مرکزی مینیو کھولیں

داعش

ایک سلفی شدت پسنداسلام دشمن تنظیم

عراق اور شام کی دولت اسلامیہ (ISIL)، معروف بہ عراق اور سوریہ میں دولت اسلامیہ، عراق اور الشام کی دولت اسلامیہ (ISIS[1] باضابطہ طور پر دولت اسلامیہ (IS) اور عربی زبان میں داعش)[2][3] ایک سلفی جہادی شدت پسند تنظیم اور بنیاد پرست، اہل تسنن کے سلفی عقیدے پر عمل کرنے والی سابق غیر تسلیم شدہ ریاست[4][5] تھی۔[6] داعش نے ابتدائی 2014ء میں عالمی شہرت اس وقت حاصل کی جب اس نے عراقی حکومتی افواج کو انبار مہم میں کلیدی شہروں سے باہر نکلنے پر مجبور کیا[7] اس کے بعد موصل پر قبضہ کیا[8] اور سنجار قتل عام ہوا۔[9]

اس گروہ کو اقوام متحدہ اور کئی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ داعش شہریوں اور فوجیوں بہ شمول صحافیوں اور امدادی کارکنان کے سر قلم کرنے اور دیگر قسم کی سزائیں دینے والی وڈیو[10] جاری کرنے اور ثقافتی ورثہ کی جگہوں کو تباہ کرنے کے لیے مشہور ہے۔[11] اقوام متحدہ کے نزدیک داعش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا مرتکب ہے۔ شمالی عراق میں تاریخی سطح پر داعش دوسرے مذاہب کے افراد کو بڑی تعداد میں قتل بھی کر چکا ہے۔[12]

داعش کا سنہ 1999ء میں جماعت التوحید و الجہاد کے طور پر ظہور ہوا، جو القاعدہ کی حامی تھی اور 2003ء-2011ء عراقی کشیدگی میں حصہ لیا۔ جون 2014ء میں اس گروہ نے دنیا بھر میں خود کو خلافت کہا[13][14] اور خود کو دولت اسلامیہ کہلوانا شروع کر دیا۔[15] خلافت کے طور پر اس نے دنیا میں مسلمانوں پر مذہبی، سیاسی اور فوجی اقتدار کا دعوی کیا۔[16] خود خلافت کہلوانے پر اقوام متحدہ اور دیگر بڑے مسلم گروہوں نے اس کی ریاست کی تنقید اور مذمت کی۔.[17]

شام میں اس گروپ نے حکومتی افواج اور حکومت مخالف جتھوں دونوں پر زمینی حملے کیے اور دسمبر 2015ء تک اس نے مغربی عراق اور مشرقی شام میں ایک بڑے رقبے پر قبضہ کر لیا جس میں اندازہً 2.8 سے 8 ملین افراد شامل تھے،[18][19] جہاں انہوں نے شریعت کی نام نہاد تاویل کر کے اسے تھوپنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ داعش 18 ممالک میں سرگرم ہے جس میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں اور مالی، مصر، صومالیہ، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن میں اس کی شاخیں ہیں۔[20][21][22][23] 2015ء میں داعش کا سالانہ بجٹ 1 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ تھا اور 30،000 جنگجوؤں سے زیادہ کی فوج تھی۔[24]

جولائی 2017ء میں گروہ نے اس کے سب سے بڑے شہر سے کنٹرول کھو دیا اور عراقی فوج نے فتح حاصل کر لی۔[25] اس بڑی شکست کے بعد داعش آہستہ آہستہ زیادہ تر علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور نومبر 2017ء تک اس کے پاس کچھ خاص باقی نہ رہا۔[26] امریکی فوجی عہدیداروں اور ساتھی فوجی تجزیوں کے مطابق دسمبر 2017ء تک گروہ دو فیصد علاقوں میں باقی رہ گیا۔[27] 10 دسمبر 2017ء میں عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ عراقی افواج نے ملک سے دولت اسلامیہ کے آخری ٹھکانوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔[28] 23 مارچ 2019ء کو داعش اپنے آخری علاقے باغوز فوقانی کے نزدیک جنگ میں ہار گیا اور اس علاقے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔[29]

حوالہ جاتترميم

  1. https://www.washingtonpost.com/blogs/worldviews/wp/2014/06/18/isis-or-isil-the-debate-over-what-to-call-iraqs-terror-group/
  2. Felica Schwartz (23 دسمبر 2014)۔ "One More Name for Islamic State: Daesh"۔ The Wall Street Journal۔
  3. Alice Guthrie (19 فروری 2015)۔ "Decoding Daesh: Why is the new name for ISIS so hard to understand?"۔ Free Word Centre۔
  4. Fouad al-Ibrahim (22 اگست 2014)۔ "Why ISIS is a threat to Saudi Arabia: Wahhabism's deferred promise"۔ Al Akhbar English۔ مورخہ 24 اگست 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. Boris Dolgov (23 ستمبر 2014)۔ "Islamic State and the policy of the West"۔ Oriental Review۔

    Rodney Wilson۔ Islam and Eonomic Policy۔ Edinburgh University Press۔ صفحہ 178۔ آئی ایس بی این 978-0-7486-8389-5۔

    Patrick Cockburn (3 مارچ 2016)۔ "End Times for the Caliphate?"۔ London Review of Books۔ شمارہ 5۔ صفحات 29–30۔

    Dmitry Pastukhov؛ Nathaniel Greenwold۔ "Does Islamic State have the economic and political institutions for future development?" (پی‌ڈی‌ایف)۔

    John Pedler۔ A Word Before Leaving: A Former Diplomat's Weltanschauung۔ Troubador۔ صفحہ 99۔ آئی ایس بی این 978-1-78462-223-7۔

    Michael Kerr؛ Craig Larkin۔ The Alawis of Syria: War, Faith and Politics in the Levant۔ Oxford University Press۔ صفحہ 21۔ آئی ایس بی این 978-0-19-045811-9۔

  6. "ISIL defeated in final Syria victory: SDF"۔ www.aljazeera.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مارچ 2019۔

    Ben Wedeman and Lauren Said-Moorhouse CNN۔ "ISIS has lost its final stronghold in Syria, the Syrian Democratic Forces says"۔ CNN۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مارچ 2019۔

    "After ISIS 'defeat,' what comes next? - analysis - Middle East - Jerusalem Post"۔ www.jpost.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مارچ 2019۔

    Bethan McKernan (23 مارچ 2019)۔ "Isis defeated, US-backed Syrian Democratic Forces announce"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مارچ 2019۔

    Rukmini Callimachi (23 مارچ 2019)۔ "ISIS Caliphate Crumbles as Last Village in Syria Falls"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مارچ 2019۔

  7. "John Kerry holds talks in Iraq as more cities fall to ISIS militants"۔ CNN۔ 23 جون 2014۔
  8. Suadad Al-Salhy؛ Tim Arango (10 جون 2014)۔ "Sunni Militants Drive Iraqi Army Out of Mosul"۔ The New York Times۔
  9. Tim Arango (3 اگست 2014)۔ "Sunni Extremists in Iraq Seize 3 Towns From Kurds and Threaten Major Dam"۔ The New York Times۔
  10. "A Short History Of ISIS Propaganda Videos"۔ The World Post۔ 11 مارچ 2015۔
  11. Khalid al-Taie (13 فروری 2015)۔ "Iraq churches, mosques under ISIL attack"۔ Al-Shorfa۔ مورخہ 19 فروری 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  12. "Ethnic cleansing on a historic scale: The Islamic State's systematic targeting of minorities in northern Iraq" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Amnesty International۔ 2 ستمبر 2014۔ مورخہ 12 مارچ 2015 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔
  13. Bill Roggio (29 جون 2014)۔ "ISIS announces formation of Caliphate, rebrands as 'Islamic State'"۔ Long War Journal۔
  14. Adam Withnall (29 جون 2014)۔ "Iraq crisis: Isis changes name and declares its territories a new Islamic state with 'restoration of caliphate' in Middle East"۔ The Independent۔ London۔
  15. "What is Islamic State?"۔ BBC News۔ 26 ستمبر 2014۔
  16. "What does ISIS' declaration of a caliphate mean?"۔ Al Akhbar English۔ 30 جون 2014۔. See also: Kadi, Wadad; Shahin, Aram A. "Caliph, caliphate". In Bowering (2013).
  17. Mustafa Akyol (21 دسمبر 2015)۔ "A Medieval Antidote to ISIS"۔ The New York Times۔
  18. "Why ISIL Will Fail on Its Own"۔ Politico۔ 29 نومبر 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 نومبر 2015۔
  19. Sarah Birke (5 فروری 2017)۔ "How ISIS Rules"۔ The New York Review of Books۔
  20. "Islamic State and the crisis in Iraq and Syria in maps"۔ BBC News۔ 18 اکتوبر 2016۔
  21. "Exclusive: In turf war with Afghan Taliban, Islamic State loyalists gain ground"۔ 29 جون 2015۔
  22. "Pakistan Taliban splinter group vows allegiance to Islamic State"۔ 18 نومبر 2014۔
  23. "ISIS Now Has a Network of Military Affiliates in 11 Countries Around the World"۔ Intelligencer۔
  24. Fawaz A. Gerges۔ A History of ISIS۔ Princeton, New Jersey, USA: Princeton University Press۔ صفحات 21–22۔ آئی ایس بی این 9780691170008۔
  25. "PressTV-'US created, allowed regional funding of Daesh'"۔ 11 جولا‎ئی 2017۔ مورخہ 11 جولا‎ئی 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  26. Russia's Syria Mirage Institute for Study of War website. By Matti Suomenaro, et al. 13 August 2017. Retrieved 3 March 2018.
  27. FOX۔ "ISIS has lost 98 percent of its territory, officials say"۔
  28. "Islamic State completely 'evicted' from Iraq, Iraqi PM says"۔ The Age۔ 9 دسمبر 2017۔
  29. "US-allied Syrian force declares victory over Islamic state"۔ دی واشنگٹن پوسٹ۔ 23 مارچ 2019۔

بیرونی روابطترميم