پنجاب، پاکستان

پاکستان کا صوبہ
(پنجاب،پاکستان سے رجوع مکرر)

پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب میں رہنے والے لوگ پنجابی کہلاتے ہیں۔ پنجاب جنوب کی طرف سندھ، مغرب کی طرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان، ‎شمال کی طرف کشمیر اور اسلام آباد اور مشرق کی طرف ہندوستانی پنجاب اور راجستھان سے ملتا ہے۔ پنجاب میں بولی جانے والی زبان بھی پنجابی کہلاتی ہے۔ پنجابی کے علاوہ وہاں کردستانی ،بلوچوں اور عربی نژادوں کی کافی تعداد ہے۔ پنجاب کا دار الحکومت لاہور ہے۔ پنجاب سب سے بڑا بارہ کروڑ آبادی والا صوبہ ہے۔


پنجاب
صوبہ
پنجاب
پرچم
پنجاب
مہر
پنجاب، پاکستان کا محل وقوع
پنجاب، پاکستان کا محل وقوع
متناسقات: 31°N 72°E / 31°N 72°E / 31; 72متناسقات: 31°N 72°E / 31°N 72°E / 31; 72
ملکپاکستان پاکستان کا پرچم
قیام1 جولائی 1970ء
صوبائی دار الحکومتلاہور
سب سے بڑا شہرلاہور
حکومت
 • قسمصوبائی
 • گورنرمحمد بلیغ الرحمان
 • وزیر اعلیٰمحسن نقوی
 • چیف سیکٹریعمیر علی ناقہ
 • مقننہپنجاب صوبائی اسمبلی
 • عدالت عدلیہعدالت عالیہ لاہور
رقبہ
 • کل205,344 کلومیٹر2 (79,284 میل مربع)
آبادی (2017)
 • کل110,012,442
 • کثافت540/کلومیٹر2 (1,400/میل مربع)
منطقۂ وقتپاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
آیزو 3166 رمزPK-PN
پاکستان کی زبانیں

دیگر زبانیں: سرائیکی
کھیلوں کی اہم ٹیمیںلاہور قلندرز
لاہور بادشاہز
ملتان سلطانز
لاہور لائینز
راولپنڈی ریمز
سیالکوٹ سٹالینز
بہاولپور سٹیگز
شیخوپورہ شارخس
اسمبلی183
پنجاب اسمبلی371
ڈویژن9
اضلاع37
تحصیل146
یونین کونسلیں7602
ویب سائٹwww.punjab.gov.pk
پنجاب
پنجاب

پنجاب فارسى زبان كے دو لفظوں پنج بمعنی پانچ(5) اور آب بمعنی پانی سے مل کر بنا ہے۔
ان پانچ درياؤں كے نام ہيں:

پنجاب کا صوبائی دار الحکومت لاہور، پاکستان کا ایک ثقافتی، تاریخی اور اقتصادی مرکز ہے جہاں ملک کی سنیما صنعت اور اس کے فیشن کی صنعت ہے۔

تہوار ترمیم

عید الفطر، عید الاضحی، شبِ برات اور عید میلاد النبی پنجاب کے علاوہ پورے پاکستان میں خاص تہوار ہیں اور پورے جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ ان تہواروں کے علاوہ رمضان کا پورا مہینہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مگر بسنت ایک ایسا تہوار ہے جو پنجاب سے منسلک ہے۔ یہ تہوار بہار کے موسم کو خوش آمدید کہنے کا ایک خاص طریقہ ہے۔ جس میں لوگ پتنگ اڑا کر اور پنجاب کے خاص کھانے بن ا کر اور کھا کراس تہوار کو مناتے ہیں۔ مگر بہت سے لوگ بسنت منانے کے خلاف ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے کئی معصوم لوگ اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

جغرافیہ ترمیم

پنجاب رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے جس کا رقبہ 205,346 مربع کلومیٹر (79,284 مربع میل) ہے۔ یہ پاکستان کے کل رقبے کا 25.8 فیصد ہے۔ صوبہ پنجاب کی سرحد جنوب میں سندھ، جنوب مغرب میں صوبہ بلوچستان، مغرب میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور شمال میں اسلام آباد دار الحکومت اور آزاد کشمیر سے ملتی ہے۔ پنجاب کی سرحدیں شمال میں جموں و کشمیر اور مشرق میں بھارتی ریاست پنجاب اور راجستھان سے ملتی ہیں۔

دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر لاہور ہے جو پنجاب کے وسیع علاقے کا تاریخی دار الحکومت تھا۔ دیگر اہم شہروں میں فیصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، ملتان، سیالکوٹ، بہاولپور، گجرات، منڈی بہاؤالدین، شیخوپورہ، جہلم اور ساہیوال شامل ہیں۔ پنجاب کی جغرافیہ میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کے پانچوں بڑے دریاؤں کا گھر ہے۔ وہ پانچ دریا یہ ہیں:

اس کے علاوہ اس خطے میں ریگستان بھی موجود ہیں جو پاک بھارت سرحد کے قریب ہیں خاص طور پر بھارتی صوبے راجستھان کے پاس۔ دیگر ریگستانوں میں صحرائے تھل اور صحرائے چولستان شامل ہیں۔

موسم ترمیم

فروری سے پہلے پنجاب میں بہت سردی ہوتی ہے اور پھر اس مہینے سے موسم میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے اور موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے۔ مارچ اور اپریل میں بہار کا موسم رہتا ہے اور پھر گرمیاں شروع ہونے لگتی ہیں۔

گرمیوں کا موسم مئی سے شروع ہوتا ہے تو ستمبر کے وسط تک رہتا ہے۔ جون اور جولائی سب سے زیادہ گرم مہینے ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق پنجاب میں C°46 تک درجہ حرارت ہوتا ہے مگر اخبارات کی معلومات کے مطابق پنجاب میں C°51 تک درجہ حرارت پہنچ جاتا ہے۔ سب سے زیادہ گرمی کا ریکارڈ ملتان میں جون کے مہینے میں قلمبند کیا گیا جب عطارد کا درجہ حرارت C°54 سے بھی آگے بڑھ گیا تھا۔ برسات یا مونسون کا موسم بھی جون سے شروع ہو کر ستمبر تک رہتا ہے۔ ستمبر کے اواخر میں گرمی کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور پھر اکتوبر کے بعد پنجاب میں سردی کا موسم شروع ہو جاتا ہے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں دسمبر اور جنوری میں شدید دھند پڑتی ہے، جس کے باعث ملکی و غیر ملکی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے۔

آبادیات ترمیم


آبادی ترمیم

یہ صوبہ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی کا گھر ہے اور یہ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ذیلی قومی ادارہ ہے اور چین اور بھارت کے بعد سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔ پاکستان میں پنجاب میں غربت کی شرح سب سے کم ہے، حالانکہ صوبے کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان تقسیم موجود ہے۔ صوبے کے خوش حال شمالی حصے میں واقع ضلع سیالکوٹ میں غربت کی شرح 5.63% ہے، جب کہ غریب ترین جنوبی میں واقع ضلع راجن پور میں غربت کی شرح 60.05% ہے۔

زبانیں ترمیم


 

پنجاب کی زبانیں
(2017ء مردم شُماری)[1]

  پنجابی (59.98%)
  سرائیکی (24.5%)
  اُردو (5.95%)
  پشتو (5.5%)
  بلوچی (5.98%)
  سندھی (6.6%)
  دیگر (5.82%)

پنجاب میں بولی جانے والی بڑی مادری زبان پنجابی ہے، جو ملک میں بولی جانے والی سب سے بڑی زبان کی نمائندگی کرتی ہے۔ پنجابی کو پنجاب کی صوبائی زبان کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن قومی سطح پر پاکستان کے آئین میں اسے کوئی سرکاری سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ پنجابی سے گہرا تعلق رکھنے والی کئی زبانیں اس خطے میں بولی جاتی ہیں۔ پنجاب کے جنوبی حصے میں اکثریتی زبان سرائیکی ہے جبکہ شمال میں ہندکو اور پوٹھواری لہجہ بولنے والے ہیں۔ پشتو بھی پنجاب کے کچھ حصوں میں بولی جاتی ہے، خاص طور پر اٹک، میانوالی اور راولپنڈی کے اضلاع میں۔

مذاہب ترمیم




 

پنجاب میں مذاہبِ (2017 مردم شُماری)[2][3]

  اسلام (92.00%)
  عیسائی (4.3%)
  ہندو (6.3%)
  دیگر (3.99%)
پنجاب میں مذاہبِ [ا]
مذہب آبادی
(1941)[4]:42
فیصد
(1941)
آبادی
(2017)[3]
فیصد
(2017)
اسلام   12,983,576 75.01% 107,558,164 97.77%
ہندو  [ب] 2,376,309 13.73% 220,024 0.2%
سکھ   1,527,345 8.82% N/A N/A
عیسائی   382,669 2.21% 2,068,233 1.88%
دیگر [پ] 40,458 0.23% 3,455 0%
کل آبادی 17,310,357 100% 110,012,942 100%

پنجاب (پاکستان) کی آبادی کا تخمینہ 110,012,942 ہے، جس میں 2017ء کی مردم شماری کے مطابق، 107,558,164 یعنی (92%) مسلمان ہیں۔ سب سے بڑی غیر مسلم اقلیت عیسائی ہیں اور ان کی آبادی 2,068,233 یعنی (2.5%) ہے۔ ہندو تقریباً 220,024 افراد ہیں یعنی آبادی کا (0.8%)۔ دیگر اقلیتوں میں سکھ، پارسی اور بہائی شامل ہیں۔

صوبائی حکومت ترمیم

حکومت پنجاب، پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں ایک صوبائی حکومت ہے، جو صوبہ پنجاب کے دار الحکومت لاہور میں واقع ہے۔ وزیر اعلیٰ (سی ایم) کو پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں صوبائی حکومت کے سربراہ کے طور پر کام کرنے کے لیے منتخب کرتی ہے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی ہیں جو 26 جولائی 2022ء کو قومی اسمبلی سے منتخب ہوئے۔ پنجاب کی صوبائی اسمبلی صوبہ پنجاب کے منتخب نمائندوں کی یک ایوانی مقننہ ہے جو پاکستان میں لاہور میں واقع ہے۔ یہ اسمبلی آئین پاکستان کے آرٹیکل 106 کے تحت قائم کی گئی تھی جس کی کل 371 نشستیں تھیں، جن میں سے 66 خواتین کے لیے اور آٹھ غیر مسلموں کے لیے مخصوص تھیں۔

اضلاع ترمیم

ضلع رقبہ مربع کلومیٹر آبادی بمطابق 1998ء آبادی کثافت افراد فی مربع کلومیٹر
اٹک 6,857 1,274,935 186
اوکاڑہ 4,377 2,232,992 510
بہاولنگر 8,878 2,061,447 232
بہاولپور 24,830 2,433,091 98
بھکر 8,153 1,051,456 129
پاکپتن 2,724 1,286,680 472
ٹوبہ ٹیک سنگھ 3,252 1,621,593 499
جھنگ 8,809 2,834,545 322
جہلم 3,587 936,957 261
چکوال 6,524 1,083,725 166
چنیوٹ - - -
حافظ آباد 2,367 832,980 352
خانیوال 4,349 2,068,490 476
خوشاب 6,511 905,711 139
ڈیرہ غازی خان 11,922 1,643,118 138
راجن پور 12,319 1,103,618 90
راولپنڈی 5,286 3,363,911 636
رحیم یار خان 11,880 3,141,053 264
ساہیوال 3,201 1,843,194 576
سرگودھا 5,854 2,665,979 455
سیالکوٹ 3,016 2,723,481 903
شیخو پورہ 5,960 3,321,029 557
فیصل آباد 5,856 5,429,547 927
قصور 3,995 2,375,875 595
گجرات 3,192 2,048,008 642
گوجرانوالہ 3,622 3,400,940 939
لاہور 1,772 6,318,745 3,566
لودھراں 2,778 1,171,800 422
لیہ 6,291 1,120,951 178
مظفر گڑھ 8,249 2,635,903 320
ملتان 3,720 3,116,851 838
منڈی بہاؤ الدین 2,673 1,160,552 434
میانوالی 5,840 1,056,620 181
نارووال 2,337 1,265,097 541
ننکانہ صاحب --- --- ---
وہاڑی 4,364 2,090,416 479
صوبہ پنجاب 205,345 73,621,290 359

صوبائی حکومت ترمیم

Provincial symbols of Punjab (unofficial)
صوبائی جانور جنگلی بھیڑ  
صوبائی پرندہ طاوس( مور)  
صوبائی درخت Tamarix aphylla  
صوبائی پھول Datura Metel  
صوبائی کھیل Kushti  

ایوان عکس ترمیم

مزید دیکھیے ترمیم

بیرونی روابط ترمیم

حوالہ جات ترمیم

  1. "CCI defers approval of census results until elections"۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  2. "Population by Religion" (PDF)۔ pbs.gov.pk۔ ادارہ شماریات پاکستان۔ 19 جولا‎ئی 2019 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اگست 2022 
  3. ^ ا ب "SALIENT FEATURES OF FINAL RESULTS CENSUS-2017" (PDF)۔ 29 اگست 2021 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مئی 2021