمالی حصہ یعنی شمالی پنجاب سرحد اور کشمیر کے گوجروں کا کہنا ہے کہ وہ ترکی النسل ہیں۔

خزر جو ایک ترکی قوم تھی، جس نے نوشیروان عادل سے کچھ عرصہ پہلے عروج حاصل کر لیا تھا اور غالباََ یہی ترک تھے، جن کے خلاف دربند کی سدیں تعمیر ہوئیں۔ خزر نے ترکی خانہ بدوش سلطنت کی روایات کو قائم رکھا۔ قباد کی پہلی تخت بشینی کے وقت خزر قبیلے نے ایران پر یورشیں شروع کر دیں۔ قباد نے خزر حملہ آورں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دے کر ملک سے باہر نکالا۔

بحیرہ خزر کے مشرقی علاقوں میں ساسانیوں نے اپنے ترک ہمسایوں کے خلاف مدافعتی قلعے تعمیر کیے۔ صوبہ جرجان کی حفاظت کے لیے آجری سد بنائی گئی۔ لیکن یہ ترکوں کے فاتحانہ حملوں کی روک تھام نہ کرسکیں۔ جرجان اور طبرستان کے درمیانی سرحد پر ایک اور اس لیے دیوار تعمیر کی گئی تھی کہ صوبہ جرجان ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ نوشیروان نے533ء؁ میں قیصر روم سے ایک معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کے تحت رومی حکومت نے ایک بڑی رقم دینے کا وعدہ کیا، جس کے بدلے نوشیرواں نے دربند اور کوہ کاف کے دوسرے قلعوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی۔ نوشیروان عادل (531 تا 579) ساسانی حکمران نے مغربی ترکوں سے جن کا حکمران ایل خان تھا دوستانہ تعلقات قائم کیے اور ان کی مدد سے افغانستان میں ہنوں کو شکست دی اور اس کے بعد خزر قبائل پر فوج کشی کی اور ان کی طاقت کو پارہ پارہ کر دیا۔ خزر قوم تاریخ کے صفحات سے غائب ہو گئی۔ اس سے بھی ترکوں کی طاقت میں خاطر اضافہ ہوا اور افغانستان میں ہنوں کے خالی کردہ علاقوں پر ترک براجمان ہو گئے۔ یہی وجہ ہے تھی جس کے سبب ترکوں اور نوشیروان میں اختلاف پیدا ہو گیا۔

بہر حال گوجروں کے ترکی النسل ہونے میں تو ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس پر اختلاف ہے کہ گوجر خزر النسل ہیں۔ کیوں کہ ترکوں کی مغربی سلطنت جس کی علمبرداری افغانستان کے علاقوں پر بھی تھی وہ خزروں کی دشمن تھی اس لیے خزر قوم کا برصغیر کی طرف آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

جو ترک قبائل ساسانی سرحدوں کے قریبی ہمسائے تھے۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا اور اسی نسبت سے ترک قبائل کو غز بھی کہا جاتا تھا۔ یہ قبیلہ غز کے علاوہ غزر بھی پکارا جاتا تھا اور یہ کلمہ ترکوں کے ناموں میں بھی آیا ہے۔ مثلاً غزر الدین مشہورخلجی التتمش کے دور میں گزرا ہے۔ غرز جو ترک تھے ہنوں کی شکست کے بعدبرصغیر میں داخل ہوئے۔ یہ نہ صرف بہترین لڑاکے، خانہ بدوش اور گلہ بان تھے۔ غالب امکان یہی ہے کہ غرز ہند آریائی لہجہ میں گجر ہو گیا۔ کیوں کہ ہند آریا میں ’غ‘ ’گ‘ سے اور ’ز‘ ’ج‘ سے بدل جاتا ہے اور گجر کا معرب گوجر ہے۔

جسمانی خدوخال

گجر قوم کی جسمانی خصوصیات ہندوستان میں وارد ہونیوالے آریائی اور سیتھین قبائل سے کافی مماثلت رکھتی ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے اور یاد رہے سیتھین بھی اریائی نسل (ایرانی) سے تعلق رکھتے تھے.

آنکھیں: سائز کے اعتبار سے بڑی اور ہلکی سی گہری ہوتی ہیں اور رنگ کے لحاظ سے کالی، بھوری، نیلی، سبز اور سرمئی ہوتی ہیں

ناک: عموما اونچی، لمبی  اور متوسط درجے کی ہوتی ہے، موٹی اور تیکھی دونوں ہی پائی جاتی ہے

بال: اکثر سیدھے اور کالے رنگ کے ہوتے ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں رہنے والے گجروں میں بھورے اور گہرے بھورے رنگ کے بھی بال پائے جاتے ہیں

رنگت: کے اعتبار سے گجر سفید، گندمی اور سانولا تینوں رنگ کے ہی پائے جاتے ہیں

جسامت: گجر جسامت کے اعتبار سے بہت مضبوط، لمبے، چوڑے اور جوان ہوتے ہیں۔ اسی لیے باڈی بلڈنگ، ریسلنگ اور کشتی کے کھیلوں میں کافی زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

القابات (ٹائٹلز)

گجر قوم سے تعلق رکھنے والے حضرات مندرجہ ذیل میں دئیے گئے القابات استعمال کرتے ہیں ان میں سے اکثر دوسری برادریوں کے لوگ بھی استعمال کرتے ہیں۔ واضح رہے نیچے دیے گئے القابات صرف ٹائٹلز ہیں کوئی قوم یا برادری نہیں۔

مزید دیکھئے

حوالہ جات

  1. ^ ا ب پ HT، Correspondent (Jun 03, 2007). "Who are the Gujjars?". Hindustan Times. Hindustan Times. اخذ شدہ بتاریخ November 26, 2022. 
  2. Ali، Sial (May 20, 2016). "History of Gujjar Caste in Pakistan". HE. he.com.pk. اخذ شدہ بتاریخ November 26, 2022. 
  3. Afghan News، Pajhwok (4 جنوری 2021). "Govt has long ignored our problems, needs: Gujars". Pajhwok Afghan News. Pajhwok.com. اخذ شدہ بتاریخ 27 نومبر 2022. 
  4. Rahi، Dr Javaid. "The GUJJARS -Vol : 01 A Book on History and Culture of Gujjar Tribe : Ed Javaid Rahi". 
  5. Rahi، Dr Javaid. "The GUJJARS -Vol : 01 A Book on History and Culture of Gujjar Tribe : Ed Javaid Rahi". 
  6. Singh 2012, pp. 48 & 51.
  7. "گجر آبادی". 
  8. "پنجاب میں آبادی". 
  9. https://www.flickr.com/photos/78799742@N05/14727529361/in/photostream
  10. https://www.flickr.com/photos/78799742@N05/14544134410/in/photostream
  11. https://books.google.com.pk/books?id=K7ZZzk8cXh8C&pg=PA9&redir_esc=y
  • گوجر۔ معارف اسلامیہ
  • ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی
  • حسن علی چوہان، تاریخ گوجر
  • نور الدین جہانگیر، تزک جہانگیری
  • جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول
  • ڈاکٹر معین الدین، اقدیم مشرق جلد دؤم
  • گجر قبائل، کامران اعظم سوہدروی