پنجابی قوم

(پنجابی لوگ سے رجوع مکرر)

پنجابی قوم (پنجابی:پنجابی لوک) خطۂ پنجاب جو پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود ہے، سے ایک نسلی گروہ ہے جو پاکستان میں صوبہ پنجاب میں آباد ہیں. جبکہ بھارت میں بھی بھارتی ریاستوں پنجاب, ہماچل پردیش, ہریانہ اور دہلی میں آباد ہیں۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے. پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ کے مطابق پنجابی زبان کے لگ بھگ باون کے قریب لہجے ہیں.

پنجابی شخصیات
Darbar Hazrat Baba Farid ud Deen Ganj Shakar Rahmatullah Alaih - panoramio (5).jpg
Sikh Gurus with Bhai Bala and Bhai Mardana.jpg
Dulla bhatti samadh.jpg
Darbarsharif.jpg
BullehShah.jpg
Waris shah.jpg
Amrita Pritam (1919 – 2005) , in 1948.jpg
Iqbal.jpg
Faizahmadfaiz2.JPG
حفیظ جالندھری.jpg
Insha.jpg
RanjitSinghKing.jpg
Bhagat Singh 1929.jpg
Thumb1.jpg
Wasim Akram.jpg
Amrita Sher-Gil, painter, (1913-1941).jpg
Prime Minister Manmohan Singh in WEF ,2009 (cropped).jpg
Jagjit Singh (Ghazal Maestro).jpg
Kalpana Chawla, NASA photo portrait in orange suit.jpg
Pak nusrat150.jpg
Amir Khan.jpg
Imrankhanpti.jpg
کل آبادی
120 ملین (تخمینہ)
گنجان آبادی والے علاقے
Flag of Pakistan.svg پاکستان81,379,615[1]
Flag of India.svg بھارت33,102,477[2]
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ2,300,000[3]
Flag of Canada.svg کینیڈا800,000[4]
Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات720,000
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ640,000
Flag of Australia.svg آسٹریلیا620,000
Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب560,000
زبانیں
پنجابی
مذہب
Allah-green.svg اسلام
Om.svg ہندو مت
Khanda.svg سکھمت
Christian cross.svg مسیحی[5]
دیگر
متعلقہ نسلی گروہ
سرائیکیکشمیریہندکوگجراتیراجستھانیگجر

تاریخترميم


 
ٹیکسلا ایک قدیم تاریخی مقام

پنجاب کا لفظ ابن بطوطہ کی تحریروں میں ملتا ہے جو اُن نے 14ویں صدی عیسوی میں اس علاقے کا دورہ کرنے ہوئے لکھی، اس کا وسیع پیمانے پر استعمال سولہویں صدی کے دوسرے حصے کی کتاب ”تاریخ شیر شاہ سوری“ میں ملتا ہے، جس میں پنجاب کے شیر خان کے قلعے کی تعمیر کے حوالے سے ملتا ہے۔ اس سے پہلے پنجاب جیسا تذکرہ مہابھارت کے قصے کہانیوں میں بھی ہے جو پنجا ندا (پانچ ندیاں) کے حوالے سے ہے۔ اس کے بعد آئین اکبری میں ابو الفصل نے لکھا ہے کہ یہ علاقہ دو حصوں میں منقسم تھا، لاہور اور ملتان۔ اس آئین اکبری کے دوسرے حصے میں ابوالفصل نے پنجاب کو پنجند لکھا ہے۔ اس کے علاوہ مغل بادشاہ جانگیر نے اپنی تزک جانگیری میں پنجاب کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پنجاب کا لفظ فارسی کے پنج یعنی پانچ اور آب یعنی پانی سے ماخوز ہے۔ یعنی پانچ دریاؤں کی سرزمین۔ یہ وہ پانچ دریا ہے جو اس علاقے میں بہتے ہیں۔ آج کل ان میں سے تین دریا تو مکمل طور پر پاکستانی پنجاب کے علاقوں میں بہتے ہیں۔ جبکہ دو دریاؤں کے مرکز بھارتی پنجاب سے ہو کر آتے ہیں۔ اس سے قبل اس کا نام سپت سندھو یعنی سات دریآں کی سرزمین تھا۔ تاریخ جہلم میں انجم سلطان شہباز نے لکھا ہے کہ سپت کا مطلب سات اور سندھو کا مطلب دریا ہے۔ نیز شیر شاہ نے جو قلعہ بنایا تھا وہ جہلم میں قلعہ روہتاس کے نام سے ہے۔ ْ

وادئ سندھ قدیم مملکت پنجابترميم

وادئ سندھ تہذیب جو دنیا کے پرانے ترین انسانی تہذیبوں میں سے ایک اہم تہذیب ہے،پنجاب میں بھی اس تہذیب کے گہرے اثرات موجود ہیں جن میں ہڑپہ قابل ذکر ہے۔

وادیٔ سندھ کی تہذیب
 
جغرافیائی حدودایشیاء
دورکانسی دور
تاریخc. 3300 ق-م – 1700 ق-م[6][7]
اس کے بعدویدک دور
فائل:Sokhta Koh.jpg
پسنی میں وادی سندھ تہذیب کے مکانات کی ایک تشبیہ
 
وادی سندھ تہذیب میں آباد لوگوں کی کھوپڑیاں جو آج بھی بھارتی عجائب گھر میں محفوظ ہیں۔
 
کوئٹہ میں دریافت شدہ برتن، جو تقریباََ 2500–1900 قبل مسیح میں بنایا گیا تھا

وادیٔ سندھ کی تہذیب (انگریزی: Indus Valley Civilization) سنہ 3300 سے 1700 قبل مسیح تک قائم رہنے والی انسان کی چند ابتدائی تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ وادیٔ سندھ کے میدان میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کناروں پر شروع ہوئی۔ اسے ہڑپہ کی تہذیب بھی کہتے ہیں۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو اس کے اہم مراکز تھے۔ دریائے سواں کے کنارے بھی اس تہذيب کے آثار ملے ہیں۔ اس تہذيب کے باسی پکی اینٹوں سے مکان بناتے تھے۔ ان کے پاس بیل گاڑياں تھیں، وہ چرخے اور کھڈی سے کپڑا بنتے تھے، مٹی کے برتن بنانے کے ماہر تھے، کسان، جولاہے، کمہار اور مستری وادیٔ سندھ کی تہذیب کے معمار تھے۔

سوتی کپڑا کہ جسے انگریزی میں کاٹن کہتے ہیں وہ انہی کی ایجاد تھی کہ لفظ کاٹن انہی کے لفظ کاتنا سے بنا ہے۔ شکر اور شطرنج دنیا کے لیے اس تہذیب کے انمول تحفے ہیں۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کی دولت نے ہزاروں سال سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔

خیال کیا جاتا تھا پاک و ہند میں تمذن کی بنیاد آریاؤں نے 1500 ق م میں ڈالی تھی۔ اس سے پہلے یہاں کے باشندے جنگلی اور تہذیب و تمذن سے کوسوں دور تھے۔ مگر بعد کی تحقیقات نے اس نظریے میں یک لخت تبدیلی پیدا کردی اور اس ملک کی تاریخ کو ڈیرھ ہزار پیچھے کر دیا۔ ایک طرف موہنجودڑو اور ہڑپا کے آثار اور سندھ کی قدیم تہذیب کے بارے میں جو معلومات ہوئیں ان سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ کی ہے کہ کہ آریوں کے آنے سے بہت پہلے یہ ملک تہذیب و تمذن کا گہوارہ بن چکا تھا ۔

1921ء کا واقعہ ہے کہ رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپہ کے مقام پر نے قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال کے بعد اسی طرح کے آثار مسٹر آر ڈی بنرجی کو موہنجودڑو کی سر زمین میں دستیاب ہوئے۔ اس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ کے ڈائرکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ان دونوں مقامات کی طرف توجہ دی۔ چنانچہ رائے بہادر دیا رام سہنی، ڈائرکٹر ارنسٹ میکے اور محکمہ اثریات کے دیگر احکام کے تحت کھدائی کا کام شروع ہوا۔ 1931ء میں فنڈ کی کمی کی وجہ سے کام روک دیا گیا۔ اس اثنائ میں محکمہ نے دوسرے مقامات پر اثری تلاش شروع کی۔ اس میں بڑی کامیابی ہوئی اور پتہ چلا کہ یہ قدیم تہذیب موہنجوداڑو اور ہڑپہ تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس کا سلسلہ صوبہ سندھ میں چنہودڑو، جھوکر، علی مراد اور آمری اور صوبہ پنجاب میں روپر اور بلوچستان میں نال اور کلی کے مقام پر بھی قدیم تہذیب کے آثار موجود ہیں ۔

 
وادئ سندھ کے اہم مراکز لال نقطوں سے ظاہر کئے گئے ہیں۔

وادی سندھ سے صرف موجودہ سندھ مراد نہیں بلکہ موجودہ پاکستان، افغانستان کا مشرقی حصہ، بھارت کا مغربی حصہ وادئ سندھ میں شمار ہوتا ہے۔ وادئ سندھ مغرب میں پاکستانی صوبہ بلوچستان سے لے کر مشرق میں اتر پردیش تک پھیلا ہوا ہے،جبکہ شمال میں افغانستان کے شمال مشرقی حصے سے لے کر جنوب مغرب میں بھارتی ریاست مہراشٹرا تک پھیلی ہوئی تھی۔

 
سندھ و گنگ کا میدان

سندھ و گنگ کا میدان (انگریزی: Indo-Gangetic Plains) ایک بہت بڑا میدانی علاقہ ہے جو برصغیر کے شمالی حصّے میں واقع ہے۔ اس میدان کا نام سندھ اور گنگا کے دو بڑے دریاؤں پر پڑا ہے جن کی وجہ سے اس میدان کی زمین بے حد زرخیز ہے۔ یہ میدان چار ملکوں میں پھیلا ہوا ہے - پاکستان، ہندوستان، نیپال اور بنگلہ دیش.

ابھی ہم متاخر حجری عہد سے گزرتے ہی سندھ کی وادی میں ہماری نظر تمذن کے ایسے آثاروں پر پڑتی ہے کہ ہم ٹھٹھک کر رہ جاتے ہیں۔ ہم ابھی اجتماعی زندگی کی بنیاد پڑنے، بستیاں بسنے، صنعت میں کس قدر مشق و صفائی پیدا کرنے کا ذکر کر رہے تھے۔ اب یک بارگی ہمیں عالی شان شہر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مکانات پختہ اور مظبوط، دو دو تین تین منزلہ اونچے ہیں۔ ان میں سڑکیں ہیں، بازار ہیں۔ ان کے باشندوں کی زندگی و رواج اور عادات سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ یہ عجیب بات وادی سندھ کے وہ آثار جو سب سے زیادہ گہرائی میں ہیں سب سے زیادہ ترقی کا پتہ دیتے ہیں۔ یعنی جب یہاں کے شہر پہلے پہل بنے تب یہاں کی تہذیب اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی اور بعد میں اسے زوال آتا رہا۔ وادی سندھ کی تہذیب کی بے نقابی اور تشریح شاید بیسویں صدی کا عظیم ترین عصریاتی واقعہ ہے۔ کیوں کہ اس تہذیب کی وسعت اور معنویت کو 1922ء میں موہنجودڑو کی کھدائی سے پہلے سمجھا ہی نہ جاسکا ۔

وادی سندھ کی تہذیب ارض پاکستان کی قبل از تاریخ دور کی سب سے شاندار چیز ہے۔ اس تہذیب کی بہت سی خصوصایت ایسی ہیں جو صرف اس کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ماضی میں اس تہذیب کے بارے میں ماہرین کی رائے تھی کہ یہ مغربی ایشیائ سے اس سرزمین سے لائی گئی تھی اور مغربی ایشائی کے تہذیبی عروج و زوال کا تمتہ تھی۔ لیکن 1950ء میں ڈاکٹر ایف اے خان نے کوٹ ڈیجی کی کھدائی کی۔ اس سے نئی چیزیں سامنے آئیں اور پرانے تصورات میں تبدیلی واقع ہوئی۔ کوٹ ڈیجی میں ہڑپہ کے پختہ دور سے بہت پہلے کی مدفون آبادی ملی۔ اس کی تہذیب کے زمانے کا تعین ریڈیو کاربن کے ذریعے کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ آبادی ہڑپہ سے بھی 800 سال پرانی ثقافت ہے۔ اس کے بعد بے درپے کھدائیاں ہوئیں۔ جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اس تہذیب کے سرچشمے اسی سر زمین میں تھے۔ یہ مقامی سماج کے ارتقا کا لازمی نتیجہ تھی اور بیرونی اثرات جو بھی تھے وہ ثانوی اور کم اہم تھے۔ اس تہذیب کا پختہ زمانہ تو 2500 ق م سے لے کر 1700 ق م ہے۔ لیکن در حقیت اس کا تسلسل 3800 ق م تک نظر آتا ہے۔ اس کا دائرہ اثر شمال میں شمالی افغانستان کے علاقہ بدخشاں سے لے کر جنوب میں ساحل سمندر تک ہے۔ جہاں یہ بلوچستان کے ساحل سے لے کر کاٹھیاواڑ تک محیط ہے۔ پرانی کھدائیوں میں اس تہذیب سے وابستہ شہر اور قبضے بیالیس کی تعداد میں تھی۔ اب اس کی تعداد میں سیکڑوں کا اضافہ ہوچکا ہے۔ صرف چولستان میں ڈاکٹر رفیق مغل نے تین سو تریسٹھ مدفون بستیاں ڈھونڈی ہیں جن کا تعلق اس تہذیب سے ہے۔ اس کے علاوہ سرائے کھولا، جھنگ، بٹھیال، وادی سوات میں غالاگئی، وادی گومل میں کے کئی مقامات، بلوچستان کے علاقہ کچھی کے علاقے میں مہر گڑھ میں اس تہذیب کے اثرات ملے ہیں۔ بھارت میں دریائے گھگھر (ہاکڑہ) اور اس کے معاون دریاؤں کے طاس کا علاقہ ان آثار سے پر ہے۔ اس میں راجپوتانہ، مشرقی پنجاب اور ہریانہ کے صوبے شامل ہیں۔ یہاں جن مقامات سے اس تہذیب کے آثار ملے ہیں ان میں کالی بنگن، سیسوال، بانے والی منڈا اور دوسرے بہت سی جگہیں شامل ہیں۔ ساحل کے قریب لوتھل اور رنگ پور بڑے شہر تھے۔ ان کے علاوہ چھوٹی بستیاں بہت زیادہ ہیں۔

اس تہذیب کا سب سے پہلے ملنے والا شہر ہڑپہ تھا اور اس وجہ سے اسے ہڑپہ سویلائزیشن بھی کہا جاتا ہے۔ دوسرا بڑا شہر موہنجوداڑو تھا۔ بعد میں اب گنویری والا ملا ہے۔ جو ہڑپہ سے بڑا شہر ہے لیکن ماہرین زیادہ اہمیت ہڑپہ اور موہنجوداڑو کو دی۔

بڑے شہروں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آبادی وسیع تھی۔ شہروں میں تو تھی ہی، دیہات میں بھی بہت تھی۔ جو وافر مقدار میں اجناس ۔۔۔ اپنی مقامی ضرورتوں سے زائد ۔۔۔ پیدا کر رہی تھی کہ یہ اجناس شہروں کو بھیجی جاسکیں۔ ملک کے طول و عرض میں پختہ اینٹوں کا کثرت سے استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ وسیع جنگلات تھے۔ برتن اور مہروں پر جانوروں کی شکلیں اور دفینوں پر ان کی ہڈیاں جانوروں کی کثرت سے موجودگی اور دوسرے لفظوں میں جنگلوں کی کثرت کا ثبوت ہیں۔ جانوروں میں گینڈے، شیر، دریائی بھینس اور ہاتھی کثیر تھے۔ ان کے علاوہ گھڑیال کا ثبوت ملا ہے۔ ریچھ کی بعض نسلیں، بندر گلہری اور طوطا بھی ملا ہے۔ بارہ سنگھا اور ہرن بھی ملے ہیں۔

اس تہذہب کے نمایاں شہر موہنجوداڑو، ہڑپہ کے علاوہ چنھودڑو، ستکگن دڑو، بالاکوٹ، سوتکا کوہ، ٹوچی، مزینہ دمب، سیاہ دمب، جھائی، علی مراد، گنویری والا اور معتدد شہر شامل ہیں۔

مادی ثقافت کی جملہ تفصیلات میں سارا وسیع و عریض علاقہ ۔۔۔ جسے اب ماہرین آثار عظیم تر وادی سندھ کہتے ہیں ۔۔۔ آپس میں مکمل یکسانی رکھتا ہے۔ مٹی کے برتن ہر جگہ ایک جیسے ہی ہیں۔ جو تھوک پیداوار کا نتیجہ ہیں، مکانات طے شدہ معیاری نقشوں پر بنے ہیں اور پختہ اینٹوں کے ہیں۔ مہریں ایک طرح کے کھدے ہوئے مناظر سے مزین ہیں اور رسم الخط سب جگہ ایک ہی ہے۔ اوزان اور پیمائش کا ایک ہی معیاری نظام ہر جگہ رائج ہے ۔

ماہرین عموماً وادی سندھ کی تہذیب کے لیے سلطنت کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن شاید پگٹ اور ویلر نے سرسری طور پر انڈس ایمپائر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جب کہ اکثر ماہرین کا رجحان یہ ہے اسے ایک سلطنت نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن بعض بنیادی حقائق ایسے ہیں جن کی کوئی دوسری تشریح ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔ وادی سندھ کی صنعتی پیداوار کی زبر دست یکسانی اس خیال کی گنجائش ضرور پیدا کرتی ہے کہ ایک طاقت ور مرکزی حکومت موجود تھی۔ جو سارے علاقے کو کنٹرول کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ پیداوار اور تقسیم کا ایک مربوط ایک مسوط سلسلہ تھا جس کو وہ کنٹرول کرتی تھی۔ اس کا یقینا ایک محصول چونگی اور شاہرہوں کی حفاظت کامربوط نظام تھا۔ ہڑپہ اور موہنجو دڑو ہم عصر شہر تھے، جو یقناً جڑواں دالحکومت تھے۔ ان دونوں شہروں کے اندر بلند و بالا قلعے تھے۔ جو باقی ماندہ آبادی پر غالب نظر آتے تھے۔ اس لیے قیاس آرئی کی گنجائش تھی کہ یہ مرکزی حکومت کے دالحکومت تھے۔

ملک کے طول و عرض میں مصنوعات اور دستکاریوں کی زبردست یکسانی صرف مرکزی حکومت کے سخت قوانین کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ سماج کے تجارتی قوانین بھی ۔۔۔ جنہیں مذہبی رنگ حاصل تھا ۔۔۔ یقینا بہت سخت ہوں گے۔ جن پر حروف بحروف عمل ہوتا تھا۔ ہر علاقے میں اوزان کا یکساں تھے۔ کانسی کی کلہاڑی کی بناوٹ اور بھالے کی شکل ایک سی تھی۔ اینٹوں کا سائز، مکانوں کا نقشہ، بڑی گلیوں کی ترتیب، الغرض پورے شہر کی ٹاون پلانگ ایک سی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ صدیوں تک پرانی عمارتوں پر نئی عمارتیں ہو بہو ویسی کی ویسی بنتی رہیں۔ ایک گھر کی خارجی چار دیواری کئی صدیوں تک نہیں بدلی تھی۔ اس کا مطلب ہے حکمران اور محکوم دونوں طبقات تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے۔ کاریگر لوگ ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے نسل درنسل ایک ہی کام کرتے چلے آ رہے تھے اور کچھ ایسا ہی حال اونچے طبقات کا تھا ۔

وادی سندھ کی یکسانی زمان اور مکان میں ایک جیسی شدت تھی۔ ایک طرف یہ بلوچستان سے لے کر پنجاب اور خیبر پختوںخوا تک یکساں ہے۔ دوسری طرف تیرہ سو سال کے عرصے پر محیط جب تک یہ تہذیب زندہ رہی اس کی تفصیلات میں فرق نہیں آیا ۔

موہنجوداڑو میں کل نو رہائشی پرتیں نکالی گئیں۔ ان میں کئی جگہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا ثبوت ملتا ہے۔ لیکن ان متفرق ادوار کی مادی ثقافت میں زرا فرق نہیں ملتا۔ نہ زبان بدلی ہے نہ رسم و الخط۔ ایک ایسی زمین پر جس میں زبان نے متعدد شکلیں اختیار کی ہیں اور رسم الخط بار بار یکسر تبدیل ہوا ہے اس میں ایک ہی رسم الخط کا تسلسل اس کے ٹہراؤ کا بڑ ثبوت ہے ۔

ایک طرف تو ان کے عکاد اور سومیر سے تعلقات تھے۔ دوسری طرف تیرہ سو سال تک انہوں نے عکاد اور سومیر سے بدلتے ہوئے صنعتی طریقوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ اس مطلب ہے کہ ٹہراؤ کی وجوہات اندرونی اور بہت مضبوط تھیں اور بیرونی اثرات کمزور تھے ۔

کوسمبی مزید کہتا ہے کہ اس تہذیب میں پھیلاؤ کا فقدان تھا۔ یعنی دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کنارے شہر آباد تھے۔ باقی تمام آبادی چھوٹے چھوٹے گاؤں پر مشتمل تھی اور یہ تہذیب وادی گنگ و جمن اور خاکنائے دکن کی طرف نہیں گئی ۔[8][9][10][11][12]

محل وقوعترميم

پنجابی لوگ اصل میں خطہ پنجاب میں آباد ہیں۔ پنجاب کا مطلب پانچ دریاؤں کا خطہ۔ مقامی پنجابی آبادی اس وقت بطور مقدر ابھری جب اٹھارویں صدی میں رنجیت سنگھ نے پہلی مرتبہ پنجاب اعظم کا بنیاد رکھا جس میں موجودہ پاکستانی پنجاب،بھارتی پنجاب،پورا آزاد کشمیر اور موجودہ خیبر پختونخوا شامل ہیں یہ سارے علاقے پنجاب میں شمار ہوتے تھے۔ سلطنت انگلشیہ کا پنجاب موجودہ خیبر پختونخوا, پاکستانی پنجاب, انڈین پنجاب, ہریانہ, ہماچل پردیش اور دہلی پر مشتمل تھا.

پنجابی لوگ مشرق میں میں بھارتی ریاست ہماچل پردیش،ہریانہ اور راجستھان سے لے کر مغرب میں پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا تک جبکہ شمال میں جموں و کشمیر سے لے کر جنوب میں شکارپور تک آباد ہیں. خیبر پختونخواہ میں ہزارہ ڈویژن, ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن اور پشاور شہر ہندکو پنجابیوں کے علاقے ہیں.

پاکستانی پنجابیترميم

پاکستان میں تقریباً 40 سے 45 فیصد لوگ ہیں جو پنجابی زبان بولتے ہیں۔ پاکستان میں پنجابی آبادی دو اہم گروہ میں منقسم سمجھی جاتی ہے، زمیندار اور قوم۔ زمیندار اصل میں ان پنجابیوں کو کہا جاتا ہے جو زراعت اور کاشتکاری سے منسلک ہوتے ہیں۔ زمیندار گروہ مزید آرائیں راجپوت، جٹ،شیخ،گوجر،ڈوگر اور رحمانی میں منقسم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں پنجابی اکثریتی آبادی مسلمان ہیں۔

درجہ صوبہ پنجابی متکلمین فیصد
پاکستان 76,335,300 44.15
1 پنجاب 70,671,704 75.23
2 سندھ 3,592,261 6.99
3 وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد 1,343,625 71.62
5 بلوچستان 318,745 2.52

بھارتی پنجابیترميم

 
ایک بھارتی پنجابی کاشتکار

بھارت میں پنجابی بولنے والوں کی تعداد 2001ء مردم شماری کے مطابق کل آبادی کا 2.8% ہے۔[13] بھارت میں پنجابیوں کی کل تعداد غیر معلوم ہے کیونکہ مردم شماری میں نسلیت کو نہیں گنا جاتا ہے۔ سکھ لوگ زیادہ تر پنجاب، بھارت میں رہتے ہیں جن کی کل ابادی 57.7% ہے جبکہ پنجابی ہندو 38.5% ہیں۔ [14] نسلی اعتبار سے وہ دہلی کی کم از کم 40 فیصد آبادی ہیں اور مجموعی طور پر وہ ہندی زبان بولنے والے پنجابی ہندو ہیں۔[15][16][17] چندی گڑھ میں 80.78% ہندو،13.11% سکھ اور 4.87% مسلمان ہیں۔ اقلیتوں میں عیسائی، بدھ مت اور جین مت ہیں۔[18] بھارت کا پنجاب مسلمانوں اور عیسائیوں کا بھی مسکن ہے۔ مشرقي پنجاب کے زیادہ تر مسلمان سرحد عبور کر کے پاکستان چلے گئے جبکہ ایک قلیل اب بھی قادیان اور مالیر کوٹلہ میں اباد ہے۔ سکھوں کی کثیر آبادی والے علاقوں میں مالیر کوٹلہ، نابھہ، جند، فرید کوٹ، کپور تھلہ، کلسیہ اور پٹیالہ ہیں۔ بھارت کی تہذیب و ثقافت پر پنجابیوں نے گہرا اثر چھوڑا ہے۔ دنیا بھر میں بھارت کے پنجابی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں اور بالی ووڈ میں پنجابی نغمے اور پنجابی ناچ جا بجا دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ مشہور فلمی شخصیات میں دیو آنند، سنیل دت، پران (اداکار)، پریم چوپڑا، منوج کمار، دھرمیندر، راجیش کھنہ، ونود کھنہ، کبیر بیدی، ونود مہرا، پنکج پنکج، سنی دیول، انیل کپور، پونم ڈھیلون، جوہی چاولا، اکشے کمار، ریتیک روشن، ارجن کپور، سونم کپور، رنبیر کپور، شاہد کپور، ورن دھون، پریانکا چوپڑا، پرینیتی چوپڑا اور سدھارتھ ملہوترا ہیں۔، گلو کاروں میں محمد رفیع، مہندر کپور، نریندر چنچل، سکھویندر سنگھ، دلیر مہندی، میکا سنگھ، بادشاہ (ریپر)، یو یو ہنی سنگھ اور کانکا کپور ہیں۔ پنجاب نے بھارت کو گلزاری لال نندا، اندر کمار گجرال اور منموہن سنگھ جیسے وزرائے اعظم دئے ہیں۔۔ کرکٹ میں بھی پنجابیوں کا بول بالا رہا ہے۔ مشہور کرکٹروں میں لالا امرناتھ، بیشن سنگھ بیدی، کپیل دیو، رجیندر سنگھ گھائی، یوگراج سنگھ، موہندر امرناتھ، نوجوت سنگھ سدھو، ہربھجن سنگھ، یووراج سنگھ، ویراٹ کوہلی، مندیپ سنگھ اور شیکھر دھون جیسے ستارے شامل ہیں۔

مذہبترميم

پنجابی لوگوں میں سب سے زیادہ دو مذاہب ہیں ،پاکستان میں مقیم پنجابی اکثریتی طور پر مسلمان جبکہ بھارت میں مقیم پنجابی سکھ مذہب کے پیروکار ہیں۔ پنجابی اکثر مسلمان ہیں جو سنی اسلام کے فقہ حنفی پیروکار ہیں۔

ثقافتترميم

زبانترميم

پنجابی لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے جو ایک ہند یورپی زبان ہے جو باشندگان پنجاب میں مروج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں ہندومت، سکھ مت، اسلام اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ اول الذکر مذہب کے علاوہ باقی تینوں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں کیے گئے مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعدا 14-15کروڑ سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ اردو،ہندی اور انگریزی بطور دوسری زبان استعمال کرتے ہیں۔

سرسوں کا ساگ مکھن اور مکئی کی روٹی سب سے مقبول پنجابی کھانا ہے اس کے علاوہ ساون میں مسی تندوری روٹی بھی شوق سے پکائی اور کھائی جاتی ہے=== پنجابی ثقافتی کھانا ===

 
گاجر کا حلوہ

پنجاب میں تندوری کھانے زیادہ عام ہیں۔ پنجابی ثقافتی کھانوں میں مرغ تکہ،آلو گوبھی،پراٹھا،دیسی لسی، تندوری چکن،زیرہ چاول،پنجیری، تڑکہ دال،سیویاں،گاجر حلوہ ،اچار،گوشت اور پنیر شامل ہیں

موسیقیترميم

رقصترميم

پنجاب میں بہت سے ثقافتی رقص معموم ہیں جن میں سب سے معروف رقص بھنگڑا ہے جو مختلف تقریبات اور تہوار میں کیا جاتا ہے۔ دیگر درج ذیل ہیں:

تہوارترميم

کھیلترميم

پنجابی بلحاظ ملکترميم

درجہ ملک آبادی
1   پاکستان 81,379,615
2   بھارت 33,109,672
3   مملکت متحدہ 2,300,000
4   کینیڈا 800,000

حوالہ جاتترميم

  1. "Pakistan 2008 census – Population by mother tongue" (PDF). 17 فروری 2006 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 اگست 2013. 
  2. Indian Census
  3. Roger Ballard, Marcus Banks (1994). Desh Pardesh. C. Hurst & Co. Publishers. صفحات 19–20. ISBN 978-1-85065-091-1. 
  4. 2006 Census: Ethnic Origin
  5. "IslamAhmadiyya – Ahmadiyya Muslim Community – Al Islam Online – Official Website". Alislam.org. 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 جولا‎ئی 2013. 
  6. یحیٰی امجد۔ تاریخ پاکستان قدیم دور
  7. پروفیسر محمد مجیب۔ تاریخ تمذن ہند
  8. ٹی ایچ۔ سورلے گزیٹیر سندھ
  9. ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم
  10. ڈی ڈی کوسمبی۔ قدیم ہندوستان
  11. Key Facts on India: Essential Information on India
  12. "Census 2011: %age of Sikhs drops in Punjab; migration to blame?". The Times of India. 
  13. "Delhi Assembly Elections 2015: Important Facts And Major Stakeholders Mobile Site". India TV News. 6 فروری 2015. 30 دسمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 7 ستمبر 2015. 
  14. Jupinderjit Singh (فروری 2015). "Why Punjabis are central to Delhi election". tribuneindia.com/news/sunday-special/perspective/why-punjabis-are-central-to-delhi-election/36387.html. اخذ شدہ بتاریخ 7 ستمبر 2015. 

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم