مرکزی مینیو کھولیں

نیکوسیا

قبرص کا شہر اور دار الحکومت

نیکوسیا (انگریزی: Nicosia؛ تلفظ: /ˌnɪkəˈsə/ NIK-ə-SEE؛ یونانی: Λευκωσία، نقل حرفیلیفکوسیا [lefkoˈsi.a]؛ ترکی: Lefkoşa، تلفظ: [lefˈkoʃa] لیفکوشا) قبرص کا سب سے بڑا شہر اور میساوریا میدانی علاقہ کے تقریباً وسط میں دریائے پیدیوس کے کنارے پر واقع حکومت قبرص کا دار الحکومت ہے۔ یہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں انتہائی جنوب مشرقی دار الحکومت ہے۔ یہ شہر 4،500 برسوں سے مسلسل آباد ہے اور دسویں صدی سے قبرص کا دار الحکومت چلا آرہا ہے۔ قبرص بحران 1955–64ء کے بعد سے ترک قبرصی اور یونانی قبرصی شہر کی تقسیم کے بعد شہر کے شمالی اور جنوبی الگ الگ حصوں میں آباد ہیں۔ 1974ء میں ترکی کے قبرص کے حملے کے بعد شہر کے درمیان میں ایک عسکری خط اخضر قائم ہے جو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہے۔ اس تقسیم کے بعد نیکوسیا کا جنوبی حصہ جمہوریہ قبرص کا دار الحکومت اور شمالی قبرص ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا دار الحکومت ہے۔

نیکوسیا
Nicosia

Λευκωσία (یونانی)
Lefkoşa  (ترکی)
شہر
اوپری بائیں سے: نکوسیا شہر کی اسکائی لائن، لیڈرا سٹریٹ رات کے وقت، نیکوسیا کے گھروں کے صحن، نکوسیا کی وینسی دیواریں، پرانے شہر میں ایک نیکوسین دروازہ، بیوک خان، قدیم شہر، وینسی مکانات، نکوسیا کرسمس میلہ، میکاریوس ایونیو رات میں
اوپری بائیں سے: نکوسیا شہر کی اسکائی لائن، لیڈرا سٹریٹ رات کے وقت، نیکوسیا کے گھروں کے صحن، نکوسیا کی وینسی دیواریں، پرانے شہر میں ایک نیکوسین دروازہ، بیوک خان، قدیم شہر، وینسی مکانات، نکوسیا کرسمس میلہ، میکاریوس ایونیو رات میں
نیکوسیا Nicosia
پرچم
نیکوسیا Nicosia
مہر
نیکوسیا Nicosia
قومی نشان
نیکوسیا Nicosia is located in قبرص
نیکوسیا Nicosia
نیکوسیا
Nicosia
نیکوسیا Nicosia is located in یورپی اتحاد
نیکوسیا Nicosia
نیکوسیا
Nicosia
نیکوسیا Nicosia is located in ایشیا
نیکوسیا Nicosia
نیکوسیا
Nicosia
متناسقات: 35°10′N 033°22′E / 35.167°N 33.367°E / 35.167; 33.367متناسقات: 35°10′N 033°22′E / 35.167°N 33.367°E / 35.167; 33.367
دعوی
زیر انتظام  
  • جنوب
  • شمال
  • Flag of قبرص جمہوریہ قبرص
  • Flag of ترک جمہوریہ شمالی قبرص ترک جمہوریہ شمالی قبرص
ضلع ضلع نیکوسیا
حکومت
 • جنوبی نکوسیا بلدیہ کا میئر کونستنتینوس یورکادجیس (آزاد)
 • شمالی نکوسیا بلدیہ کا میئر محمد حرمانجی (ٹی ڈی پی)
بلندی 220 میل (720 فٹ)
آبادی (2011)[1][2]
 • شہر
  • جنوب: 55,014
  • شامل: 61,378
 • میٹرو
  • جنوب: 239,277
  • شمال: 82,539
  جنوبی میٹرو میں نیکوسیا کے بلدیاتی اداروں میں آئیوس دومیتیوس، انگومی، ستوولوس، اگلاندجیا، لاکاٹامیا، انتھوپولس، لاتسیا اور گیری، قبرص شامل ہیں جبکہ شمال میں شمالی نیکوسیا، گونیئلی، گیرولاکوس اور کانلی شامل ہیں۔
نام آبادی نیکوسین
منطقۂ وقت مشرقی یورپی وقت (UTC+2)
 • گرما (گرمائی وقت) مشرقی یورپی گرما وقت (UTC+3)
ڈاک رمز 1010–1107
ٹیلی فون کوڈ +357 22
آیزو 3166 رمز CY-01
ویب سائٹ بلدیہ نیکوسیا

قانون سازی اور انتظامی افعال کے علاوہ نیکوسیا نے خود کو جزیرے کے اقتصادی دار الحکومت اور اہم بین الاقوامی کاروباری مرکز کے طور پر بھی منوایا ہے۔[3]2018ء میں نیکوسیا دنیا کے تقابل میں قوت خرید میں بتیسواں امیر ترین شہر تھا۔ [4]دیوار برلن کے خاتمے کے بعد نیکوسیا دنیا کا واحد منقسم دار الحکومت ہے۔ [5]

تاریخترميم

قدیم دورترميم

نیکوسیا برنجی دور سے 2500 سال قبل مسیح سے مسلسل آباد رہا ہے۔ پہلی مرتبہ میساوریا کے زرخیز میدان میں لوگ آباد ہوئے۔ [6] بعد میں نیکوسیا ایک شہر ریاست بنا جسے لیڈرا کہا جاتا تھا۔ لیڈرا ان بارہ ریاستوں میں سے ایک تھا جنہیں آخیئی قبائل نے ٹرائے کی جنگ کے بعد قبرص میں قائم کیا۔ لیڈرا کے آثار شہر کے جنوب مشرق میں کوہ آئیا پاراسکیوی کے قریب پائے جاتے ہیں۔ لیڈرا کے صرف ایک بادشاہ اوناساگوراس کو ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔ مملکت لیڈرا قبرص پر اشوری حکومت کے دوران میں تباہ ہو گئی۔ اوناساگوراس کو اشوریہ کے آسرحدون کو 672 قبل مسیح میں خراج تحسین پیش کرتے بیان کیا گیا ہے۔ 330 ق م میں لیڈرا کو ایک غیر اہم قصبہ شمار کیا گیا ہے۔ [7] روایات کے مطابق شہر کی تعمیر نو "لیکوس" (Leucus) نے کی جسے بطلیموس اول سوتیر کا بیٹا تصور کیا جاتا ہے، اور تقریباً 300 ق م یا 200 ق م اس کا نام اپنے نام کی مناسبت سے لیکوتون (Leucoton) یا لیفکوتیون (Lefkotheon) رکھا۔ [8][9][10] اس دور میں قصبے کا ذریعہ روزگار کھیتی باڑی تھا۔ اس زمانے کے دوران میں لیڈرا نے دوسرے قبرصی ساحلی شہروں کے مقابلے میں کوئی خاص ترقی نہیں کی جن کی معیشت بنیادی طور پر تجارت پر مبنی تھی۔ [11]

رومی اور بازنطینی دورترميم

 
اسحاق کومنینوس کے دور کے سکے

بازنطینی دور میں قصبہ کو لیفکوسیا (Λευκωσία) یا کالینیکیسیس (Καλληνίκησις) کہا جاتا تھا۔ چوتھی صدی میں شہر "سینٹ تریفلیوس" کی وجہ نشست اسقف بنا۔ [12]647ء میں عرب حملوں کی وجہ سے سلامیس کی تباہی کے بعد تقریباً 965ء میں نیکوسیا قبرص کا دار الحکومت بنا جب قبرص دوبارہ بازنطینی سلطنت سے مل گیا۔ بازنطینیوں نے جزیرے کی انتظامیہ کو نیکوسیا منتقل کر دیا کیونکہ ساحلی شہروں پر اکثر حملے ہوتے رہتے تھے۔ تب سے نیکوسیا قبرص کا دار الحکومت ہے۔ نیکوسیا جو کہ بازنطینی گورنر کی نشست تھی اسے شہر کی فصیل سے محفوظ کیا گیا اور ایک قلعہ بھی تعمیر کیا گیا۔ آخری بازنطینی گورنر اسحاق کومنینوس تھا جس نے شہنشاہ ہونے کا اعلان کیا اور اس کے بعد قبرص پر 1183ء سے 1191ء تک حکومت کی۔ [13]

قرون وسطیترميم

1187ء میں تیسری صلیبی جنگ کے دوران میں ارض مقدسہ جاتے ہوئے رچرڈ اول شاہ انگلستان کا بحری بیڑا شدید بحری طوفان سے متاثر ہوا۔ اسے پہلے کریٹ اور پھر رودوش میں رکنا پڑا۔ تاہم بیڑے میں شامل تینوں بحری جہاز سفر کرتے رہے جن میں سے ایک جہاز پر جون انگلستانی، ملکہ صقلیہ اور بیرنگیریا ناواری رچرڈ کی ہونے والی بیوی سوار تھیں۔ دو جہاز قبرص کے ساحل کے قریب تباہ ہو گئے تاہم جس جہاز پر جون انگلستانی، ملکہ صقلیہ اور بیرنگیریا ناواری سوار تھیں وہ بحفاظت لیماسول پہنچ گیا۔ جون نے بحری جہاز سے اترنے سے انکار کر دیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اسحاق کومنینوس جو فرنگیوں کو پسند نہیں کرتا انہیں یرغمال بنا لے گا۔ جہاز ایک ہفتہ تک ساحل پر لنگر انداز رہا یہاں تک کہ 8 مئی کو رچرڈ اول شاہ انگلستان بھی وہاں پہنچ گیا۔ اپنی بہن اور مستقبل کی دلہن کے ساتھ ناروا سلوک کی وجہ سے رچرڈ نے غم و غصہ میں قبرص پر حملہ کر دیا۔

رچرڈ نے نیکوسیا کا محاصرہ کیا اور آخر کا تریمیتوسیا کے مقام پر اس کا اور اسحاق کومنینوس کا آمنا سامنا ہوا اسے اسے شکست دینے کے بعد رچرڈ جزیرے کا بھی حکمران بنا تاہم اس نے اسے فرسان الہیکل کو فروخت کر دیا۔

قبرص میں فرنگیوں کا دور 1192ء سے شروع ہوا جو کہ 1489ء تک رہا۔ اس دوران میں نیکوسیا قرون وسطی کی مملکت قبرص کا دار الحکومت رہا۔ اور اس دوران یہ شاہ کی نشست، لاطینی چرچ اور فرنگی انتظامیہ کا مرکز بھی رہا۔ فرنگی دور میں شہر کی دیواریں اور بہت سی دیگر عمارتیں بھی تعمیر کی گئیں جس میں سینٹ سوفیا کیتھیڈرل بھی شامل ہے۔ یہاں لوزینیان شاہوں کے مقبرے بھی موجود ہیں۔ نیکوسیا جو کہ غیر مقامی نام ہے لوزینیان کا ہی دیا ہوا ہے۔ فرانسیسی زبان بولنے والے صلیبی جنگی یا تو "لیفکوسیا" بول نہیں پاتے تھے یا انہیں تلفظ کی پروا نہیں تھی اور انہوں نے اسے نیکوسی (Nicosie) کہنا شروع کر دیا جو بعد میں بین القوامی طور پر نیکوسیا کے نام سے رائج ہو گیا۔

1374ء میں نیکوسیا پر جمہوریہ جینوا اور 1426ء سے یہ سلطنت مملوک کے زیر نگیں آ گیا۔ 1489ء میں جزیرے پر جمہوریہ وینس کا قبضہ ہو گیا اور نکوسیا انتظامی مرکز اور حکومتی نشست بنا۔ وینس گورنر نے عثمانی خطرے کی وجہ سے قبرص کے تمام شہروں کی قلعہ بندی کو ضروری سمجھا۔ [14]1567ء میں وینسیوں نے فرنگیوں کی تعمیر کردہ دیواروں کو منہدم کر کے نکوسیا کی وینسی دیواروں کی تعمیر کی جو کہ آج بھی اکثر مقامات پر اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ فرنگیوں کے دور کی دیگر عمارتوں اور شاہی محل کی حفاظت کا بھی بندوبست کیا۔ آرتھوڈوکس اور لاطینی کلیسیا کے گرجا گھر تعمیر کیے۔ [15]

نکوسیا کی وینسی دیواریں گیارہ کونے کے ستارے کی شکل کی تھیں۔ اس کا ڈیزائن دفاع کے لئے بہتر کنٹرول اور توپ خانے کے استعمال کے لئے زیادہ مناسب تھا۔ دیواروں میں تین دروازے تھے۔ شمال میں دروازہ کیرینیہ، مغرب میں دروازہ پافوس اور مشرق میں دروازہ فاماگوستا واقع تھا۔ [15] دریائے پیدیوس شہر کی دیواروں کے اندر سے بہتا تھا۔ 1567ء میں دفاعی حکمت عملی کے سبب دریا کا راستہ تبدیل کر کے شہر کے باہر سے گزارا گیا۔ [16]

عثمانی دورترميم

 
سلطان محمود دوم کتب خانہ
 
پیری رئیس کا بنایا ہوا قبرص کا نقشہ

1 جولائی، 1570ء کو عثمانیوں نے قبرص پر حملہ کر دیا۔ 22 جولائی کو پیالے پاشا نے پافوس، لیماسول اور لارناکا فتح کرنے کے بعد نکوسیا کی طرف پیش قدمی کی اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ [17] شہر نے چالیس دن تک مقابلہ کیا اور آخر کا 9 ستمبر، 1570ء کو شہر فتح ہو گیا۔ محاصرہ کے دوران میں 20،000 افراد ہلاک ہوئے اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ کئی گرجا گھروں کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

عثمانی دور میں نیکوسیا پاشا، یونانی صدر اسقف اور عثمانی قاضی کی نشست بنا۔ وینسی گورنر کا محل پاشا کے زیر استعمال آیا جس کا نام تبدیل کر کے سرائے (محل) رکھا گیا۔ سرائے کے سامنے کی جگہ کا نام اسی مناسبت سے آج بھی "سیراگلیو چوک" ہے۔ 1904ء میں یہ عمارت مسمار کر دی گئی۔ موجودہ حکومتی عمارتیں اسی مقام پر تعمیر کی گئی ہیں۔ [18]

عثمانی دور میں نئے آباد ہونے والوں ترکوں نے دریا کے شمال کو اپنا مسکن بنایا، جنکہ یونانی دریا کے جنوب میں جہاں لاٹ پادری کا تعلقہ اور راسخ الاعتقاد گرجا گھر بھی واقع تھا مرکوز ہوئے۔ دیگر اقلیتی گروہ جیسے آرمینی اور لاطینی شہر کی مغربی حصے میں دروازہ پافوس کے قریب آباد ہوئے۔ [19]

عثمانی دور میں نیکوسیا کے بارہ محلے جو کہ شہر کی انتظامی تقسیم تھے اس وقت عثمانی جرنیلوں کے نام پر تھے۔ یہ جرنیل ان محلوں کے حاکم تھے تاہم دو محلوں کے نام اس اصول سے مبرا تھے۔

  1. جنرل ابراہیم پاشا
  2. جنرل محمود پاشا
  3. جنرل آق کاوک پاشا (سفید عمامہ)
  4. جنرل کوکود آفندی
  5. جنرل عرب احمد پاشا
  6. جنرل عبدی پاشا
  7. جنرل حیدر پاشا
  8. جنرل کرمان زادہ
  9. جنرل یحیی پاشا
  10. جنرل دانیال پاشا
  11. توپ خانہ
  12. نیبت خانہ (پولیس اسٹیشن) [18]

نیکوسیا آبراہترميم

دریائے پیدیوس پہلے شہر کی اندر سے بہتا تھا تاہم بعد میں عسکری حکمت عملی کی بنا پر اسے شہر کے باہر سے گزارا گیا جس کی وجہ سے شہر میں پانی کی قلت ہو گئی۔ عثمانی دور میں ایک آبراہ بنائی گئی جو شہر کو پانی فراہم کرتی تھی۔ نیکوسیا آبراہ قبرص کے دار الحکومت نیکوسیا میں واقع قبرص کی قدیم ترین آبراہ ہے۔ یہ الفتھیریا چوک کے قریب واقع ہے۔ یہ شہر کے شمال میں پہاڑوں سے پانی شہر تک پہنچاتی تھی۔ یہ شمال میں دروازہ کیرینیہ سے مشرق میں دروازہ فاماگوستا تک جاتی ہے۔

برطانوی دورترميم

 
نیکوسیا میں برطانوی پرچم بلند کیا جا رہا ہے
سالآبادی.±%
1881 11,536—    
189112,515+8.5%
190114,481+15.7%
191116,052+10.8%
192111,831−26.3%
193123,324+97.1%
194634,485+47.9%
196045,629+32.3%
ماخذ برائے 1881–1960.[20]

[21]

5 جولائی، 1878ء کو نیکوسیا سلطنت برطانیہ کی حکمرانی کے تحت آیا۔ [22]1904ء قدیم عثمانی انتظامی مرکز (سرائے) کو مسمار کر کے اس کی جگہ نئی حکومتی عمارات تعمیر کی گئیں جن میں عدالت، زمین کی رجسٹری، جنگلات، کسٹم اور نیکوسیا کمشنر کا دفتر بنایا گیا۔ [18] نیکوسیا پولیس ہیڈ کوارٹر اس سے ملحقہ تھا جبکہ اس کے سامنے جنرل پوسٹ آفس اور ٹیلی گراف آفس تھے۔ [23] ایک وینیسی ستون جو کہ سرائے کے قریب موجود تھا تاہم اسے مسمار کر دیا گیا تھا، 1915ء کے موسم گرما اسے سرائے چوک کے وسط میں بحال کر دیا گیا ہے۔ غالباً یہ ستون ڈوگ فرانسسکو ڈوناٹی کے اعزاز میں 1550ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ [18]

برطانوی قبضے کے بعد 1882ء میں نیکوسیا میں شہر کی دیواروں کے اندر اور کچھ علاقے دیواروں کے باہر کے عام معاملات کی انتظام کے لئے میئر کی صدارت کے تحت میونسپل کونسل کا قیام عمل میں آیا۔ [24] سب سے پہلے بلدیاتی دفاتر "میونسپلٹی اسکوائر" (اب مرکزی میونسپل مارکیٹ) میں تھے،

لیکن 1944ء میں دفاتر عارضی طور پر ڈی ویلا بیسچن میں منتقل کر دیئے گئے اور 1952ء میں اس عمارت کو تجدید کرنے کے فیصلے سے اسے مستقل بنا دیا گیا۔ [25]

 
نیکوسیا بلدیاتی علاقے میں توسیع
 
نیکوسیا 1914ء میں

1923ء میں بلدیاتی حدود میں مزید توسیع کی گئی اور نئے علاقوں کی داخلی محلوں میں تقسیم کی گئی۔ [26]1938ء میں حدود میں مغرب کی سمت دوبارہ توسیع کی گئی اور یہ موجودہ سرحد جو کہ آئیی اومولویتیس، پالوریوتیسا، کایماکلی و اوموفیتا تک پہنچ گئی تھی۔ [27] آزادی کے کچھ عرصہ بعد پالوریوتیسا، کایماکلی و اوموفیتا 1968ء شہر میں شامل کر دیے گئے۔ [28]

1955ء میں سلطنت برطانیہ کے خلاف ایک مسلح جدوجہد اور جزیرے کو یونان کے ساتھ متحد کرنے کی تحریک شروع ہوئی۔ اس تحریک کی قیادت ایوکا جو کہ ایک یونانی قبرصی قوم پرست فوجی مزاحمت تنظیم کر رہی تھی [29][30] جسے کثیر تعداد میں یونانی قبرصیوں کی حمایت حاصل تھی۔ یونان کے ساتھ اتحاد کی تحریک نا کام ہو گئی اور اس کی بجائے 1960ء قبرص کی آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس جدوجہد دوران میں خاص طور پر نیکوسیا میں برطانوی حکومت کے خلاف پرتشدد کارروائیاں ہوئیں جس میں لیڈرا اسٹریٹ کو "میل قتل" کا نام دیا گیا تھا۔

آزادی اور تقسیمترميم

 
2008ء میں لیڈرا اسٹریٹ کو سرحدی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولا گیا

1960ء میں نیکوسیا جمہوریہ قبرص کا دار الحکومت بنا جسے یونانی اور ترک کی قبرصیوں کی مشترکہ حمایت حاصل تھی۔ 1963ء میں یونانی قبرصیوں نے آئین میں ترمیم کی تجویز پیش کی جسے ترک قبرصی برادری نے مسترد کر دیا۔ [31] اس بحران کے دوران میں اور بعد 21 دسمبر 1963ء کو یونانی اور ترک قبرصیوں کے درمیان میں فرقہ ورانہ فسادات شروع ہو گئے۔ نیکوسیا خط اخضر جو کہ شہر کے نقشے پر اقوام متحدہ کے افسر کے قلم کے رنگ کو ظاہر کرتا ہے، سے شہر یونانی اور ترکی نیکوسیا میں تقسیم ہو گیا۔ [32] اس کے نتیجے میں ترکی حکومت سے علاحدہ ہو گئے اور 1964ء پر تشدد فسادات میں مزید تیزی آگئی۔ ترکی فبرصیوں کی ایک بڑی تعداد شمالی نیکوسیا میں منتقل ہو گئی جس سے آبادی کے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ [33]

15 جولائی 1974ء کو ایک فوجی تاخت بھی ہوئی جسے یونانی فوج کی سرپرستی حاصل تھی جس کا مقصد جزیرے کا یونان کے ساتھ الحاق تھا۔ اس کے نتیجے میں صدر مکاریوس سوم کو ہٹا کر قوم پرست نکوس سامپسون کو صدر بنا دیا گیا۔ [34]

20 جولائی 1974ء کی مسلح بغاوت کے نتیجے میں ترکی فوج نے جزیرے پر حملہ کر دیا۔ [35]

یہ آپریشن میں دو مراحل میں ہوا۔ ترک حملے کا دوسرا مرحلہ 14 اگست 1974ء کو انجام پایا جس میں ترک فوج نے جزیرہ قبرص کے 37 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا جس میں شمالی نیکوسیا بھی شامل تھا۔ لڑائی کے نتیجے میں دونوں اطراف میں پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک بڑے پیمانے پر سامنے آیا۔ [36]

13 فروری 1975ء کو ترک قبرصی برادری نے ترک فوج کے قبضہ شدہ علاقے پر ترک وفاقی ریاست قبرص کا اعلان کر دیا۔ ۔[37]15 نومبر 1983ء کو ترک قبرصیوں نے آزادی کے اعلان کے ساتھ ترک جمہوریہ شمالی قبرص قائم کیا۔

23 اپریل 2003ء کو لیڈرا پیلس خط اخضر میں سے چودہ سال میں پہلی گزرگاہ کھولی گئی۔ [38] اس کے بعد 9 مئی 2003ء کو آئیوس دومیتیوس کے مقام پر دوسری گزرگاہ کھولی گئی۔ [39]3 اپریل 2008ء کو لیڈرا اسٹریٹ کی گزرگاہ دوبارہ کھولی گئی۔ [40]

30 اکتوبر 2016ء کے بعد نیکوسیا دنیا کے واحد دار الحکومت بنا جہاں دو منطقۂ وقت استعمال ہوتے ہیں۔ ایسا ترک جمہوریہ شمالی قبرص کی پالیمان کے اس فیصلے سے ہوا جس میں انہوں نے تمام سال متناسق عالمی وقت +03:00 کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جیسا کہ ترکی میں ہو رہا ہے۔ [41][42] تاہم شمال قبرصی عوام کے احتجاج کے بعد اسے دوبارہ یورپی معیاری وقت کے مطابق کر دیا گیا۔

جغرافیہترميم

 
قبرص کی مقام نگاری

قبرص بحیرہ روم کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ یہ اطالوی جزائر صقلیہ اور ساردینیا کے بعد بحیرہ روم کا تیسرا اور دنیا کا اسی واں بڑا جزیرہ ہے۔ یہایشیا (یا یوریشیا) کے خطے ایشیائے کوچک کے جنوب میں ترکی کے جزیرہ نما اناطولیہ کے قریب واقع ہے۔ اس لیے اسے مغربی ایشیا، مشرق وسطی میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ قبرص جنوبی یورپ اور شمالی افریقا کے بھی قریب ہے۔ یہ طویل عرصے تک یونان، سرزمین شام، بازنطینی، ترکی اور مغربی یورپ کے زیر اثر رہا ہے۔

جزیرے پر دو سلاسل کوہ سلسلہ کوہ ٹروڈوس اور سلسلہ کوہ کیرینیہ موجود ہیں جبکہ ان کے درمیاں میدانی علاقہ میساوریا موجود ہے۔ یہ دونوں سلاسل کوہ ترکی سلسلہ کوہ طوروس کے متوازی ہیں۔

جغرافیائی سیاسیاتترميم

 
جغرافیائی سیاسیات

جغرافیائی سیاسیات کے مطابق جزیرہ چار اکائیوں میں منقسم ہے۔ جمہوریہ قبرص جزیرے کی واحد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت ، اور یورپی یونین کی رکن ریاست جو کہ جزیرے کے جنوبی 60٪ رقبے پر موجود ہے۔ ترک جمہوریہ شمالی قبرص سفارتی طور پر صرف ترکی سے تسلیم شدہ جزیرے کے شمالی ایک تہائی حصے جو کہ کل رقبے کا تقریباً 36% ہے۔

اقوام متحدہ کا بفر زون جو کہ کل رقبے کا 4% ہے۔ اس کے علاوہ دو چھوٹے علاقے ایکروتیری و دیکیلیا جہاں برطانوی فوجی چھاونیاں موجود ہیں 254 مربع کلومیٹر جو کہ جزیرے کا 2.8% ہے۔

آب و ہواترميم

کوپن موسمی زمرہ بندی کے مطابق نیکوسیا کی آب و ہوا اس کی کم سالانہ بارش اور درجہ حرارت کی حد کی وجہ سے گرم اور نیم خشک ہے۔ [43] موسم گرما طویل، گرم اور خشک ہوتا ہے جبکہ موسم سرما سرد سے متوسط رہتا ہے۔ زیادہ تر بارشیں موسم سرما میں ہوتی ہیں۔ موسم سرما کی بارش کے ساتھ کبھی کبھار اولے بھی پڑتے ہیں لیکن برف باری شاذ و ناظر ہی ہوتی ہے۔ نیکوسیا میں برف باری 1950،1974 اور 1997ء میں ہوئی تھی۔ سردیوں کی راتوں میں کبھی کبھار ہلکی کہر] بھی ہوتی ہے۔ 2 جولائی 2017ء کو نیکوسیا کے لیفکوپا موسمی اسٹیشن میں درجہ حرارت 44.7° سینٹی گریڈ رہا تھا۔ [44]

آب ہوا معلومات برائے نیکوسیا (مصنوعی سیارہ نظارہ)
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسط بلند °س (°ف) 15.5
(59.9)
15.9
(60.6)
19.2
(66.6)
24.0
(75.2)
29.7
(85.5)
34.3
(93.7)
37.2
(99)
36.9
(98.4)
33.5
(92.3)
29.0
(84.2)
22.1
(71.8)
17.0
(62.6)
26.2
(79.2)
یومیہ اوسط °س (°ف) 10.6
(51.1)
10.6
(51.1)
13.1
(55.6)
17.1
(62.8)
22.3
(72.1)
26.9
(80.4)
29.7
(85.5)
29.4
(84.9)
26.2
(79.2)
22.3
(72.1)
16.3
(61.3)
12.0
(53.6)
19.7
(67.5)
اوسط کم °س (°ف) 5.7
(42.3)
5.2
(41.4)
7.0
(44.6)
10.2
(50.4)
14.8
(58.6)
19.4
(66.9)
22.2
(72)
21.9
(71.4)
18.8
(65.8)
15.6
(60.1)
10.4
(50.7)
7.1
(44.8)
13.2
(55.8)
اوسط عمل ترسیب مم (انچ) 54.7
(2.154)
41.6
(1.638)
28.3
(1.114)
19.9
(0.783)
23.5
(0.925)
17.6
(0.693)
5.80
(0.2283)
1.30
(0.0512)
11.7
(0.461)
17.4
(0.685)
54.6
(2.15)
65.8
(2.591)
342.2
(13.472)
اوسط عمل ترسیب ایام (≥ 1 mm) 7.3 6.5 5.4 3.5 2.7 1.3 0.5 0.1 0.6 2.8 4.7 7.7 43.1
ماہانہ اوسط دھوپ ساعات 182.9 200.1 238.7 267.0 331.7 369.0 387.5 365.8 312.0 275.9 213.0 170.5 3,314.1
ماخذ: موسمیاتی خدمات (قبرص)[45]

سیاست اور انتظامیہترميم

ضلع نیکوسیاترميم

 
ضلع نیکوسیا سرخ رنگ میں

ضلع نیکوسیا قبرص کے چھ اضلاع میں سے ایک ہے۔ اس کا مرکزی شہر جزیرے کا دارالحکومت نیکوسیا ہے۔

ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے زیر انتظام اس کو ضلع لیفکوشا کہا جاتا ہے۔ یہ دو ذیلی اضلاع میں منقسم ہے۔[46][47] ضلع گوزلیارت کو ضلع لیفکوشا سے علاحدہ کر کے بنایا گیا ہے۔

بلدیاتترميم

 
انونو چوک مورفو
 
انگومی میں ایک گرجا گھر

ضلع نیکوسیا بارہ بلدیات پر مشتمل ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

گاؤں اور آبادیاںترميم

میٹروپولیٹن علاقے کی حکومتترميم

 
ستروولوس میں صدارتی محل
 
نیکوسیا عظمی

نیکوسیا عظمی کے زیر انتظامی کئی بلدیات ہیں۔ شہر کے مرکز میں نیکوسیا خود بلدیہ ہے۔ دیگر بلدیات میں ستروولوس، لاکاتامیا، لاتسیا، اگلاندجیا، انگومی، آئیوس دومیتیوس 2011ء میں نئی بننے والی گیری اور تسیری شامل ہیں۔

میٹروپولیٹن علاقے کی آبادی 300،000 (2011ء کی مردم شماری، جمع 2006ء کی ترک قبرصی زیر انتظام مردم شماری) ہے جن میں سے 100،000 نیکوسیا بلدیاتی علاقے میں رہتے ہیں۔ کیونکہ بلدیہ نیکوسیا کی علیحدہ بلدیاتی انتظامیہ ہے اس وجہ سے ستروولوس آبادی کے لحاظ سے (67،904 (2011ء کی مردم شماری) نیکوسیا عظمی کی سب سے بڑی بلدیہ ہے۔

بلدیہ نیکوسیا میں زیادہ تر آبادی ملحقہ علاقوں میں رہتی ہے جن میں کایماکلی، پالوریوتیسا، اوموفیتا اور آئیوی اومولویتیس شامل ہیں۔

نیکوسیا عظمیٰ کے کار مفوضہ کے لیے کوئی باقائدہ اتھارٹی نہیں ہے میٹروپولیٹن علاقے کی ذمہ داریاں اور افعال نیکوسیا ضلعی انتظامیہ، مثلاً نیکوسیا واٹر بورڈ اور کسی حد تک بلدیہ نیکوسیا سر انجام دیتی ہے۔ نیکوسیا واٹر بورڈ پر اکثرتی کنٹرول نیکوسیا عظمیٰ کی بلدیات کا ہے جو کہ ایک اہم علاقائی حکومت خدمت فراہم کرتا ہے۔ [48] نیکوسیا واٹر بورڈ مندرجہ ذیل بلدیات کو پانی فراہم کرتا ہے:

 
نیکوسیا تاریخی میونسپل باغات
  • نیکوسیا
  • ستوولوس
  • اگلاندجیا
  • انگومی
  • آئیوس دومیتیوس
  • لاتسیا
  • گیری
  • تسیری

نیکوسیا سیوریج بورڈ بھی اکثرتی کنٹرول نیکوسیا عظمی کی بلدیات کا ہے۔ اس کا سربراہ نیکوسیا عظمی کی بلدیات نیکوسیا (6 ارکان)، ستوولوس (5 ارکان)، اگلاندجیا (2 ارکان)، لاکاتامیا (2 ارکان)، آئیوس دومیتیوس (2 ارکان)، انگومی (2 ارکان)، لاتسیا (1 رکن) کے ارکان منتخب کرتے ہیں۔ نکاسی کے نظام کی صفائی کا پلانٹ میا میلیا میں واقع ہے۔ نکوسیا سیوریج سسٹم تقریباً 20 مربع کلومیٹر (8 مربع میل) کے علاقے میں 140،000 کی آبادی کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ تقریباً 30 فیصد نکاسی کا انتظام ترک قبرصی حصہ کرتا ہے۔ [49]

عوامی نقل و حمل مقامی مقتدرہ کے زیر انتطام نہیں بلکہ یہ نیکوسیا ضلعی انتظامیہ کے تحت آتی ہے جو کہ وزارت داخلہ کا ایک حصہ ہے۔ نقل و حمل کی خدمات (بنیادی طور پر بس اور ٹیکسی) ضلع نیکوسیا (او ایس ای ایل) یا نجی کمپنیاں فراہم کرتی ہیں۔ [50]

بلدیہ نیکوسیاترميم

بلدیہ نکوسیا جنوبی نیکوسیا میں بلدیاتی حکومت ہے جو تمام بلدیاتی فرائض کی ذمہ دار ہے۔ بلدیہ نکوسیا کا قیام برطانوی دور کے دوران میں عمل میں آیا۔ 1882ء کے بلدیاتی آرڈیننس کے مطابق میونسپل کونسل کو منتخب کیا جاتا تھا۔ 1884ء نومبر کے بعد سے ضلع کمشنر ایک یونانی اور ایک ترک مشیر کے ساتھ بلدیاتی معاملات کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ 1930ء نئی بلدیاتی قانون سازی کی گئی جس میں بلدیات حکومتی آڈٹ مستوجب قرار دی گئیں۔ تاہم 1931ء کی بغاوت کے بعد میونسپل کونسلز میں حکومت تقرریاں کرنا شروع کر دیں۔ 1943ء میں بلدیاتی انتخابات دوبارہ متعارف کرائے گئے۔ 1958ء تک ٹاؤن کلرک یونانی اور ترکی ملازمین کی ایک ٹیم کے ساتھ پورے شہر کا با اختیار افسر تھا۔ 1974ء میں ملک اور شہر کی تقسیم کے بعد جنوبی حصے میں "بلدیہ نکوسیا" بدستور کام کرتی رہی جبکہ شمالی حصے میں نیکوسیا ترکی بلدیہ قائم ہوئی

نیکوسیا ترکی بلدیہترميم

 
نیکوسیا ترکی بلدیہ

نیکوسیا ترکی بلدیہ شمالی نیکوسیا کی جلس انتظامیہ ہے۔ اس کا قیام 1958ء میں جمہوریہ قبرص کے آئین کے تحت عمل میں آیا۔[51]1974ء میں ملک کی تقسیم کے بعد یہ شمالی نیکوسیا کی بلدیہ بن گئی۔

نیکوسیا عظمی میں دیگر بلدیاتترميم

1986ء تک نیکوسیا کی کوئی مضافاتی بلدیہ نہیں تھی۔ تاہم میونسپل قانون 111/1985 کے مطابق ستوولوس، انگومی، آئیوس دومیتیوس، اگلاندجیا، لاتسیا و لاکاتامیا نئی بلدیات وجود میں آئیں۔ ہر میونسپل کونسل میں میونسپل قانون 111/1985 کے مطابق آبادی کے لحاظ سے میونسپل ارکان موجود ہوتے ہیں۔ کونسل کے تمام ارکان کو 5 سال کی مدت کے لئے براہ راست بلدیہ کے لوگ منتخب کرتے ہیں۔

انتظامی تقسیم اور آبادیاتترميم

تازہ ترین مردم شماری کے مطابق شہر کی حدود میں نیکوسیا کو 29 انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اس اکائی کو انگریزی میں کوارٹر، یونانی میں "اینوریا" (پیرش) یا ترکی میں محلہ کہا جاتا ہے۔ یہ اکائیاں مندرجہ ذیل ہیں:

1986ء میں بلدیہ ستوولوس کا قیام عمل میں آیا جو کہ آبادی کے لحاظ سے قبرص کی دوسری بڑی میونسپل اتھارٹی ہے۔[54]لاکاتامیا، لاتسیا، گیری، قبرص اور اگلاندجیا نیکوسیا میٹروپولیٹن علاقے میں دیگر علیحدہ بلدیات ہیں۔ گونیئلی قصبہ ایک شہر کا ایک شمالی مضافاتی علاقہ ہے۔ پہلے یہ ایک گاؤں اتھارٹی تھا لیکن اب یہ اسی علاقے میں [55] ایک بلدیہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ [56] شہر کے فوری شمالی مضافاتی علاقوں کو بلدیاتی اداروں میں تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔ گاؤں اتھارٹی حامدکوئے نے بہت زیادہ ترقی کی [57] اور اسے بطور ایک محلہ نیکوسیا ترکی بلدیہ کی حدود میں شامل کر لیا گیا [58] جس کا سربراہ مختار ہوتا ہے۔ [59] اسی طرح اورتاکوئے گاؤں اتھارٹی کو بھی محلہ قرار دے کر نیکوسیا ترکی بلدیہ کی حدود میں شامل کر دیا گیا ہے۔ [60]

مذہبترميم




 

کل جزیرہ قبرص میں مذہب (بشمول ترک جمہوریہ شمالی قبرص)، 2010ء[61]

  مسیحیت (73.2%)
  اسلام (25.3%)
  دیگر (1.5%)

مسیحی قبرصی آبادی کا 73 فی صد ہیں جن میں سے اکژیت یونانی راسخ الاعتقاد کلیسیا سے تعلق رکھتی ہے۔ دیگر مسیحی فرقوں میں پروٹسٹنٹ (بشمول انگلیکانیتکاتھولک، مارونی اور آرمینیائی رسولی شامل ہیں۔ زیادہ تر ترک سنی مسلمان ہیں۔ اس کے علاوہ ایک قلیل تعدا میں یہودی اور بہائی بھی موجود ہیں۔

مسیحیتترميم

قبرص میں مسیحیت جزیرے کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اکژیت یونانی راسخ الاعتقاد کلیسیا سے تعلق رکھتی ہے۔ دیگر مسیحی فرقوں میں پروٹسٹنٹ (بشمول انگلیکانیتکاتھولک، مارونی اور آرمینیائی رسولی شامل ہیں۔

اسلامترميم

 
عرب لار مسجد

قبرص میں اسلام کی آمد کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ مسلمان مجاہدین قبرص میں خلیفۂ راشد جناب عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی کے دور خلافت میں یہاں پہنچے۔ یہ زمانہ 649ء کا تھا۔ اور فی زمانہ 1974 تک ترکی قبرص کے جزیرہ نما علاقے میں ترک نژاد مسلمان 18 فیصد تک پہنچ چکے ہيں۔ جو 2 لاکھ 64 ہزار 1 سو بہتر کی تعداد میں جنوبی قبرص میں آباد ہيں۔ ترک نژاد قبرصی اصل میں سنی العقیدہ اور تصوف مائل رجحان رکھتے ہيں۔ ان کے رہنما نظام القبرصی ہیں جو نقشبندی حقانی سلسلے سے تعلق رکھتے ہيں اور لیفکامیں رہائش پزیر ہيں۔ اسلام اپنے ابتدائی دنوں میں ہی اس خطے تک پہنچ چکا تھا۔ مسلمانوں نے خلافت راشدہ کے دور میں یونانی جزيرہ کریٹ پر جہاد کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بزرگہ اُمِّ حرام بھی اس مہم میں شامل تھیں۔

قبرص 395ء میں رومی سلطنت کی تقسیم کے بعد بازنطینی سلطنت کا حصہ بنا اور امیر معاویہ کے دور میں اسے مسلمانوں نے فتح کر لیا۔ 1571ء میں لالہ مصطفٰی کی زیر قیادت عثمانی فوج نے جزيرہ فتح کر لیا۔ قبرص 1960ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ 11 سال تک فسادات کے بعد 1964ء میں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کی گئی جس کے بعد جزیرے کے یونان کے ساتھ الحاق کیا گیا جس پر ترکی نے 1974ء میں جزیرے پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں شمالی قبرص میں ترکوں کی حکومت قائم ہو گئی جسے ترک جمہوریۂ شمالی قبرص کہا جاتا ہے تاہم اسے اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی۔ شمالی قبرص اور قبرص ایک خط کے ذریعے منقسم ہیں جسے "خط سبز" کہا جاتا ہے۔

جزیرے کی سلطنت عثمانیہ کی فتح کے بعد کثیر تعداد میں ترک مسلمان نیکوسیا میں آباد ہوئے۔ زیادہ تر مسلمان شہر کے شمالی حصے مین مرکوز ہوئے اور جنوبی حصہ مسیحوں کا گڑھ بنا۔ یوں شہر کی ایک غیر مرئی مذہبی تقسیم ہوئی۔ زیادہ تر مساجد شہر کے شہر کے شمالی حصہ میں ہی واقع ہیں۔ کچھ مساجد ایسی بھی ہیں جو کہ اصل میں گرجا گھر تھے جنہیں مسجد میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نیکوسیا کی تاریخی مساجد درج ذیل ہیں:

ثقافتترميم

 
لارا دتا، مس یونیورس 2000ء

قبرص عجائب گھر قبرص کا سب سے قدیم اور سب سے بڑا آثاریاتی عجائب گھر ہے۔ حاجیگیورگاکیس کورنیسیوس مینشن قدیم قبرص میں سینٹ انتونیوس محلہ میں واقع گھر تھا جسے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ قدیم وقتوں کے امیر یونانی رہن سہن کی عکاسی کرتا ہے۔ مینشن کو "یوروپا نوسترا" اعزاز سے نوازا گیا ہے یہاں بازنطینی، قرون وسطی اور عثمانی دور کی نادر اشیا کا مجموعی رکھا گیا ہے۔ نیکوسیا کے دیگر عجائب گھروں میں قدرتی تاریخ کا قبرصی عجائب گھر جو کہ نیکوسیا کے مضافات میں ایک قدرتی تاریخ کا عجائب گھر ہے۔ لیوینتیس میونسپل میوزیم نکوسیا قبرص کے دار الحکومت نکوسیا میں ایک اہم عجائب گھر ہے۔ وان ورلڈ پینز ہال نیکوسیا کے جنوب میں خاص طور پر اقلام اور دیگر تحریری آلات کے لیے مختص ایک عجائب گھر ہے۔ [62] شمالی نکوسیا میں حاجیگیورگاکیس کورنیسیوس مینشن کی طرح درویش پاشا مینشن جو کہ نسلی جغرافیہ سے متعلق عرب احمد، نیکوسیا میں واقع ایک عجائب گھر ہے۔ یہ عثمانی طرز تعمیر اور ترکی رہن سہن کی عکاسی کرتا ہے۔ [63] اس کے علاوہ لوزنیان ہاؤس شمالی نیکوسیا کے ینی جامعی محلہ میں ایک عجائب گھر ہے۔ [64]مولوی تکیہ عجائب گھر شمالی نیکوسیا، ترک جمہوریہ شمالی قبرص میں ایک تکیہ ہے۔ تاریخی طور پر یہ سلسلہ مولویہ کی ایک خانقاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا جبکہ موجودہ دور میں اسے ایک عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ جزیرے کی اہم ترین تاریخی اور مذہبی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ [65] یہ دروازہ کیرینیہ کر نزدیک ابراہیم پاشا محلہ میں واقع ہے۔ [66]

نکوسیا میں آرٹ گیلریوں میں لیوینتیس گیلری بھی شامل ہے [67] جس میں قبرصی، یونانی اور یورپی فنکاروں کی 800 سے زائد پینٹنگز رکھی گئی ہیں۔ نیکوسیا میں موسیقی اور تھیٹر کی بھی کئی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن کا انتظام بلدیہ نکوسیا یا آزاد تنظیمیں کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے استعمال کیے جانے والے ہال اور تھیٹر میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

  • قبرص قومی تھیٹر جو کہ دو بڑے تھیٹروں پر مشتمل ہے: [68]
  • 550 نشستوں کا شاعری تھیٹر
  • 150 نشستوں کا نیا تھیٹر
  • پلاس سنیما- تھیٹر [69]
  • تھییترو اینا [70]
  • ماسکارینی تھیٹر [71][72]
  • دیونیسوس تھیٹر [73][74]
  • میلینا میرکونی ہال [75]

نیکوسیا کی جامعات شہر کی ثقافت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اکثر جامعات میں ثقافتی سرگرمیوں کی لیے خصوصی جگہیں موجود ہیں اور موسیقی، ثقافتی اور فن سے متعلق سرگرمیوں میزبانی کرتی ہیں۔ جامعہ مشرق قریب میں اتاترک ثقافتی اور کانفرنس سینٹر میں 700 نشستوں کی گنجائش کا ایک وسیع ہال موجود ہے۔ [76]

نیکوسیا نے مقابلہ حسن "مس یونیورس 2000ء" کی میزبانی بھی کی جس کی فاتح بھارت سے تعلق رکھنے والی لارا دتا ہیں۔ [77][78]

جون 2011ء میں نیکوسیا نے "ثقافتی یورپی دارالحکومت 2017ء" بننے کی ایک مہم شروع کی تاہم اس میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ [79]

تعلیمترميم

 
جامعہ مشرق قریب
 
قبرص یونیورسٹی

شمالی اور جنوبی نیکوسیا میں کئی جامعات موجود ہیں جن میں مقامی اور بین الاقوامی طلبا زیر تعلیم ہیں۔ نیکوسیا میں موجود جامعات کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:

معیشتترميم

 
نیکوسیا مالیاتی علاقہ

نیکوسیا قبرص کا مالی اور کاروباری مرکز ہے۔ شہر تمام قبرصی بینکوں کے صدر دفاتر کی میزبانی کرتا ہے جن میں سابقہ سائپرس پاپولر بینک، بینک آف سائپرس اور ہیلینک بینک شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سینٹرل بینک آف سائپرس قبرصی دار الحکومت کے ایکروپولس علاقے میں واقع ہے۔

نیکوسیا میں کئی بین الاقوامی کاروباری اداروں نے اپنا قبرصی ہیڈکوارٹر قائم کر رکھا ہے جیسے کہ بڑے چار آڈٹ اداروں پرائس واٹر ہاؤس کوپرز، ڈیلویٹ، کے پی ایم جی اور ارنسٹ اینڈ ینگ۔ بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں مثلاً این سی آر کارپوریشن اور ٹی ایس وائی ایس کے علاقائی ہیڈکوارٹر نیکوسیا میں واقع ہیں۔ شہر مقامی مالیاتی اخباروں جیسے فاینینشل مرر اور اسٹاک واچ کے صدر دفاتر بھی نکوسیا میں ہی موجود ہیں۔ گو کہ نیکوسیا بین الاقوامی ہوائی اڈا فعال نہیں ہے تاہم سائپرس ائیرویز کا مرکزی دفتر میکاریوس ایونیو پر واقع ہے۔ ۔[80] اگست 2011 میں یو بی ایس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق نیکوسیا مشرقی بحیرہ روم فی کس آمدنی کے لحاظ سے امیر ترین اور 2011ء میں قوت خرید کے لحاظ سے دنیا کا دسواں امیر ترین شہر ہے۔ [81]

نقل و حملترميم

 
سولوموس چوک پر مرکزی بس اسٹیشن

نیکوسیا قبرص کا دار الحکومت اور جغرافیائی طور پر بھی جزیرے کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ ملک کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے شمالی حصے کی طرف نقل و حمل محدود ہے جبکہ جنوبی حصے میں نیکوسیا شارعی جال سے دیگر شہروں سے منسلک ہے۔ نیکوسیا شہر میں نیکوسیا بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی واقع جو کہ نیکوسیا کے 8.2 کلومیٹر (5.1 میل) مغرب میں لاکاتامیا نواحی علاقہ میں واقع ہے۔ یہ 1974ء سے قبل جزیرہ کا بنیادی ہوائی اڈا تھا تاہم یہ فی الوقت فعال نہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ بفر زون کے زیر انظام ہے۔

شارعیترميم

نیکوسیا قبرص کے دیگر بڑے شہروں سے جدید موڈ وے نیٹ ورک کے ذریعے منسلک ہے۔ اے 1 موٹروے جسے عام طور پر "نیکوسیا-لیماسول ہائی وے" بھی کہا جاتا ہے قبرص کی پہلی اور طویل ترین موٹروے ہے۔ اس کی لمبائی 73 کلومیٹر ہے۔ یہ دار الحکومت نیکوسیا کو لیماسول بندرگاہ شہر (دوسرا بڑا شہر) سے ملاتی ہے۔ لیماسول سے اے 1 موٹروے اے 6 موٹروے سے ملتی ہے اور پافوس تک جاتی ہے۔ اے 2 موٹروے نیکوسیا جنوب مشرقی شہر لارناکا سے ملاتی ہے۔ لارناکا سے اے 3 موٹروے قبرص کے جنوبی ساحل پر ایک تفریحی مقام آئیا ناپا تک جاتی ہے۔ اے 9 موٹروے نیکوسیا کو سلسلہ کوہ ٹروڈوس سے ملاتی ہے۔ اس کے علاوہ نیکوسیا قبرص کے دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں لارناکا بین الاقوامی ہوائی اڈا اور پافوس بین الاقوامی ہوائی اڈا سے بھی مربوط ہے۔

فضائیترميم

نیکوسیا قبرص کے دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں لارناکا بین الاقوامی ہوائی اڈا اور پافوس بین الاقوامی ہوائی اڈا موٹروے نیٹ ورک سے مربوط ہے۔

بس / ٹیکسیترميم

شہر کے اندر عوامی نقل و حمل کے لیے ایک نئی اور قابل اعتماد بس سروس کام کر رہی ہے۔ نکوسیا میں بس خدمات "او ایس ای ایل" کے زیر انتطام ہی۔ [82] شمالی حصے میں "لیتاش" کمپنی یہ خدمت فراہم کرتی ہے۔ [83] بہت سے ٹیکسی کمپنیاں نیکوسیا میں کام کر رہی ہیں۔ کرائے کے لیے قانون موجود ہیں اور ٹیکسی ڈرائیور "ٹیکسی میٹر" استعمال کرنے کے پابند ہیں۔

سائیکلترميم

2011ء میں بلدیہ نیکوسیا ایکشن اسکیم کے تحت سائیکل شیئرنگ سسٹم متعارف کرایا جو کہ نیکوسیا عظمی کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ اسکیم نیکوسیا کی بین-بلدیاتی کمپنی "ڈی ای پی ایل" کے زیر انتظام ہے۔ [84]

مجوزہ ٹرامترميم

2010 میں نیکوسیا مربوط موبلٹی پلان کے حصے کے طور پر ٹرام نیٹ ورک کے لئے ایک قبل-امکانیت رپورٹ پیش کی گئی جسے وزارت مواصلات و تعمیرات نے سپانسر کیا۔ اس مطالعے کے مطابق آلودگی کے لحاظ سے ٹرام وے کے ساتھ اور ٹرام وے کے بغیر دو نظریات پر غور کیا گیا۔ [85]

غیر فعالترميم

نیکوسیا بین الاقوامی ہوائی اڈا قبرص کے دار الحکومت نیکوسیا کے 8.2 کلومیٹر (5.1 میل) مغرب میں لاکاتامیا نواحی علاقہ میں واقع ہے۔ یہ 1974ء سے قبل جزیرہ کا بنیادی ہوائی اڈا تھا۔ ملک اور شہر کی تقسیم کے بعد ہوائی اڈَے کا علاقہ اقوام متحدہ بفر زون میں شامل ہے جس کی وجہ سے یہ ہوائی اڈا غیر فعال ہے۔

قبرص حکومتی ریلوے قبرص میں 2 فٹ 6 انچ (762 ملی میٹر) نیرو گیج ریلوے نظام تھا جو اکتوبر 1905ء سے دسمبر 1951ء تک فعال رہا۔ اس کی کل لمبائی 76 میل (122 کلومیٹر) اور اس پر 39 اسٹیشن تھے جن سے سے اہم فاماگوستا، پراستیو، تراخونی، نیکوسیا، کوکینوتریمیتھیا، مورفو، کالو خوریو اور ایوریخو تھے۔ قبرص حکومتی ریلوے مالی مشکلات کی وجہ سے بند کی گئی۔

کھیلترميم

فٹ بال قبرص کا مقبول ترین کھیل ہے۔ نیکوسیا جزیرے کے تین بڑی ٹیموں اپوِئل، اومونیا اور اولمپیاکوس کا گھر ہے۔ اپوِئل اور اومونیا قبرصی فٹ بال میں غالب ٹیمیں ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بکوسیا اور اس کے مضافات میں کئی فٹ بال کلب موجود ہیں۔ شمالی نیکوسیا میں جیتین کایا ترک، ینی جامعی آغدیلین، کوچک کیمکلی ترک اور گونیلی چار بڑے اسپورٹس کلب ہیں۔ نیکوسیا میں ارارت فٹ بال کلب بھی موجود ہے جو جزیرے کا واحد امریکی کلب ہے۔

نیکوسیا میں باسکٹ بال، ہینڈ بال اور دیگر کئی کھیلوں کے کلب بھی موجود ہیں۔ اپوِئل اور اومونیا کے باسکٹ بال اور والی بال کے سیکشن بھی ہیں جبکہ کاراونوس جزیرے کے اہم باسکٹ بال ٹیموں میں سے ایک ہے۔ جمناسٹک کلب پین سپرئین (جی ایس پی) کو جی ایس پی اسٹیڈیم کی ملکیت ہے جزیرے کے اہم ایتھلیٹکس کلبوں میں سے ایک ہے۔ فوٹسال فرسٹ ڈویژن کی تمام ٹیمیں نکوسیا سے ہی ہیں۔ ان کے علاوہ یورپی یونیورسٹی اور ایس پی اسٹراولو قبرص میں دو بہترین ہینڈ بال ٹیمیں ہیں جو کہ نیکوسیا ہے ہیں۔

نیکوسیا میں جزیرے کے کئی بڑے کھیلوں کے مقامات ہیں۔ جی ایس پی اسٹیڈیم میں 23،400 افراد کی گنجائش ہے جو کہ قبرص قومی فٹ بال ٹیم، اپوِئل، اومونیا اور اولمپیاکوس کا گھر ہے۔ میکاریو اسٹیڈیم میں 16,000 افرااد کی گنجائش ہے۔ شمالی حصے میں نیکوسیا اتاترک اسٹیڈیم میں 28,000 افرااد کی گنجائش ہے۔ [86]الفتھیریا انڈور ہال قبرص کا سب سے بڑا باسکٹ بال اسٹیڈیم ہے جس کی گنجائش 6,500 نشستوں کی ہے جو کہ قبرص قومی باسکٹ بال ٹیم، اپوِئل اور اومونیا کی باسکٹ بال ٹیموں کا گھر ہے۔ لیفکوتھیو انڈور ایرینا والی بال اسٹیڈیم ہے۔

2010ء اور 2012ء میں یہاں نیکوسیا میراتھن بھی منعقد ہوئی جس کا انتظام ایناتھوسیوس کتوریدیس فاؤنڈیشن نے کیا۔ اس میں 7،000 سے زائد شرکا نے حصہ لیا۔ [87][88]

نیکوسیا نے شاٹ گن کے مقابلے آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ فائنل 2000ء کی میزبانی بھی کی۔ اس کے علاوہ شہر نے دو باسکٹ بال کے مقابلوں کی میزبانی بھی کی جن میں یورپی سیپورٹا کپ 1997ء اور فیبا یورپ آل سٹار کھیل 2005ء شامل ہیں۔ یہ مقابلے الفتھیریا انڈور ہال میں منعقد ہائے۔ اس کے علاوہ یورپ کی چھوٹے ریاستوں کے کھیل 1989ء اور 2009ء بھی نیکوسیا میں ہی ہوئے۔

خاص مقاماتترميم

خط اخضر کے جنوب میںترميم

 
شاکولاس ٹاور سے شہر کا نظارہ

لیڈرا سٹریٹ دیواروں میں شہر کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ سڑک تاریخی طور مصروف ترین خریداری مرکز رہی ہے۔ اس میں سے تنگ گلیوں کو راستے، بوتیک، بار اور آرٹ کیفے موجود ہیں۔ موجودہ دور میں سڑک خود ایک تاریخی یادگار ہے۔ یہ تقریباً 1 کلومیٹر (0.6 میل) لمبی ہے اور قدیم شہر کے جنوبی اور شمالی حصوں کو ملاتی ہے۔ ایوکا جدوجہد کے دوران میں جو کہ 1955ء سے 1959ء تک چلا اسے "قتل میل" (The Murder Mile) کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کیونکہ اس دوران میں قوم پرست جنگجوؤں کی طرف سے برطانوی استعماری طاقتوں کے دفاتر اور افسران پر قاتلانہ حملے کیے گئے۔ [89][90]

1963ء میں آئین میں ترمیم کے اعلان کے بعد یونانی قبرصیوں اور ترک قبرصیوں کے درمیان میں تنازع کے بعد ترک قبرصی شہر کے شمالی حصے میں چلے گئے جو کہ جزیرے کے دیگر علاقوں کی طور ایک ترک محصور علاقہ بنا۔ لیڈرا سٹریٹ سمیت شہر کی کئی سڑکیں جو شہر کے شمالی اور جنوبی حصے کے درمیان میں واقع تھیں بند کر دیا گیا۔

1974ء میں قبرص پر ترک فوجی کے حملے کے دوران میں ترک افواج نے شمالی نیکوسیا (اور ساتھ ہی قبرص کے شمالی حصے پر قبضہ کیا) کر لیا۔ جزیرہ دو ملکوں میں تقسیم ہو گیا اور ایک جنگ بندی لائن مقرر کی گئی جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان میں اقوام متحدہ کا بفر زون بھی قائم کیا گیا۔ لیڈرا سٹریٹ 2008ء سے قبل اقوام متحدہ کا حائل علاقہ (بفر زون) اور عارضی مورچا بندی بھی قائم تھی۔ اپریل 2008ء یہ مورچا بندی ہٹا دی گئی اور لیڈرا سٹریٹ قبرص اور شمالی قبرص کے درمیان میں چھٹی گزرگاہ بن گئی۔

1974ء سے قبل فانیرومینی چوک شہر کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہاں کئی تاریخی عمارتیں اور یادگاریں موجود ہیں جن میں فانیرومینی گرجا گھر، فانیرومینی اسکول، فانیرومینی کتب خانہ اور سنگ مرمر عجائب گھر موجود ہیں۔ فانیرومینی گرجا گھر 1872ء میں لاکاوا قلعہ اور کانوینٹ کے کھنڈر پر تعمیر ہوا۔ صدر اسقف کا محل صدر اسقف کیپریانوس چوک پر واقع ہے۔ اگرچہ یہ بہت قدیم لگتا ہے تاہم اسے 1956ء میں خاص طور پر وینیسی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ چوک سے راستہ اوناساگورو اسٹریٹ کی طرف جاتا ہے جو کہ ایک اور مصروف خریداری سڑک اور تاریخی مرکز ہے۔

نکوسیا کی دیواریں خاص تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ شہر کی فصیل میں تین دروازے ہیں۔ دروازہ کیرینیہ جو کہ شہر کے شمال میں نقل و حمل خاص طور پر کیرینیہ کے لیے، دروازہ فاماگوستا جو کہ فاماگوستا، لارناکا، لیماسول اور کارپاسیا کی طرف نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا تھا، دروازہ پافوس خاص طور پر پافوس کی سمت میں نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ تینوں دروازے اچھی طرح سے محفوظ ہیں۔ [91]

تاریخی مرکز واضح طور پر دیواروں کے اندر موجود ہے تاہم جدید شہر میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ وقت میں الفتھیریا چوک شہر کا مرکزی چوک ہے جہاں سٹی ہال، ڈاک خانہ اور لائبریری موجود ہیں۔ چوک جس پر جدید تزئین و آرائش بھی کی گئی ہے قدیم شہر کو جدید شہر سے ملاتا ہے جہاں جدید خریداری مراکز موجود ہیں جن میں ستاسیکراتوس اسٹریٹ، تھیمیستوکلی دیروی ایونیو اور میکاریوس ایونیو قابل ذکر ہیں۔

نکوسیا کو اس کے عجائب گھروں کے لئے جانا جاتا ہے۔ صدر اسقف کے محل میں بازنطینی دور کا عجائب گھر بھی موجود ہیں جہاں جزیرے کے مذہبی نوادرات کا سب سے بڑا مجموعہ رکھا گیا ہے۔ لیوینتیس میونسپل میوزیم نیکوسیا کا واحد تاریخی عجائب گھر ہے یہ قدیم زمانے میں دار الحکومت میں زندگی کے پرانے طور طریقوں پر روشنی ڈالتا ہے۔

دیگر دلچسپ عجائب گھروں میں لوک فن عجائب گھر، قومی جدوجہد عجائب گھر (1950ء کی دہائی میں برطانوی انتظامیہ کے خلاف بغاوت)، قبرص اخلاقیات عجائب گھر، اور دستکاری کے مرکز شامل ہیں۔

خط اخضر کے شمال میںترميم

 
تاریخی سامان باہچہ محلہ

فصیل کے اندر شہر کا مرکز سرائے اونو چوک ہے۔ اسے "نیکوسیا کا دل" قرار دیا جاتا ہے اور یہ تاریخی طور پر ترک قبرصی برادری کا ثقافتی مرکز رہا ہے۔ [92] چوک کے وسط میں وینسی ستون موجود ہے مقامی لوگوں کے لیے یہ حکومت کی علامت ہے۔ [92] یہ ستون1550ء میں وینیسی قدیم شہر سلامیس سے یہاں لائے تھے۔ [93]گیرنے ایونیو دروازہ کیرینیہ کو سرائے اونو سے جوڑتا ہے جبکہ اونو چوک اس کے سامنے واقع ہے۔ ایونیو کو فصیل بند شہر کی علامت تصور کیا جاتا ہے جہاں بے شمار دکانیں اور ریستوران موجود ہیں۔ [94]

لیڈرا اسٹریٹ چیک پوائنٹ کے ساتھ ہی آراستہ علاقہ ہے۔ یہ علاقہ 2013ء میں صرف پیدل چلنے کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے یہاں کئی تاریخی خریداری گلیوں کا جال بچھا ہوا ہے جو کہ مشرقی خریداری روایات، روایتی اشیا اور خور و نوش کے روایتی طریقوں سے مزین ہے۔ [95]بیوک خان جو کہ جزیرے کی سب سے بڑی کاروان سرائے ہے جسے قبرص کی بہترین عمارتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے 1572ء میں عثمانیوں نے تعمیر کی، موجودہ دور میں یہ ایک ثقافتی مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ۔[96][97] گیرنے ایونیو کے مغرب میں سامان باہچہ محلہ ہے جسے انیسویں صدی میں حکومت نے تعمیر کروایا اسے جزیرے میں سماجی رہائشی کی پہلی مثال سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ یہ اب بھی ایک رہائشی علاقہ ہے لیکن اسے قبرصی ثقافت کی بہترین نمائندگی سمجھا جاتا ہے۔ [98] فصیل بند شہر کا ایک اور مرکزی نقطہ سلیمیہ مسجد ہے جس کا سابقہ نام سینٹ سوفیا کیتھیڈرل تھا۔ یہ مسجد شمالی قبرص میں اہم مذہبی مرکز ہے۔ [99] مسجد کے ساَتھ ہی چھت دار بازار ہے۔ عثماني دور میں بازار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا مگر موجودہ دور میں اسے ایک ثقافتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں مختلف ثقافتی سرگرمیاں جیسے کنسرٹ اور تہوار منعقد ہوتے ہیں۔ [100][101] فصیل بند شہر کے باہر کے نیکوسیا کے محلے زیادہ کشادہ ہیں جہاں وسیع سڑکوں اور جنکشن موجود ہیں۔ یہ علاقوں میں کثیر منزلہ کنکریٹ عمارات ان کی خاص خصوصیات ہیں۔ شہر کے مضافات میں صاحبِ ثروت اور اعلیٰ طبقات سے تعلق رکھتے والوں لوگوں کے بڑے گھر موجود ہیں۔ [102]دیریبویو ایونیو رسمی طور پر محمد عاکف ایونیو شمالی نیکوسیا میں مصروف ترین ایونیو [103] اور تفریحی مرکز ہے۔ دیریبویو سے مراد دریا کے پاس کی جگہ ہے۔ حالانکہ روایتی طور پر اس سے مراد محمد عاکف ایونیو ہی سے جو پیدیوس ندی سے متصل ہے، تاہم اس کو وسعت دی گئی ہے اور اس میں وہ علاقے کو بھی شامل کیا گیا ہے جو پڑوس کے عثمان پاشا ایونیو پر محیط ہے۔

بین الاقوامی تعلقاتترميم

نیکوسیا میں واقع سفارت خانے یا قونصل خانےترميم

قبرص بین الاقوامی تسلیم شدہ ملک اور یورپی یونین کا رکن ہے۔ تاہم چند ممالک اس کو قبرصی تنازع کی وجہ سے تسلیم نہیں کرتے۔ نیکوسیا میں مندرجہ ذیل ممالک کے سفارت خانے یا قونصل خانے موجود ہیں۔ [104]

  • آسٹریلیا - ہائی کمیشن
  • آسٹریا - سفارت خانہ
  • بیلاروس - قونصل خانہ
  • بیلیز - قونصل خانہ
  • برازیل - سفارت خانہ
  • بلغاریہ - سفارت خانہ
  • برونڈی - قونصل خانہ
  • کیمرون - قونصل خانہ
  • کینیڈا - قونصل خانہ
  • چلی - قونصل خانہ
  • چین - سفارت خانہ
  • کرویئشا - قونصل خانہ
  • کیوبا - سفارت خانہ
  • چیک جمہوریہ - سفارت خانہ
  • ڈنمارک - عمومی قونصل خانہ
  • ڈومینیکا - قونصل خانہ
  • جمہوریہ ڈومینیکن - قونصل خانہ
  • مصر - سفارت خانہ
  • استونیا - عمومی قونصل خانہ
  • فن لینڈ - سفارت خانہ
  • فرانس - سفارت خانہ
  • گیبون - قونصل خانہ
  • جارجیا - سفارت خانہ
  • جرمنی - سفارت خانہ
  • یونان - سفارت خانہ
  • گواتیمالا - قونصل خانہ
  • گیانا - قونصل خانہ
  • مقدس کرسی - پاپائے اعظم کی سفارت
  • مجارستان - عمومی قونصل خانہ
  • آئس لینڈ - عمومی قونصل خانہ
  • بھارت - ہائی کمیشن
  • انڈونیشیا - قونصل خانہ
  • ایران - سفارت خانہ
  • آئرلینڈ - سفارت خانہ
  • اسرائیل - سفارت خانہ
  • اطالیہ - سفارت خانہ
  • جمیکا - قونصل خانہ
  • جاپان - سفارت خانہ
  • اردن - سفارت خانہ
  • کینیا - قونصل خانہ
  • کوریا (جمہوریہ) - عمومی قونصل خانہ
  • کویت - سفارت خانہ
  • کرغیزستان - قونصل خانہ
  • لبنان - سفارت خانہ
  • لیبیا - سفارت خانہ
  • لتھووینیا - عمومی قونصل خانہ
  • لکسمبرگ - قونصل خانہ
  • ملائیشیا - قونصل خانہ
  • مالی - قونصل خانہ
  • میکسیکو - قونصل خانہ
  • موناکو - قونصل خانہ
  • منگولیا - قونصل خانہ
  • مونٹینیگرو - قونصل خانہ
  • مراکش - نائب قونصل خانہ
  • نمیبیا - عمومی قونصل خانہ
  • نیپال - قونصل خانہ
  • نیدرلینڈز - سفارت خانہ
  • نیوزی لینڈ - قونصل خانہ
  • نکاراگوا - قونصل خانہ
  • ناروے - عمومی قونصل خانہ
  • سلطنت عمان - سفارت خانہ
  • فلسطین - سفارت خانہ
  • پاناما - عمومی قونصل خانہ
  • پاپوا نیو گنی - قونصل خانہ
  • پیراگوئے - قونصل خانہ
  • پیرو - قونصل خانہ
  • فلپائن - قونصل خانہ
  • پولینڈ - سفارت خانہ
  • پرتگال - سفارت خانہ
  • قطر - سفارت خانہ
  • رومانیہ - سفارت خانہ
  • روس - سفارت خانہ
  • روانڈا - قونصل خانہ
  • سربیا - سفارت خانہ
  • سربیا - قونصل خانہ
  • سیچیلیس - عمومی قونصل خانہ
  • سلوواکیہ - سفارت خانہ
  • سلووینیا - عمومی قونصل خانہ
  • ہسپانیہ - سفارت خانہ
  • سویڈن - سفارت خانہ
  • سوئٹزرلینڈ - سفارت خانہ
  • سوریہ - سفارت خانہ
  • تھائی لینڈ - قونصل خانہ
  • یوکرین - سفارت خانہ
  • متحدہ عرب امارات - سفارت خانہ
  • مملکت متحدہ - ہائی کمیشن
  • ریاستہائے متحدہ - سفارت خانہ
  • یوراگوئے - قونصل خانہ
  • ازبکستان - قونصل خانہ

دیگر ممالک میں واقع سفارت خانےترميم

کئی ممالک کسی دوسرے ملک میں واقع اپنے سفارت خانے سے قبرص کے معاملات بھی دیکھتے ہیں۔ ایسے ممالک اکثر یونان کے دار الحکومت ایتھنز کا سفارت خانہ استعامل کرتے ہیں۔ ان ممالک کی فہرست درج ذیل ہے۔

جہاں شہر درج نہیں وہ سب ایتھنز کا سفارت خانہ استعمال کر رہے ہیں۔

جڑواں شہرترميم

جڑواں شہر:[105]

نگارخانہترميم

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "Population – Place of Residence, 2011"۔ Statistical Service of Cyprus (CYSTAT)۔ 17 اپریل 2014۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "KKTC 2011 Nüfus ve Konut Sayımı" (ترکی زبان میں)۔ TRNC State Planning Organization۔ 6 اگست 2013۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت)
  3. Ronald van Kempen؛ Marcel Vermeulen؛ Ad Baan۔ Urban Issues and Urban Policies in the New EU Countries۔ Ashgate۔ صفحہ 207۔ آئی ایس بی این 978-0-7546-4511-5۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "World's richest cities by purchasing power"۔ UBS۔ 2018۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2018۔
  5. https://www.theguardian.com/world/2017/jan/15/in-nicosia-cyprus-spirit-of-reconciliation-is-stirring
  6. "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولائی 2012۔
  7. World and its Peoples: Greece and the Eastern Balkans. Marshall Cavendish, 2010.
  8. Hakeri, Bener Hakkı (1992)۔ "Lefkoşa"۔ Kıbrıs Türk Ansiklopedisi. II. Kıbrıs۔ p. 240.
  9. Excerpta Cypria۔ CUP Archive۔ صفحہ 119۔ GGKEY:KQE4WQ2GWSC۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. A. E. Jacovides۔ Cyprus Directory۔ A.E. Jacovides Tourist & Commercial Publications۔ صفحہ 191۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  12. "Saint Tryphillius"۔ Saintsoftheday108.blogspot.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  13. "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  14. "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  15. ^ ا ب "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  16. "Nicosia"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2013۔
  17. "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  18. ^ ا ب پ ت A description of the historic monuments of Cyprus. Studies in the archaeology and architecture of the island, by George Jeffery, Architect, 1918
  19. "Nicosia"۔ Conflictincities.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  20. "PRIO"۔ Prio-cyprus-displacement.net۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-03-29۔
  21. "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  22. "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  23. See map drawn in 1952 published in "Romantic Cyprus"، by Kevork Keshishian, 1958 edition
  24. Municipality web site, section on Municipal Building retrieved اگست 2013
  25. Municipality web site, section on Municipal Building retrieved اگست 2013
  26. Order No. 397 published in Cyprus Gazette No. 1597, 4 اگست 1923
  27. Cyprus Gazette No. 2676. 23 ستمبر 1938, Supplement No.3:The Municipal Corporations Laws, 1930 to 1938 — Limits of the Municipal Corporation of Nicosia
  28. Nicosia Capital of Cyprus by Kevork Keshishian, pub 1978
  29. "EOKA (Ethniki Organosis Kyprion Agoniston)"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2008۔
  30. "War and Politics – Cyprus"۔ مورخہ 16 دسمبر 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2008۔
  31. Eric Solsten۔ "The Republic of Cyprus"۔ US Library of Congress۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جون 2012۔
  32. "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 7 مارچ 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  33. Eric Solsten۔ "Intercommunal Violence"۔ US Library of Congress۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جون 2012۔
  34. "CYPRUS: Big Troubles over a Small Island". ٹائم (رسالہ). 29 جولائی 1974. http://www.time.com/time/magazine/article/0,9171,911440,00.html. 
  35. "Nicosia Municipality"۔ Nicosia.org.cy۔ مورخہ 17 اپریل 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  36. The Cyprus Conspiracy: America, Espionage and the Turkish Invasion. By Brendan O'Malley, Ian Craig۔ Books.google.com۔ 25 اگست 2001۔ آئی ایس بی این 978-1-86064-737-6۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  37. Malcolm Nathan Shaw, International Law، Cambridge University Press, 2003, ISBN 978-0-521-82473-6، p. 212.
  38. "Emotion as Cyprus border opens"۔ BBC News۔ 23 اپریل 2003۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولائی 2012۔
  39. "Report of the Secretary-General on the United Nations Operation in Cyprus"۔ Docs.google.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولائی 2012۔
  40. "Symbolic Cyprus crossing reopens"۔ BBC News۔ 3 اپریل 2008۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولائی 2012۔
  41. "Cyprus to have two time zones, north to follow Turkey in refusing to turn clocks back"۔ Cyprus Mail۔ 8 ستمبر 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2016۔
  42. "Clocks going back tonight"۔ Cyprus Mail۔ 29 اکتوبر 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2016۔
  43. Map
  44. "Ogimet daily weather summary"۔
  45. "Meteorological Service – Climatological and Meteorological Reports"۔ اگست 2011۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  46. TRNC Census 2006 (TRNC State Planning Organization) Retrieved 2011-05-02.
  47. Lefkoşa Kaymakamlığı'na Kemal Deniz Dana atandı (Kıbrıs Postası) Retrieved 2012-03-25.
  48. Official web site of the Nicosia Water Board (extract 20/5/13)
  49. Official web site of the Nicosia Sewerage Board (extract 20/5/13)
  50. Official web site of Organisation for Communications of Nicosia District
  51. The Constitution – Appendix D: Part 12 – Miscellaneous Provisions
  52. Census of Cyprus (available from Statistical Service* Nicosia)۔ Document: Population – Place of Residence* 2011* Table C. Municipality/Community* Quarter and Street Index published by Ministry of Information (CILIS_streets_022011)
  53. Official Gazette of the Republic No. 4341 and dated 25. جنوری 2010
  54. Official web site of Strovolos municipality, history section (English version)
  55. The authority has the population, economic viability and consent of the (original) inhabitants prescribed in the Municipalities Law (see Law 11/1985)، without having been formally recognised as a municipality under that law. See also www.prio-cyprus-displacement.net/default_print.asp?id=300 retrieved اگست 2013
  56. Gonyeli Municipal web site اگست 2013
  57. "PRIO"۔ Prio-cyprus-displacement.net۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-03-29۔
  58. "Archived copy"۔ مورخہ 3 اگست 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2012۔ (retrieved اگست 2013)
  59. retrieved اگست 2013 نسخہ محفوظہ 18 مئی 2014 در وے بیک مشین
  60. "PRIO"۔ Prio-cyprus-displacement.net۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-03-29۔
  61. Pew Research Center's Religion & Public Life Project: Cyprus۔ پیو ریسرچ سینٹر۔ 2010.
  62. World Pens Hall، Cyprus Tourism Organisation
  63. "Dervish Pasha Mansion"۔ TRNC Department of Antiquities۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 جنوری 2015۔
  64. Haşmet Muzaffer Gürkan۔ Dünkü ve Bugünkü Lefkoşa (Turkish زبان میں) (اشاعت 3rd۔)۔ Galeri Kültür۔ صفحات 132–6۔ آئی ایس بی این 9963660037۔
  65. Tuncer Bağışkan (2005)۔ Kıbrıs'ta Osmanlı Türk Eserleri۔ Turkish Cypriot Association of Museum Lovers۔ صفحات 20–25۔
  66. "Mevlevi Tekke Müzesi" (Turkish زبان میں)۔ نیکوسیا ترکی بلدیہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 مئی 2016۔
  67. http://www.kathimerini.gr/759177/article/politismos/eikastika/pinako8hkh-leventh-sth-leykwsia
  68. The Cyprus National Theatre at nicosia.org.cy Accessed 2 فروری 2017
  69. Pallas Cinema-Theatre at nicosia.org.cy Accessed 2 فروری 2017
  70. Theatro Ena at nicosia.org.cy Accessed 2 فروری 2017
  71. Maskarini Theatre ay maskarini.com نسخہ محفوظہ 16 ستمبر 2017 در وے بیک مشین Accessed 2 فروری 2017
  72. Maskarini Theatre at nicosia.org.cy Accessed 2 فروری 2017
  73. Dionysos Theatre at theatrodionysos.org Accessed 2 فروری 2017
  74. Dionysos Theatre at nicosia.org.cy Accessed 2 فروری 2017
  75. Melina Mercouri Hall at nicosia.org.cy Accessed 2 فروری 2017
  76. "Atatürk Kültür ve Kongre Merkezi"۔ Near East University۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اکتوبر 2017۔
  77. "Cyprus to host Miss Universe in millennium"۔ Agence France Press۔ 1 جولائی 1999۔
  78. "Cyprus to host Miss Universe in millennium"۔ Agence France Press۔ 1 جولائی 1999۔
  79. "Nicosia-Cyprus presents candidacy for European Cultural Capital"۔ Citiesintransition.posterous.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  80. Addresses سائپرس ائیرویز
  81. "The most expensive and richest cities in the world – A report by UBS"۔ Citymayors.com۔ 18 اگست 2011۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  82. "Οργανισμός Συγκοινωνιών Επαρχίας Λευκωσίας"۔ Osel.com.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولائی 2012۔
  83. "Kurban bayramı yarın başlıyor"۔ Star Kıbrıs۔ 19 دسمبر 2007۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2012۔
  84. "Ποδηλατο Εν Δρασει / Home"۔ Podilatoendrasi.com.cy۔ مورخہ 26 دسمبر 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولائی 2012۔
  85. (یونانی زبان میں) THE NICOSIA INTEGRATED MOBILITY MASTER PLAN REPUBLIC OF CYPRUS – Ministry of Communications and Works
  86. [1]
  87. Nicosia Marathon
  88. SPORTS: Voyiatzis wins Nicosia marathon, Financial Mirror 10 دسمبر، 2012
  89. "The First Move"۔ Time Magazine۔ 27 اگست 1956۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2008۔
  90. "War and Politics-Cyprus"۔ Britains-smallwars.com۔ مورخہ 16 دسمبر 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2012۔
  91. Keshishian, Kevork K. (1978)۔ Nicosia: Capital of Cyprus Then and Now، p. 78-83, The Mouflon Book and Art Centre.
  92. ^ ا ب "İki paradan bir milyona.۔۔ Saraçoğlu'ndan Ecevit'e.۔" kibris.net۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جنوری 2015۔
  93. "Venedik Sütunu"۔ Nicosia Turkish Municipality۔ مورخہ 3 جنوری 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جنوری 2015۔
  94. "Girne Caddesi'nin dokusu değişecek"۔ Kıbrıs Postası۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جنوری 2015۔
  95. "Arasta"۔ LTB۔ مورخہ 4 جنوری 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2015۔
  96. "Arasta boş، Büyük Han kaynıyor!"۔ Kıbrıs Postası۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2015۔
  97. "Büyük Han"۔ LTB۔ مورخہ 4 جنوری 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2015۔
  98. "Samanbahçe Evleri"۔ Nicosia Turkish Municipality۔ مورخہ 4 جنوری 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2015۔
  99. "Selimiye Cami"۔ LTB۔ مورخہ 4 جنوری 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2015۔
  100. "Trio Arion oda müziği konserler dizisi yarın başlıyor"۔ Kıbrıs Postası۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2015۔
  101. William Dreghorn۔ "The Antiquities of Turkish Nicosia"۔ stwing.upenn.edu۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2015۔
  102. "Urbanization in Cyprus"۔ Eastern Geography Review۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جنوری 2015۔
  103. "Yeni uygulama 23 Şubat'ta devrede" (Turkish زبان میں)۔ Haber Kıbrıs۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2015۔
  104. https://www.embassypages.com/city/nicosia
  105. "Twinnings"۔ Nicosia Municipality۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2015۔

بیرونی روابطترميم